تحریر : ش م احمد 

 کسی دل جلے نے سچ کہا ہے  ؎

 خط جو میں نے لکھا ہے انسانیت کے نام پر

  ڈاکیہ ہی مرگیا، پتہ پوچھتے پوچھتے

  جب انسانیت لاپتہ ہو تو سمجھ لیں انسان کا اَتہ پتہ ملنابھی محال وجنوں ہوا۔ اس لئے انسانیت کے نام لکھا گیا خط لے کرڈاکیہ جائے تو  جائےکہاں؟ انسانیت کا مر جانا تمام انسانوں کے لئے ایک ناقابل ِتلافی نقصان ہوتا ہے، چاہے لوگ اس خسارے کا فہم و شعور رکھتے ہوں یا نہیں۔ واقعی انسانیت کی موت عام فوتیدگی سے مختلف ، کفن دفن کی احتیاج سے مبرا ، تعزیت پرسی کی رسم سے عاری ہوتی ہے۔ اس نوع کی منفرد موت میں ظاہراً کوئی تابوت اُٹھتا نہیں، کہیں کوئی چتا جلتی نہیں، کہیںکوئی جسد خاکی چیل کوؤں اور گِدھوں کے سامنے پیش کیا نہیں جاتا ،نہ کسی اہرامِ مصر میں اس لاش کو ہزاروں سال تک حنوط کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ انسانیت کی موت کا اعلان اُس وقت حساس لوگوں کے گوش ِ سماعت سے خاموش لفظوں سے ٹکراتا ہے جب فرد یا اجتماع کےاندر ضمیر کا سوتا خشک ہوجائے، جب خیرخواہی کا سورج غروب ہوجائے، جب نیک عملی کا سورج ڈوب جائے، جب انسان کی آنکھ میںپانی باقی نہ رہے، جب ایثار وقربانی کا جوش کاملاً ٹھنڈا پڑے ، جب ذاتی مفاد کی ہر قیمت پر تاج پوشی کی جائے ، جب آپا دھاپی کا دورد ورہ ہو جائے ، جب انصاف کا دامن تھام لینا بلائے جان ثابت ہو ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

 انسانیت کی موت کے دُکھی نظارےکووڈا۔۱۹ کی وجہ سے روز ہماری نگاہوں سے گزرتے ہیں مگرہم میں کوئی ہے جس نے اُن دُ کھی مناظر کی تکرار پر آنسو بہایا ، اُف کیا، آہ بھری؟؟؟ ہے کوئی؟

    دوڈھائی ماہ سے ہم ایسے کرب انگیز مناظر کھلی آنکھ سے دیکھے چلے آرہے ہیںجو بتاتے ہیںکہ دنیا قیامت صغریٰ سے گزر رہی ہے کہ لوگ مر رہے ہیںاور برابر مررہے ہیں ۔پریشانیوں کا ہجوم مختلف صورتوں میں ہر جگہ ہر غریب کے تعاقب میںہےمگر ہم میں کوئی ہے جس نے مہاماری کے دوران انسانیت کی پامالی اور غریبوں کی موت جیسی زندگی پر دو آنسو بہائے ؟ شاید کوئی نہیں ۔ ایک عرصہ سے ہم نے ہسپتالوں میں بیڈ نہ ملنے پر لوگوں کی سینہ کوبیاں دیکھیں ، آکسیجن کی نایابی پر واویلاسنا، دوائیوں کی کالا بازاری پر سرپیٹنے والوں کا کرب دیکھا ، کسمپرسی کی حالت میںعزیزوں کی موت پرآنسوبھرے روہانسے چہرے دیکھے، حکومت کی غفلتوں پر عوامی غم وغصہ کاپارہ اوپر سے اوپرچڑھتا دیکھا،ویکسین نایاب ہونے کے باوجود وقت پر ٹیکہ لگا ئے جانے کے بھاشن سنے ۔ سیاست دانوں ، سوشل میڈیا، عدالتوں اور دیگر اداروں کی فعالیت کا تما شہ بھی دیکھامگر اِ کا دُکا لوگوں کو چھوڑ کر اس دوران سماجی زبان میں ایک بار بھی کہیں نہ سنا : بھائیو! انسانیت جان بلب ہے، اس کے بچاؤ میں کمر بستہ ہوجاؤ،نذرو نیاز کرو، دان دکھشنا دو، آگے بڑھو؟؟؟

 کسی زبان کو یہ بولنے کی توفیق ملی جوغریب مزدور، دوکاندار، ٹھیلہ والے، ریڑھی بان ، یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہوئے ہیں ،وہ آج کل نانِ شبینہ کے محتاج ہیں،اُنہیں روکھی سوکھی ہی سہی دووقت کی روٹی کھلاؤ، جوناداربیماراپنا  دوا دارو کر نے کی مالی قوت سے محروم ہیں ،ان کاخیال رکھو ؟؟؟  شاید کسی گوشے سے یہ آوازیں نہ سنی نہ گئیں ۔ 

