تحریر :اسامہ شرافت
دور جدید کے مسلمانوں کا المیہ ہے کہ شیطان ان کے ایمان سے زیادہ قوی ہوچکا ہے۔ صبر، برداشت نامی شے سے آج کا مسلمان نابلد ہوتا جارہا ہے۔ ماہ ذوالحج رواں ہے۔ یہ مہینہ ابن آدم کو قربانی کے ساتھ ساتھ اس انسان کی یاد دلاتا ہے جس نے رب کی رضا کی خاطر ہر مصیبت کو بخوشی گلے لگایا۔یہ انسان اس گھر میں پیدا ہوئے جہاں رب سے جنگ ہوتی تھی اس شخص کے والد بت تراش تھے۔باپ کہتا تھا بت خدا ہیں بیٹا کہتا بت مٹی سے زیادہ کچھ نہیں باپ نے ظلم کیئے بیٹے نے صبر کیا قوم نے آگ میں ڈالا رب کی آزمائش سمجھ کر اس آگ کی آغوش میں چل دیئے نہ اپنے رب سے اور نہ ہی کسی انسان سے شکوہ کیا کہ میرے ہی ساتھ اتنے ظلم کیوں؟ شادی ہوئی بے اولاد رہے۔اپنی محرومی کا رونا نہ رویا۔بڑھاپا چھایا اور رب نے ایک فرزند عطا کیا۔ حکم ملا کہ بیوی بچے کو ویرانے میں چھوڑ آؤ خاموشی سے اکلوتے بیٹے اور عزیز بیوی کو بیاباں میں چھوڑ آئے کوئی شکائت نہ کی کہ بچپن، جوانی مصائب میں گزار دی بڑھاپے کا سہارا بیوی اور بچہ بھی چھین لیا رب کی اس آزمائش پر پورا اترے اکلوتا بیٹا ایام جوانی کو چھونے لگا تو حکم ملا اس کو ذبحہ کردو محبوب کا کہا مان کر لخت جگر کی گردن پر چھری چلا دی رب نے بیٹا بچا لیا دنبہ ذبح کروا دیا۔ یہ انسان حضرت ابراہیم علیہم السلام ہیں، بیوی حضرت حاجرہ ہیں اور بیٹے اسماعیل علیہ السلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسان کو آزمائش میں ڈال کر آزماتا ہے کسی کو آسائش و طاقت دے کر آزماتے ہیں تو کسی کو سنت ابراہیمی پر چلاتے ہیں۔ مقصد اپنے بندے کا قرب دیکھنا اور اس کا تزکیہ کرنا ہوتا ہے۔ رب نے ہر مشکل اور آزمائش کے بعد آسانی رکھی ہے۔ جو بندے رب کی آزمائش پر پورا اتر جاتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی لطف و کرم ہوتا ہے اور انعامات کی بارش الگ۔!حضرت ابراہیم علیہم السلام کی انسانی سوچ کی وسعتوں سے بڑھ کر مشقتوں کا بدلہ رب نے کچھ یوں دیا کہ بیوی کو جس ویرانے میں چھوڑا آج اس ویرانے میں دوڑے بغیر عبادت قبول نہیں ہوتی۔ بیاباں میں بنے چشمے کے پانی کو رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیئے متبرک قرار دے دیا۔  اس ویرانے کو آج دنیا کا سب بڑا پر رش و رونق مقام بنا دیا۔ بیٹے کی قربانی کے صلہ میں قیامت تک مسلمانوں کو اس انسان کی یاد منانے کا حکم دیا جس نے اپنی سب سے قیمتی و دلعزیز چیز پر رب کو ترجیع دی۔ ذولحج کا مہینہ آج کے انسان کو آزمائش پر مسکرا کر  صبر کے ساتھ پورا اترنا سکھاتا ہے۔!

Leave your comment !