ہاجرہ عمران خان

ہاجرہ عمران خان ابھرتی ہوئی افسانہ و ناول نگار ہیں۔ گریجویشن کینٹ کالج لاہور سے اور ایم اے اردو پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ کئی سال درس و تدریس سے وابستہ رہی ہیں۔ لاہور کی ایک مشہور این جی او کے شعبہ تعلیم سے بھی وابستہ رہیں اور جو بچے معاشی طور پر سکول جانے سے قاصر تھے ان کی تعلیمی معاونت میں بھرپور  کردار ادا کیا۔۔ انھیں بچپن سے بچوں کا ادب پڑھنے اور کہانیاں لکھنے کا شوق رہا اور یہ شوق انہیں پاکستانی، انگریزی، روسی، جاپانی ادب سے جوڑتا چلا گیا۔ 

‎ باقاعدہ لکھنے کا آغاز 2015 سے کیا -‎فیس بک پر ان کا صفحہ  ”ہاجرہ خان رائٹس”کے نام سے موجود ہے۔ جس پر  قسط وار ناولز اپلوڈ کرتی ہیں۔ قارئین کی جانب سے ان کے ناولز کو بہت سراہا گیا ہے۔ مختلف ادبی گروپس میں بھی ان کا کام شئیر کیا جاتا ہے۔‎مختلف اخبارات، ویب سائٹس، ادبی گروپس اور ڈائجسٹس میں آرٹیکلز، افسانے اور تبصرہ و تجزیہ لگنے کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔ 

‎”شامِ تنہائی”کے نام سے شاعری کی انٹرنیشنل کتاب میں بہت سے شعراء کے ساتھ ہاجرہ  کا کلام بھی شامل ہے۔ ایک اور عالمی کتاب ”چٹھی سرحد پار سے”ان کی چٹھی‘امن کے نام‘ شائع ہوئی  ہے۔ اس کتاب میں وہ خطوط شامل ہیں جو پاکستان اور بھارت کے مکینوں نے ایک دوسرے کو لکھے۔ یہ ایک منفرد کتاب ہے۔ 

‎مشترکہ کتاب ”سہ برگ”کو ادبی حلقوں کی جانب سے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ اپوا (آل رائٹرز ویلفئیر فاؤنڈیشن) کے زیرِ اہتمام ایک مشترکہ کتاب ”داستانِ سخن”میں ان کے ناولٹس شامل ہیں۔ ان کی کتاب ”راہِ گم گشتہ کے مسافر ”منظرِ عام پر آچکی ہے جس میں دوسرا ناول ”الحزب ”ہے۔ ادبی حلقوں کی جانب سے“ راہ گم گشتہ کے مسافر“ کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے جب کہ زیر تکمیل ناولوں میں پہلا“ ہجرت ثانی“ ہے جو بر صغیر کی تقسیم کے موضوع پر ہے جبکہ دوسرا زیر تکمیل ناول“ سلگتے چنار”آزادی کشمیر کے حوالے سے ہے – ان کا تیسراناول“ زیتون کے آنسو“اسرائیل کے فلسطین پر ناجائز قبضے اور سرزمین فلسطین پر بسنے والے مسلمانوں کی زندگی پر ہے ان سب کی اشاعت باقی ہے –

 

Leave your comment !