maria naqvi press for peace

اک بار تو ایسا ہو ، ماریہ نقوی

ابھرتی ہوئی شاعرہ ماریہ نقوی کا تازہ کلام

ماریہ نقوی


اک بار تو ایسا ہو
اس وقت کے صحرا میں
سانسوں کے بہاؤ میں
اس زیست کے دریا میں
اک یاد کی ناؤ میں
کچھ دور کناروں سے
مضبوط سہاروں سے
تم ڈوبنے لگ جاؤ
ماضی کی کتابوں میں
کچھ ڈھونڈنے لگ جاؤ
اک بار ضروری ہے
میں یاد تمہیں آؤں
تم صرف مجھے سوچو
اسوقت مجھے چاہو
جب میں نہ میسر ہوں
اسوقت اذیت کو
نا ہونے کی حسرت کو
تم خود بھی سمجھ جاؤ

bijli kay mansobay aur mahol per asrat Previous post بجلی کے منصوبوں کے ماحول پر اثرات ، تحریر: ظفر وانی
qila tharochi gul pur azad kashmir Next post قلعہ تھروچی، گل پور آزاد کشمیر ، مرزا فرقان حنیف