تحریر : ش م احمد 
 سعودی عرب کی وزارتِ حج وعمرہ نے ۱۲ ؍جون کو اپنے ٹویٹر ہینڈل پر یہ اہم ٹویٹ کیا کہ کرونا وائرس کے پیش نظر سال ۱۴۴۲  ھ کو حج بیت اللہ کی اجازت محدود اور مشروط ہوگی۔ یہ دوسرا سال ہے جب حج کے سالانہ عالمی اجتماع میں حاجیوں کی صرف ایک قلیل تعداد شریک ہوگی ۔ تفصیلات کے مطابق اس سال موسم ِحج میں صرف ساٹھ ہزار حجاج کرام فریضہ حج انجام دینے کے مجاز ہوں گے۔ تاہم ان پر یہ شرائط عائد ہوں گی: کہ وہ سعودی شہری یا مملکت میں اقامت پذیر غیر ملکی ہوں ، کہ اُن کی عمریں ۱۸ سے۶۵  سال کے درمیان ہوں، کہ وہ صحت مند وتوانا ہوں ، کہ وہ مملکت کےویکسی نیشن قواعد کے عین مطابق ٹیکہ لگا چکے ہوں، کہ وہ کسی لاعلاج مرض میں مبتلانہ ہوں، کہ وہ شعائر حج کی ادائیگی میں نافذالعمل ایس او پیز پر عمل پیرا ہوں ۔ اس اعلان سے بین السطور متباور ہو تاہےکہ دنیا کے لاکھوں بے قرار مسلمان سال ِرفتہ کی طرح اِمسال بھی حج بیت اللہ کی سعادت سے محروم رہیں گے ۔ بلا شبہ حفظانِ صحت کے نقطہ ٔ نظر سے موجودہ وبائی حالات میں سعودی حکومت کا یہ فیصلہ ایک ناقابلِ التوا مجبوری ہے اور ایک ٹھوس جواز رکھتا ہے۔ گزشتہ سال بھی سعودی حکومت نے بعض محکم شرائط کی قید کےساتھ عازمین کوعلامتی حج کی اجازت دی تھی ۔ اُس وقت حج کے لئے خصوصی اجازت نامہ کے حامل حاجیوں کا قافلہ صرف دس ہزار چنیدہ نفوس پر مشتمل تھا۔ مقامِ شکر ہے کہ حفظ ماتقدم کے طور کئے گئے اس  معقول اقدام کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ حجاج کرام خیریت وعافیت سے فریضہ ٔ حج انجام دے کر گھروں کو لوٹے اور پنڈمک کے باوجود کسی ایک بھی حاجی کی صحت کو کوئی گزند نہ پہنچی۔ پوری مسلم دنیا نے کی اس بروقت فیصلہ کی پذیرائی کر کے اسے وقت کی اہم ضرورت گردانا  تھا۔ آج کی طرح اُس وقت بھی سالانہ حج اجتماع میں عازمین کی تعداد کو علامتی رکھنے کے پس ِپردہ یہی اسلامی سوچ اور اجتہادی پہل کارفرما تھی کہ تحفظ ِانسانیت کو ہر دوسری چیز پر فوقیت دے کر عالمی وبا کے خلاف بین الاقوامی کاوشوںمیں اپنا حصہ ڈالنا از حد ضروری ہے۔ آج کی تاریخ میں حج کے تعلق سےتازہ سعودی فیصلہ بھی کووڈ ۔ ۹ا کے عالمی بحران کے تناظر میں احتیاطی وانسدادی نوعیت کا ہے ۔ ا وآئی سی سمیت تمام مسلمانانِ جہان اس کا خیرمقدم کررہے ہیں اور اس اعلان کو بصیرت افروز قرار دے رہے ہیں۔ وقت کا مورخ یہ حقیقت آب ِرز سے ضرور لکھے گا کہ ہلاکت آفرین پنڈمک کے دوران اسلام کے پیروکار اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے دوران نہ اَندھ وشواس میں بہک گئے، نہ نری جذباتیت میں بھٹک گئے ، نہ توہمات کی رو میں بہنےکا رقص نیم بسمل کیا ، نہ معاشی سود وزیاں کو کوئی اہمیت دی بلکہ انہوں نےاس کڑی آزمائش اور عالمی کرائسس کے دوران بھی انسان دوستی ، معقولیت اور احساس ِ ذمہ داری کی اعلیٰ مثالیں قائم کر کے دنیا کو اسلام کی ا س خوب صورتی سے پھر ایک بار روشناس کرایا کہ بہار ہو کہ خزاں دین ِ حق ہر طرح کے موسم سے کامل مفاہمت و موافقت کارشتہ جوڑ کر چلنے کی فطرت کاحامل ہے   ؎ 

