تحریر ش م احمد
آٹھ  مارچ ۲۰۲۱ کی خوشگوار صبح ۔۔۔یوٹیوب پر اُردونیوز چنل کی تین شہ سر خیاں۔۔۔ تین جھٹکے، مایوسی کے سندیسے، دل شکنی کے پیغامات
کسان آندولن کے سو دن مکمل ہونے پر بھارتی کسانوں کا یوم سیاہ۔-
 سوئز رلینڈمیں حجاب پر پابندی۔-
 پنڈت کی دھمکی پر ریلوے اسٹیشن کا اُردو میں لکھا نام ہٹا ۔-
           کسان ایجی ٹیشن کے سو دن پورے ہونے کے باوصف ان کا مسئلہ لٹکا رہے، یہ جمہوریت کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ تھا ۔ کسان دھرنے کے سو دن طویل تکالیف ، مشکلات اورالمیوں کو یاد کرکے اوروں کی طرح میں بھی تڑپ کے رہا۔ حق یہ ہے کہ کسان ایجی ٹیشن جان بلب جمہوریت کا مرثیہ سنا رہا ہے ۔
دوسری خبر نے دل شکنی کی کھچڑی پر مایوسی کا مزید تڑکہ لگادیا کہ
 سوئز رلینڈ میں مسلم خواتین کے لئےعوامی مقامات پر حجاب پہننا ممنوعہ قرار پایا ۔
 تیسری خبر یہ تھی کہ مدھیہ پردیش میں کسی ہندو سنگھٹن’’ آہوان اکھاڑے‘‘ کے پجاری پنڈت مہا منڈھا اچاریہ کی دھمکی پر مغربی ریلوے کو نئے ریلوے چنتا من گنیش اسٹیشن کا اردو میں لکھا نام ہٹانا پڑا۔ پنڈت جی نے ریلوے کو پھٹکار سنائی تھی کہ ہندو دیوی دیوتاؤں کے آدر میں انہیںاُرود میں لکھے گئے نام کو فوراً مٹانا ہوگا، ورنہ ان کی خیر نہیں ۔
  تیسری خبرمیں کم ازکم میرے لئے کوئی کوئی نئی چیز نہیں، کیونکہ اب ہمیں ایسی دلخراش چیزوں کی عادت سی پڑگئی ہے ۔ ہر دوسرے تیسرے روز مسلمانوں کی دل آزاریوں، اُن پر قاتلانہ حملوں، ان کے املاک کی آتش زنیوں، اُن کی مساجدکی اہا نتوں ،اُن کی مار پٹائیوں ، اُن کے خلاف زہر افشانیوں کاکوئی نہ کوئی تماشہ ، کوئی نہ کوئی تنازعہ ، کوئی نہ کوئی بیان ، کوئی نہ کوئی قانون تعصب ، تنگ نظری ، تنفر اور تخریب کے پٹاروں سے نکلتا ہی رہتا ہے ۔ مسلمانوں کی داڑھی ، ٹوپی ، حجاب ، اذان، نماز، تہذیب اور تمدن ہر چیز کا تمسخر اُڑایا جاتا ہے ، اُن کی تاریخی شخصیات کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اُن کے شہروں اور شاہراہوں کے نام بدل دئے جاتے ہیں ۔ حدیہ کہ بارہویں صدی عیسوی سے ہندوستان میں بولی اور لکھی جانے والی اُردو بھی اسی فرقہ پرستانہ عداوت کے بھینٹ چڑھائی جارہی ہے۔ اُردو کو مسلمانوں کی زبان کہہ کرا س کی حوصلہ شکنی بلکہ بیخ کنی کے لئے نت نئی معاندانہ حکمت عملیاں روز وضع کی جارہی ہیں ۔
 تیسری خبر نے یادوں کو جنبش دے کر میری آنکھوں کے سامنے چند سال قبل کا وہ رُوح پرور منظر رقصاں کر دیا جب حج بیت اللہ کے دوران اَحقر مزدلفہ سے رمی جمرات کے لئے منیٰ کی طرف رواں دواں تھا۔  میری نگاہ اس دوران اُن بڑے بڑے سرکاری کتبوں پر بھی مرکوزہوئیںجن پر ہندی بھاشا میں بھارتی حجاج کے لئے ضروری ہدایات درج تھیں۔ اندازہ کیجئے ارضِ مقدس ، اس کی عظمتیں ، اس کی شان کے گواہ ملائکہ ، مسلمان کا ا س کی دھول تک پر قربان ہو نے کا بے محابہ جذبہ ۔ کیا مجال کہ رنگ ، نسل ، زبان، قومیت، سکونت کے اختلاف کی بناپر یہاں کوئی بھید بھاؤ ہو ۔ ہندی ، ایرانی ، تورانی وغیرہم زبانوں کو کوئی میلی آ نکھ سے یا نگاہ ِ حقارت سے دیکھنے کا خواب وخیال میں بھی سوچے ! 

