حسیب احمد محبوبی

حسیب احمد شاعر ، نثر نگار اور مصنف ہیں -اصل  نام حسیب احمد، تخلص جمال اور نسبتِ روحانی محبوبی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض احباب حسیب احمد محبوبی اور بعض حسیب جمال کے نام سے بھی آپ کو جانتے ہیں۔ اردو اور فارسی ادب سے لگاؤ رکھنے والا حسیب تصوف سے بھی کما حقہ آشنا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے صدر شعبہء اردو جناب عبدالعزیز ساحر سے قربت کا تعلق رکھنے والے حسیب احمد محبوبی اسلام آبادمیں محمد شبیر خان راٹھور کے گھر پیدا ہوئے۔آبائی علاقہ مندھار (ضلع: حویلی کہوٹہ / آزاد کشمیر) ہے جب کہ گزشتہ کئی برسوں سے مستقل طور پر اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ گریجوایشن تک تعلیم حاصل کی اور مختلف اداروں میں ملازمت کے بعد گزشتہ چھے سال سے بارانی زرعی یونی ورسٹی راول پنڈی میں بہ طور کمپیوٹر اسسٹنٹ اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اردو ادب، فارسی ادب اور تصوف سے گہری دل چسپی رکھتے ہیں، اسی حوالے سے مختلف رسائل وجرائد میں ان کے مقالات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔2015ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا۔ باقاعدہ محمد سلمان مانی اور آصف رشید اسجد سے اصلاح لیتے ہیں۔ یوں تو مختلف اصناف میں شعر کہتے ہیں البتہ پسندیدہ صنفِ شاعری غزل ہے۔ مختلف رسائل و جرائد میں ان کی غزلیات شائع ہوتی رہتی ہیں تاہم ابھی تک کوئی شعری مجموعہ منظرِ عام پر نہیں آیا۔

۔

حسیب احمد محبوبی کی تصانیف 

حسیب کی دو نثری تصانیف ’’تذکارِ شاہِ محبوب‘‘ اور ’’تذکارِ محبِ محبوب‘‘ بالترتیب 2016ء اور 2017ء میں زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں جن میں انھوں نے اپنے مرشدِ طریقت خواجہ صوفی محبوب علی شاہ اور ان کے صاحب زادے صوفی محب علی شاہ محبوبی کے احوال و ملفوظات قلم بند کیے ہیں۔

دیگر ادبی ذمہ داریاں 

آپ آزادکشمیر کی معروف اور فعال ادبی تنظیم “احیائے ادب حویلی” کے معتمدِ نشرواشاعت بھی ہیں۔حسیب انسانیت کا درد سمجھنے والے انسان ہیں۔ ان کا یہی وصف ان کی شاعری میں بھی عیاں ہے۔ 

( یہ تعارف فرہاد احمد فِگار نے لکھا ہے )