تحریر : محسن شفیق 

جب غار حرا سے وحدانیت کا نور پھوٹا، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے اہل و عیال کو اور دوست احباب کو اس مقدس پیغام سے روشناس کیا تو حضرت خدیجہ رض، حضرت ابو بکر صدیق رض، حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت زید رض نے فوراً لبیک کہا اور رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اکابرین مکہ اپنی نام نہاد طاقت کے زعم میں دشمن بن گئے۔ جس چچا نے ولادت کی خوشی میں لونڈی آزاد کی تھی اس نے چہرہ انور پر پتھر پھینک دیا۔ یوں ید ابو لہب پیغام توحید و رسالت کے خلاف اٹھنے والا سب سے پہلا ہاتھ بن گیا۔

 پیغام نبوی ہر قلب سے ٹکرایا، ہدایت کے پیاسوں کے لیے رحمت اور کفر کے علمبرداروں کے لیے ایک چیلنج بننے لگا۔ پسے ہوئے طبقات، عورتوں، غلام مردوں اور غلام عورتوں، جانوروں حتیٰ کہ چرند و پرند کے لیے ایک نئی صبح طلوع ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کے دوست کھلم کھلا دوست اور دشمن کھلم کھلا دشمن تھے۔ حمایت اور مخالفت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ 

 اسلام بظاہر کمزور اور کفر طاقتور تھا۔ کفر زور آوری کے قیاس پر اسلام پر دھاڑ رہا تھا۔ لہب و جہل آۓ روز اپنی برادری برتری کا حساب کرتے اور اسلام کے قلیل سرماۓ کو بزور شمشیر ختم کرنے کی ٹھان کر سوتے۔ 

 اسلام شعب ابی طالب میں محصور کیا گیا، ہجرتوں کے دور بھی گزرے مگر کفر کا نام نہاد زعم کم ہونے میں نہیں آیا۔ حبشہ میں حضرت جعفر طیار رض کے مکالمہ اور آپ رض کی زبان سے جاری قرآنی آیات نے نجاشی کا دل موم کر دیا، قریش مکہ کا وفد بیش بہا تحائف سمیت منہ پر خاک ملتا ہوا لوٹ گیا۔ مدینہ کی مواخات نے مسلمانوں کو سہارا دیا، کفر اس پر بھی تلملانے لگا۔ کفر نے اسلام پر حملہ آور ہونے کی تیاری شروع کر لی، اسلام اپنی قلیل افرادی و جنگی قوت سے مقابلہ کے لیے تیار ہوا۔ بدر کا میدان سجا، کفر کے بڑے بڑے نام مٹ گئے، جہل بھی انجام کو پہنچ گیا۔

 بدر کے میدان سے کفر اپنا کل غرور لٹا پٹا کر بھاگا۔ 

 اب تک کفر مدینہ کی حدوں سے باہر سے زہر فشانی کر رہا تھا۔ مگر اب مدینہ کی حدوں سے اندر بھی اسلام کی مقبولیت کے راستے روکنے کی کوشش شروع ہونے لگی۔ مدینہ میں حاکمیت کے امیدواروں نے جب دیکھا کہ ان کا مستقبل اب محفوظ نہیں رہا اور مٹھی بھر مسلمان کفر کے لشکر جرار کو نیست و نابود کر سکتے ہیں تو مدینہ کے اہل کفر نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمان بن کر اسلام کا مقابلہ شروع کر لیا۔ یہ گروہ ظاہری طور پر تو اسلام کا خیرخواہ تھا مگر اندرون خانہ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے درپے تھا۔ اس گروہ نے مومنوں جیسی شکلیں اختیار کیں، ویسے ہی معمولات تشکیل دیے حتیٰ کہ مسجد بھی کھڑی کر لی۔ تاریخ اس گروہ کی ریشہ دوانیوں سے بھری پڑی ہے۔ عبداللہ بن ابی اس گروہ کا سرغنہ تھا۔ یہ گروہ اپنی قائم کی گئی مسجد میں جمع ہوتا اور اسلام کے خلاف سازشوں کے پل باندھتا۔ خالق کائنات نے اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اس گروہ کی حقیقت سے آگاہ فرمایا اور حکم دیا کہ ضرار نامی عمارت جو اللّٰہ کے ذکر کی نیت سے قائم نہیں کی گئی ہے کو منہدم کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی کی مرگ پر خداۓ الرحمن الرحیم نے اس کی بخشش کی ہر امید توڑ دی۔ پیغمبر خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے کرتا مبارک میں دفن ہونے والا عبداللہ بن ابی جہنم کی تہہ میں پہنچ گیا۔ 

 عبداللہ بن ابی تو جہنم کی تاریکیوں میں گم ہو گیا مگر اپنے پیچھے ابیت چھوڑ گیا۔ پروردگار عالم نے اپنا فیصلہ اپنے پاک کلام کا حصہ بنا دیا کہ اے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ عبداللہ بن ابی کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے تب بھی اس کی بخشش نہیں ہو گی۔ یہ فرمان خدا کسی اور کی نہیں بلکہ رحمت اللعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اترا۔ 