تنوع :کائنات کا حسن
مسلم اُمہ ازرُوئے قرآن وسنت بے تعصبی ،رواداری اور آزاد خیالی کا معتقد و پیام برنہ ہوتی تو کیا پاک سرزمین کے چپے چپے پر عربی کے شانہ بشانہ ہندی ، انگریزی ، اُردو کتبے جگہ جگہ نمایاں دیکھے جاتے ؟ اسلام ہمیں مذہبیت ، قومیت اور لسانیت کی تنگنائیوں میں مقید کرتا ہے نہ کنوئیں کا مینڈک بناتا ہے ، یہ اُخوت و محبت میں ہمیں غرق کر کے  آفاقی برادری کی ڈور میں با ندھتا ہے ۔ جس طرح اس چیز کے انتخاب میں کسی انسان کی اپنی کوئی مرضی نہیں کہ وہ کس ذات ، کس قبیلے، کس رنگ ، کس نسل میں جنم پائے ، کس ماحول میں پروان چڑھے ،اُسی طرح یہ بھی ہر فرد بشر کے حد ِ اختیار سے باہر ہے کہ وہ کون سی زبان بولے ،اس کے چمڑی کی کیا رنگت ہو۔ یہ سب ا نسانی خواہشات  واختیارات یا پسندو پاپسند سے بالاتر ہوتی ہیں۔
  انسانی دنیا میں زبانوں کا اختلاف پایاجاتاہے ۔ اللہ اس اختلاف یا رنگا رنگی کو اپنی نشانی بتاتاہے، جب کہ زبان کا مدعاسوائے وسیلۂ اظہار کچھ اور نہیں ۔ سورۂ روم میں زبانوں کے اختلاف وتنوع کو گناہ اور ثواب کے سرشتے میں داخل نہیں کیا گیا بلکہ اللہ اس اختلاف کو اپنی طرف منسوب کر کے اپنی آیت ( نشانی ) بتلاتا ہے :
اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے، دانش مندوں کے لئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں۔( سورہ الروم۔آیت نمبر ۲۲)     
 محولہ بالا آیت کی تشریح میں ایک مفسر لکھتا ہے :
 ’’دنیا میں اتنی زبانوں کا پیدا کر دینا بھی اللہ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ عربی ہے،تُرکی ہے،انگریزی ہے، اُردو ، ہندی ہے، پشتو، فارسی، سندھی، بلوچی وغیرہ ہے۔ پھر ایک ایک زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب ہیں۔ ایک انسان ہزاروں اور لاکھوں کے مجمع میں اپنی زبان اور اپنے لہجے سے پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ شخص فلاں ملک اور فلاں علاقہ کا ہے۔ صرف زبان ہی اس کا مکمل تعارف کرا دیتی ہے۔ اسی طرح ایک ہی ماں باپ (آدم وحواعليہما السلام) سے ہونے کے باوجود رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی کالا ہے، کوئی گورا، کوئی نیلگوں ہے تو کوئی گندمی رنگ کا۔ پھر کالے اور سفید رنگ میں بھی اتنے درجات رکھ دئے ہیں کہ بیشتر انسانی آبادی دو رنگوں میں تقسیم ہونے کے باوجود ان کی بیسیوں قسمیں ہیں اور ایک دوسرے سےیکسر الگ اور ممتاز۔ پھر ان کے چہروں کے خدوخال، جسمانی ساخت اور قدوقامت میں ایسا فرق رکھ دیاگیا ہے کہ ایک ایک ملک کا انسان الگ سے پہچان لیا جاتا ہے، یعنی باوجود اس بات کہ ایک انسان دوسرے انسان سے نہیں ملتا، حتیٰ کہ ایک بھائی دوسرے بھائی سے مختلف ہے لیکن اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ پھر بھی کسی ایک ہی ملک کے باشندے، دوسرے ملک کے باشندوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔‘‘

محمد بن احمد ابوریحان حوارزمی البیرونی