 آپ سو مثالیں دے کر میرے ان سوالوں کی تردید کر سکتے ہیں کہ فلاں فلاں این جی اوز نے لوگوں کے یہ یہ خیراتی کام دل کھول کرکئے اور اب بھی کر رہے ہیں،فلاں فلاں مسجد، اما م بارگاہ، زیارت گاہ، گوروارے، چرچ کے زیرانتظام بیک وقت کووڈمریضوں اور محتاجوں کے لئے مخصوص طبی سہولیات بہم پہنچائی جارہی ہیں اور عام غریبوں کی دل جوئی کا سامان مالی معاونت اور جنس کی صورت میں کی جارہی ہے۔اس تردیدکے جواب میں میرے پاس انسانیت کے کریم النفس اور بے لوث بہی خواہوں کو جھک کر سلام کرنے کے سوا کوئی اور دلیل نہیں ۔ بڑی ناسپاسی ہوگی اگر ان قدسی روح انسانوں کی سراہنا نہ کی جائے مگر میں یہاں ان کی بات کروں گا جو اس آزمائشی دور میں انسانیت کے ناطے بہت کچھ کر سکتے ہیں مگر انسانیت کے تئیں دردوسوز سے خالی ہونے کے سبب یہ لوگ مالی وسعت کے باوجود محتاجوں کے ساتھ رتی بھر ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کرتے،ان کی جنیون ضروریات نظر انداز کر کے اپنی سنگ دلی اور مادیت پسندی کی دھاک بٹھاتے ہیں ۔میرے پاس یہ باور کر نے کی کئی مثالیں ہیں ۔ مثلاًکشمیر کے ایک نامی گرامی پرائیوٹ اسکول میں جو تدریسی وغیر تدریسی عملہ معمولی تنخواہوں پر برسوں سے اپنی خدمات سرانجام دیتا  چلا آیاہے ،ان اسکولوںکے زیادہ ترمالکان اور منتظمین لاک ڈاؤن کی بندشوں کے دوران اپنے سٹاف کو ایک دیلا بھی ادا نہیں کر تے ، اس کے لئے بنا بنایا بہانہ یہ ہے کہ اسکول مقفل ہونے سے طلبہ سے ماہانہ فیس کی رقومات جمع نہیں ہو پاتیں،اس لئے ہم تنخواہوں اور دیگر واجبات کی ا دائیگی سے قاصر ہیں۔ بظاہر بات معقول سی ہے کہ جو اسکول صرف طلبہ کی فیس پہ چلتا ہوتو فیس ادا نہ ہونے کی صورت میں اسکول کے ارباب ِاقتدار کہاں سے اتنے سارے فنڈز لا کر اپنے عملے کا مشاہرہ واگزار کرسکیں۔ مگر یہ آدھی ادھوری حقیقت ہے کیونکہ انہی میں بعض اسکول لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بنک کھاتوں میں جمع پونجی کو خرچ کرکےتعمیرات کے کام پر بے دریغ اُڑاتے ہیں ۔ مطلب صاف ہے کہ مالکان اور منتظمین کے پاس پیسہ ہے مگران کی ترجیحات میں اپنا کم تنخواہ یافتہ عملے کاچولہا جلائے رکھنا نہیں بلکہ اپنے لالچ کا پیٹ پالنا سر فہرست ہے ۔ کیا موجودہ ہنگامی حالات میں انسانیت اور عدل کا بنیادی تقاضا یہ نہیں بنتا کہ سب چیزیں ایک طرف ، پنے اسکول کے مدرسین ، کلرکوں،چپراسیوں ، صفائی کرمچاریوں، اسکول ڈرائیوروں وغیرہ کا آزوقہ چلانے کو فوقیت ملے ؟ یہاں یہ بات قابل ِ ذکر بھی ہے اور قدرے حوصلہ افزا بھی کہ کشمیر میں کئی پرائیوٹ اسکولوں کے منتظمین رواں مشکل دور میں بھی اپنے سٹاف کی کفالت سے پیچھے نہیں ہٹے،باوجودیکہ ان کے مالی وسائل اتنے زیادہ نہیں ۔ بعض اسکول والے اپنے ملازمین کو گزشتہ سال کی طرح اس وقت بھی لاک ڈاون کے دوران پوری تنخواہ اور بعض نصف تنخواہ اداکر کے انسانیت کا چراغ جوں توں جلائے رکھتے ہیں ۔ اسی تسلسل میں ہفتہ عشرہ قبل کا وہ واقعہ ہمارے حافظے کے پٹارے میں تازہ ہوگا کہ کشمیر کےجنوبی ضلع کولگام کے ایک سرکاری ٹیچر کے جوان سال لڑکے نے خودکشی کی ۔ یہ المیہ بھی چشم فلک نے سہا کہ اس نے یہ انتہائی اقدام اپنے باپ کی دوسال سے رُکی پڑی تنخواہ کے خلاف احتجاج کر نے اور ایسے دوسرے بد نصیب ٹیچروںکاحقِ کفافہ منوانے کے لئے کیا ۔ لڑکے کی آتم ہتھیا کے بعد انتظامیہ کی رگ ِ حمیت جاگ گئی اور ’’سی آئی ڈی ویری فکیشن ‘‘ کے نام پر تما م ٹیچروں کا دوسال سے رُکا پڑا مشاہرہ فوراً ادا کر کے مزید خرابیوں کا سلسلہ روک دیا۔