 رب العالمین نے عبداللہ بن ابی کے گروہ کو جہنم کا ایک خصوصی کنواں عطا فرمایا ہے۔ ابیت کے پیرو کار آج بھی اپنی پوری حیثیت کے ساتھ پاۓ جاتے ہیں۔ چہرہ کو ڈاڑھی سے سجائیں گے، ہاتھ میں تسبیح لہرائیں گے اور پوجا اپنے اندر کے شیطان کی  کریں گے۔ دین سے ان کا تعلق کوئی نہیں، اپنے کرتوتوں کے دفاع میں قرآن پاک اور احادیث مبارکہ بھی سنائیں گے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ عام لوگوں کا اس حلیے کے ابیوں کی وجہ سے مومنین سے بھی اعتبار اٹھ گیا ہے۔ ان ابیوں کی وجہ سے عام لوگ تو خدا کی ذات پر کامل یقین نہیں رکھ پا رہے جس کا نتیجہ الحاد کی صورت برآمد ہو رہا ہے۔ ملحدین اپنے فرسودہ نظریات کی ترویج میں اتنے کامیاب نہیں ہو رہے جتنا ابیت کے پیروکار دین متین سے لوگوں کو بیزار کر کے الحاد کے فرسودہ نظریات کو کامیاب بنا رہے ہیں۔ عام لوگ اور غیر مسلم معاشرے کم علمی کی وجہ سے دین اسلام کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ ان ابیوں کے طرزِ عمل کی باعث دین اسلام از خود شدید نقصان کا سامنا کر رہا ہے۔ 

 بے اعتباری کا عالم یہ ہو چکا ہے کہ جب کوئی شخص کلمہ طیبہ پڑھ کر بات کرنے لگے تو لوگ اسی وقت اس کے برعکس تاثر پیدا کر لیتے ہیں۔ ان ابیوں کی داڑھیوں نے سنت رسول کا اعتبار توڑ دیا ہے، ان کی تسبیحوں نے ذکر کی پیاسی زبانیں منجمد کر دی ہیں۔ اگر کسی بازار میں ایک نمازی دین دار شخص، سنت کے مطابق اپنا چہرہ کو سنوار کر کامیاب کاروبار کر رہا تھا اور لوگ اس کے گرویدہ تھے تو ابیوں نے اپنے مکر و فریب کی کامیابی کی خاطر ویسا بھیس اختیار کر لیا اور لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا بازار گرم کر لیا۔ یوں لوگ ایماندار شخص سے بھی متنفر ہو گئے۔

 ابیوں نے کھلم کھلا دشمنی کی روایت کو بدل دیا ہے، آج کا عبداللہ بن بیک وقت دین کا نمائندہ اور آستین کا سانپ بن کر ویسے ہی بھیس میں لوگوں کے بیچ رہتا، ساتھ اٹھتا بیٹھتا اور کھاتا پیتا رہتا ہے۔ وہ اپنے اندر کے شیطان کو شعائر کے پردے میں چھپا کر رکھتا ہے،اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے اور موقع ملنے پر اندر کے شیطان کو خود پر طاری کر لیتا ہے۔ اگر کوئی اس شیطان کو کنکریاں مارنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر قرآن و حدیث کی روشنی میں فتویٰ صادر کر دیتا ہے اور لوگوں کو اپنے حق میں جمع کر لیتا ہے۔ لوگوں میں اپنی شرافت اور دیانت کی قسمیں کھاتا ہے اور خود کو پارسا ثابت کر لیتا ہے۔ وہ حقیقی دیندار لوگوں میں بھی اپنا مقام بنا کر رکھتا ہے۔ بظاہر حق پرستی کی دعوت دیتا ہے مگر اپنے گروہ میں اپنی شیطانی صفات کا اعادہ کرتا ہے ، خود کو بڑا صاحب عقل و خرد شمار کرتا ہے ،مگر انجان رہتا ہے تو جہنم کے سب سے نچلے گڑھے سے۔ 

 یہ صورت حال آج کی اس نسل کے لیے جو لڑکپن میں ہے یا جس نے ابھی آنکھیں کھولنی ہیں کے لیے سخت تشویشناک ہے۔ دین اسلام کو اصل خطرہ کفر سے نہیں بلکہ ابیوں سے ہے۔ کفر تو سامنے کھڑا دشمن ہے اور ابیے مسلمانوں کی سی شکل میں چھپے ہوئے دشمن۔ تجارت، معیشت، سیاست، عبادت، اخلاقیات حتیٰ کہ زندگی کے تمامام معمولات کو ابیت کے سیاہ بادل نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ 

 جب غار حرا سے وحدانیت کا نور پھوٹا تھا تو مسلمانوں سے دشمنی کھلم کھلا شروع ہوئی تھی۔ ان کھلے عام دشمنوں کو جہنم میں خصوصی حیثیت نہیں دی گئی۔ مگر جب عبداللہ بن ابی کی طرز پر باہر سے مسلمان اور اندر سے شیطان کی روایت شروع ہوئی تو فی الدرک اسفل من النار کا قانون اترا۔ جس کی بخشش پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے کرتا مبارک میں بھی نہیں ممکن۔