maria naqvi press for peace

ابھرتی ہوئی شاعرہ ماریہ نقوی کا تازہ کلام

ماریہ نقوی


اک بار تو ایسا ہو
اس وقت کے صحرا میں
سانسوں کے بہاؤ میں
اس زیست کے دریا میں
اک یاد کی ناؤ میں
کچھ دور کناروں سے
مضبوط سہاروں سے
تم ڈوبنے لگ جاؤ
ماضی کی کتابوں میں
کچھ ڈھونڈنے لگ جاؤ
اک بار ضروری ہے
میں یاد تمہیں آؤں
تم صرف مجھے سوچو
اسوقت مجھے چاہو
جب میں نہ میسر ہوں
اسوقت اذیت کو
نا ہونے کی حسرت کو
تم خود بھی سمجھ جاؤ