    یہاں ذرا ہم محمد بن احمد ابوریحان حوارزمی البیرونی(۹۷۳ تا۱۰۴۸عیسوی) کے بارے میں کچھ گفتگو کریں ۔ البیرونی سنسکرت میں اگر کامل دستگاہ رکھتا تھا، اپنی اس منفرد خصوصیت کی وجہ سے کیااُس کی مسلمانیت میںکوئی فرق واقع ہوا؟ قطعی نہیں۔ اُسے ہندوستان کی مذہبی زبان ، ہندوازم کی معلومات اور گیتا کا عربی مترجم ہونے سے کسی نے دایرہ ٔ اسلام سے خارج کیا؟ اُچھوت جانا؟ بھرشٹ کہا؟ اس اختصاص کے باوجودالبیرونی کو اعلیٰ پایہ عالم ، سائنس دان، کئی علمی شاہکاروں کا مصنف ، ہیئت،ارضیات اور لسانیات کا ماہر ، دانش ور، تقابلی مطالعے کا شوقین، عمرانیات پر گہری نظر رکھنے والا اسکالرتسلیم کیا جاتا رہا ہے ۔
۱۰۱۹
 میں البیرونی کو اپنی علمی تشنگی بجھانے غزنہ کے شاہی دربار اور محلاتی کروفر کوچھوڑ چھاڑ کر ہندوستان چلاآیا ۔ مقصد یہ تھا کہ ہندو مت کا عمیق مطالعہ اور ہندوؤں کا باریک بین مشاہدہ
کر کےہندوستان کوسمجھا جائے ۔ وہ دور آج کی طرح انٹرنیٹ اور طیاروں جیسی برق رفتار سہولیات کا عہد نہ تھا، لہٰذا ایسے کام کا بیڑہ اُٹھانا کوئی بچوں کا کھیل نہ تھا ، اس راہ کی جادہ پیمائی میں بے شمار قربانیاں درکار تھیں۔ تصور میں لایئے البیرونی کا گھر بار چھوڑنا ، عیش وآرام تج دینا ، دیار ِ غیر کے اجنبی ماحول میں اپنے اخلاق کریمانہ کے بل پرا غیار کو دوست بنانا ، سنسکرت اور ہندد مت جاننے کے لئے بے انتہاپاپڑ بیلنا، کتنا کٹھن فیصلہ تھا ہندوستان آکر ان حوالوں سے علمی پیاس بجھانا مگر البیرونی نے جان جوکھم میں ڈال کر یہ کام پوری دیانت وامانت سےکردکھایا ۔ وہ جانتا تھا کہ سنسکرت زبان ہندوؤں کے دین دھرم جاننے کی پہلی سیڑھی تھی۔ سچ پوچھئے توڈاکٹر ذاکر نائک سے صدیوں پہلے وہ یہ حقیقت گرہ میں باندھ چکا تھا کہ ہند وؤں کی مذہبی کتب اور معاشرت کا مطالعہ کر نا صرف سنسکرت جاننے سے مشروط ہے ۔ دانش جوئی کے اعلیٰ وارفع مقاصد کو ذہن میں بسائے البیرونی اپنی خداداد ذہانت کی سواری پر جذبۂ ایثار کی زادِ راہ لئے اجمیر میں ڈیرا ڈال گیا کیونکہ اُن دنوںاجمیر ہی ہندوقوم کے جانے مانے پنڈتوں اور وِدھوانوں کا مر کزی ٹھکانہ تھا۔ پنڈتوں سے دوستانہ مراسم پیدا کر کے راسخ العقیدہ البیرونی نے سنسکرت پڑھنا شروع کی۔ ایک ہاتھ بے پناہ شوق پال کر ، دوسرے ہاتھ تجسس و تلاش کی مشعل تھام کر، خوارزمی محقق بہت جلد سنسکرت جیسی قدیم زبان میں عالمانہ اورمحققانہ مہارت حاصل کر گیا۔
 تاریخ گواہ ہے کہ سنسکرت پڑھنا لکھنا البیرونی کے لئے بے کاری کا مشغلہ یا ذہنی عیاشی کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اسی کی مدد سے وہ ہندوسماج کے تہذیب تمدن، ثقافت، جغرافیہ، مذاہب، اخلاقیات ، رسوم رواج، تہوار ، میلے ٹھیلے، بتوں ، دیومالائی قصہ کہانیوں اور عوامی نفسیات کا فہم وادراک حاصل کر نے میں کامیاب رہا ۔ ایک سچا مسلمان ہونے کے ناطے خالق ِکائنات نے اُس کی شخصیت میں اتنی بے ریائی، علم پروری ، بے تعصبی اورفہمیدگی جمع کردی تھی کہ ہندو پیٹھ کے گیانی اس سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے ،اُسے کچھ فخرا ً کچھ عزتاً ’’وِدیا ساگر‘‘
( علم کا سمندر) جیسے لقب سے پکارتے۔ البیرونی نے یہاں اپنے قیام کے دوران بھگوت گیتا کا عربی میں ترجمہ بھی کیا۔
