مظفرآباد( پی ایف پی نیوز)

جہلم ویلی کے دور دراز علاقوں میں خواتین اور بچوں کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے یونین کونسل لمنیاں میں مریم توصیف زچہ بچہ سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے  ۔مریم توصیف زچہ بچہ سنٹر ایسے علاقے میں قائم کیا گیا ہے جہاں سالانہ درجنوں مائیں اور بچے ابتدائی طبی امداد نہ ہونے کے باعث وفات پا جاتے تھے ۔یونین کونسل لمنیاں جہلم ویلی میں مریم توصیف زچہ بچہ سنٹر کے قیام سے علاقے کی سینکڑوں خواتین اور بچے اب طبی سہولیات سے مستفید ہوں گے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مریم توصیف زچہ بچہ سنٹر کا افتتاح کیا گیا ،افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ڈی او )کے سی ای او محمد ارشد،کمیونیکیشن آفیسر زبیر عارفی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انڈیا اور نائیجریا کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا ملک جہاں دوران زچگی خواتین وفات پا جاتی ہیں ،آزاد کشمیر میں ایک لاکھ خواتین کی ڈلیوری پر 201 خواتین طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے وفات پا جاتی ہیں ،زچگی کے دوران خواتین کی وفات کی سب سے بڑی وجہ خون کا نہ رکنا ہے ،خون کو روکنے والی اودیات کے استعمال سے ہزاروں خواتین کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں ،زچگی کے دوران ماؤں کی وفات کی بڑی وجہ گھروں میں خواتین کی ڈلیوری بھی ہے 80.فیصد خواتین کی ڈلیوری گھروں میں ہوتی ہے جس کی وجہ سے دوران زچگی خواتین کی اموات واقع ہو جاتی ہیں ۔قبل ازیں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ڈی او) نے کھوڑیاں جہلم ویلی میں ایک نئے زچہ وبچہ سنٹر کی بنیاد رکھی تھی -ایس ڈی او کے تحت دورافتادہ علاقوں میں ماں اور بچے کی صحت کی بہتری کے حوالے سے ابھی تک 22 سنٹر قائم کیے جاچکے ہیں (نیلم ویلی 17، جہلم ویلی 1، مظفرآباد 1، حویلی 3)۔  گورنمنٹ کے شعبہ صحت (میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ کئیر) کے تحت کام کرنے والی کمیونٹی مڈ وائف کو سیٹ اپ بنا کر دیا جاتا ہے جو اپنے مقامی سطح پر خواتین و بچوں کے علاج معالجے کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ایس ڈی او کے ذمہ داران نے مزید کہا کہ ہم شروع سے گورنمنٹ سیٹ اپ کو معاونت فراہم کرتے ہیں تاکہ دورافتادہ علاقوں میں خدمات کی موجودگی اور بہتری کو یقینی بنایا جا سکے