 یہ محض ٹیچرکمیونٹی کی بات نہیں بلکہ جو نوجوان کشمیر میں پرائیوٹ دفاتر اور کارخانوں میںڈیوٹیاں کرتے ہیں ، ریستورانوں میںویٹر وغیرہ بن کر اور دوکانداروں کے یہاں بطور سیلز مین طور کام کرکے گزارہ چلاتےہیں ،وہ زیادہ تر لاک ڈاؤن سے نہ صرف کمائی سے ہاتھ مل گئے بلکہ کام دھندے سے بھی گئے ۔ حالات کی یہ تصویر اتنی مایوس کن ہے کہ اس پر مزید کچھ لکھنے سے دل دُکھتا ہے۔

      مہاماری کے چلتے راقم السطور کو بھی انسانیت شرمسار کرنے والے کچھ ایسے ناگفتہ بہ مشاہدات اور تجربات سے واسطہ پڑا کہ انہیںیاد کر کےدل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا پالا ایسے غم ناک حوادث سے نہ پڑا جو گواہی دیتے ہیں کہ کسی کسی کم نصیب کووڈ مریض کی موت کےبعد اس کی گھر گرہستی کس کس عنوان سے بکھر جاتی ہے ، کس کس طرح اس کے خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں ، کن کن وجوہ سے رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں ، کس طر ح انسانیت کا تانہ بانہ معمولی مادی مفاد کے پیچھے ٹوٹ پھوٹ شکار ہوجاتا ہے ۔ ایسے کم نصیب کووڈ متاثرہ کنبوںپر حوادث کی جوچوٹیں انسانیت کی موت پر منتج ہوتی ہیں ، وہ لوگوں کی نگاہ اور علم دونوںسے زیادہ ترچھپی رہتی ہیں ۔ مجھے ایسے نجی واقعات کا زیادہ علم نہیں مگر ایک واقعہ کی بعض معلومات میرے دل ِگریاں میں بھی محفوظ ہیں مگر قلم میں اُن کو بیان کرنے کا یارا نہیں ۔ کوئی پتھردل  انسان ہی ہوگا جو یہ واقعات سن کر چیخ نہ اٹھے کہ انسانیت موت کی ابدی نیند سوگئی ہے اور اعتراف کر ے گا کہ ہم نے عالمی وبا کے خدائی پیغام سے کچھ بھی نہ سیکھا ہے۔

 مجھے نہیں معلوم کہ کووڈ سے مرگِ ناگہانی کے شکار گھرانوں کی بیوائیں ، یتیم بچےاور بوڑھے ماں باپ کے سہارے لٹ جانےسے انسانیت کی موت کے کتنے صدمہ خیزقصے اب تک بنے ہیں ، آگے ان میں اورکتنا اضافہ ہوگا،مگر یہ بات میں اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی وبا کے پھیلاؤ سے زیادہ تیز گام مہنگائی ہے ۔ مہنگائی متواتر آسمان کو چھورہی ہے ۔ بنابریں غربت کی سطح سے نیچے گزر بسر کر نے والے لوگوں کی بات ہی نہیں، متوسط طبقات  کاخون بھی بڑھتی گراں بازاری خشک کئے جارہی ہے ۔ ایندھن کی قیمتیں روز بروز بڑھائی جارہی ہیں ، اشیائے خوردونوش کے نرخ لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہے ہیں ، سرکاری محصولات میں بھی اضافہ ہورہاہے۔اس پر مستزادیہ کہ بے کاری ، بے روزگاری ، کسادبازاری نقطہ عروج پر ہے ۔ غرض اس وقت ہمارا حال بقول امام بخش ناسخؔ یہ ہے ؎

 سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے

کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انساں سے

  ادھرروزانہ جاری ہونے والے سرکاری اعداد وشمار پر یقین کیجئے تو پہلے کے مقابلے میں یومیہ نئے کووڈ مریض تعداداً کم آرہےہیں،باوجودیکہ تین سے چار ہزار کے آس پاس کووڈ موتیں ہرروز واقع ہورہی ہیں۔ بایں ہمہ لاک ڈاؤن میں قدرےنرمی لائی جارہی ہے، البتہ تیسری لہر کی بار بارچتاؤنیوں سے حالات کو ابھی تک قابو آنے میں ابھی مزید انتظارکر نا اور احتیاط کی پگڈنڈی پر بہ ہوش وگوش چلنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