تصنیف وتالیف میں ہمہ وقت مصروف رہنے والےالبیرونی کو ’’کتاب الہند‘‘ جیسی مبسوط تحقیقی تحفے نے علمی دنیا میں ایک اونچا مقام دیا ۔ اس کتاب کی شکل میں موصوف نے جہاں معاصر ہندو سماج کے حالات کا تجزیاتی مشاہدہ پوری واقعیت اور امانت داری کے ساتھ پیش کیا ، وہاں ہندو ازم کی دھارمک پستکیں کھنگال کر یہ گتھی بھی سلجھا دی کہ بُت پرستی کی رسیا قوم دوسرے ادیان ومذاہب کے بارے میں کیاخیالات ا ورمعتقدات رکھتی تھی ۔یہ سارے مفید مطلب معلومات اکھٹا کر نے میں فاضل محقق نے دس سال تک بلا تکان محنت شاقہ اُٹھائی ، جبھی ’’ کتاب الہند‘‘دنیا ئے علم کو نصیب ہوئی۔ ایک مستند مسلمان عالم کے قلم سے عربی زبان میں ہندوؤں پر اپنی نوعیت کی یہ پہلی محققانہ کاوش اس بات کا بلیغ اشارہ ہے کہ مخلص وسنجیدہ مسلمان علم اوربصائر کے میدان میں تنگ نظری یا بیمار ذہنی سے پاک ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ البیرونی عربی پر فاضلانہ دسترس رکھنے کے علاوہ فارسی ، یونانی اور عبرانی کابھی جید عالم تھا۔
 فرض کیجئے آج البیرونی سرزمین ہند پر’’کتاب الہند ‘‘ لکھنے کے لئے یہاں قدم رکھتا تو کیااُسےہندودھرم اور ہند سوسائٹی پرتحقیق وتفحص کا چراغ جلا نے کے بجائے ہندوتووالے نفرت اور بغض کی چتا میں زندہ جلاکر راکھ نہ کردیتے ؟ کیاوہ ’’وِدیا ساگر ‘‘ کے بجائے ’’ دیش دروہی‘‘  نہ کہلاتا؟ وہ کن کن کردار کشیوں کا آسان ہدف بنتا؟
ایک اور مثال
     چلئے لگے ہاتھوں تصویر کا ایک اور رُخ دیکھتے ہیں۔ شعبہ ٔ
  سنسکرت بنارس ہندو یونیورسٹی میں نومبر ۱۹۲۰ کو ایک مسلم پی ایچ ڈی اسکالر فیروز خان کا قواعد وضوابط کے تحت بطوراسٹنٹ پروفیسر تقرر ہو جاتا ہے ۔اس پر یونیورسٹی کے شعبہ ٔ  سنسکرت کے ہندو طلبہ آگ بگولہ ہوجاتے ہیں کہ ایک مسلم پروفیسر کا ہے کو ہندوطلبہ کوہندو مذہب کی تعلیم دے سکتاہے؟ یونیورسٹی کا وائس چانسلر تقرری کو جائز ٹھہراکردلیل دیتا ہے کہ پوسٹ کے لئے تمام اُمیدوارں میں میرٹ اور صلاحیت میں فیروز خان سب پر فائق ہے،اور یہ تقرری مذہبی تفریق سے بالاتر محض اہلیت و قابلیت کی بنیاد پرہونا قرین انصاف ہے، مگر ہندو طلبہ یونیورسٹی کیمپس میں اس کی مخالفت میں جمے رہتے ہیں ، حتیٰ کہ کیمپس میں خصوصی پوجا یعنی یگیہ رچا ئی جاتی ہے تاکہ فیروز خان کی تقرری کو بھگوان رد کرا دے ۔ اس کے بالکل اُلٹ میں گزشتہ سال نیوزی لینڈ میں ایک اور ہی کہانی بنی ۔ وہاںکی پارلیمان میں ایک بھارتی نژاد پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر گورو شرما منتخب ہوا۔اس نے سنسکرت میں حلف ِوفاداری لیا تو ہندو توا کاڈھول پیٹنےو الوں کی باچھیں کھل گئیں ۔ ان سے پوچھئے کہ کیا نیوزی لینڈ کے کسی ایک بھی شہری نےاعتراض کیا کہ نو منتخبہ ممبر پارلیمنٹ نے ایوان پر اپنی سنسکرت کیوں’’تھوپ‘‘دی ؟ کسی نے مسٹر شرما پر’’ لسانی دہشت گردی‘‘پھیلانے کاالزام دیا ؟ نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جمہوریت میں ہر فرد بشر کو اپنی زندگی جینے کا لا محدود حق ضرور حاصل ہے مگر ساتھ ہی اسے دوسروں کی زندگیاں رنگ ، نسل ، ذات پات اور زبان کی بنیاد پر اجیرن بنانے کا کوئی اختیار نہیں ۔ تیری خبر کا لیکھا جوکھا جو کچھ بھی ہو،میرا اس پر یہی تبصر ہ ہے ۔