یہ نغمہ فصل ِ گل ولالہ کا نہیں پابند 

بہار ہو کہ خزاں لاالہٰ الا اللہ         

یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ انسانیت کو خطرات ومضرات سے بچائے رکھنے کی حتی الوسع کوشش کرنا اسلام کی اہم ترین تعلیم ہے۔ اس ضمن میں قرآن کا یہ ناطق اصول شاہ کلید کی حیثیت رکھتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری نوع انسا نی کا قتل ہے اور ایک انسان کا دفاع پوری انسانیت کا دفاع ہے۔( سورہ مائدہ، ۲۳۱) ۔ اندازہ کیجئے کہ عالمی وبا کی دودھاری تلوارپوری ا نسانیت کے سرپر لٹک رہی ہو اور عقل کے تقاضے نظر انداز کر کے اگر بالفرض دنیا بھر سے لگ بھگ چالیس پچاس لاکھ لوگوں کو حج کے لئے حرمِ شریف میںجمع ہونے کی بے قید اجازت ہو، اورمغالطہ یہ ہو کہ ملکوں ملکوں بے دریغ موتیں تقسیم کر نے والی آدم خور وبا حج کی برکت سے نہیں پھیل سکتا، یہ تو دیوانے کی بڑ ہوگی ۔ حال ہی میں انڈیا میں کمبھہ میلے میں عالمی وبا کے حوالے سے جب صحت ِعامہ کے بنیادی اصو لوں کو بالائے طاق رکھا گیا اور کووڈ ۱۹ کے ایس او پیز کی دھجیاں بکھیر کرلاکھوں لوگ ایک ساتھ گنگا نہائے کہ عوام وخواص میں کسی ایک کو بھی یہ فکر کر نے کی چٹی نہ تھی کہ کووڈکی ودسری لہر موت کی سونامی بن کر قہر مچارہی ہےتو اس سے کیا کیا قیامتیں ملک کے طول و عرض میں بپا ہوئیں، اس کا احاطہ کر نا بھی بیان سے باہر ہے ۔اس کے برعکس ۲۰۲۰ اور اب۲۰۲۱ کو سعودی حکومت نے بھر پور احساسِ ذمہ داری کا سنجیدہ مظاہرہ کر تے ہوئے حج کو علامتی تقریب تک محدود رکھنے کی ایک قابل ِ تعریف اعلیٰ مثال قائم کی، باوجودیکہ حج وعمرہ پر قانونی جزوی قدغن لگانے سے سعودی معیشت کو متواتر دوسال سے زبردست خسارے اور دھچکہ برداشت کرناپڑ رہاہے۔  یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اسلام انسانی حیات کی محافظت، اوراس کی ہمہ گیر بقا کا درس دیتا ہے ۔ یہ امرحق انسانی دنیا کے لئےا مراض و عوارض سے نجات یافتہ زندگی کا علمبردار بن کر گویا عملاً صحت کو اپنے الہٰی چارٹر کی بنیادی شق مانتا ہے۔ اسلام نے تمام بدنی ومالی عبادات کو صحت ، استطاعت اور انفرادی واجتماعی حالات کی موافقت سے مشروط کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بیماری و لاچاری جیسے عذر ات کے پیش نظر مخصوص حالات میں کئی ایک عبادتوں سے بندے کو جزوی چھوٹ دی گئی ہے، انہیں موخر کیا ہے ، انہیںفدیہ کی ادا ئیگی سے مشروط کیا ہے ۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۵  میں یہ رہنما اصول دیا گیا ہے :

  ’’اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے ،اور تم پر تنگی نہیں چاہتا‘‘  اسلام دین فطرت ہے ۔ یہ فطرت کے اسلوب سے کسی بھی نوع کی بغاوت کو ناپسندہ اور گناہ گارانہ عمل گردانتا ہے ۔ ہاں اسلام میں آسانی ضرور ہے مگرمن مانی نہیں کہ ہم حیلے بہانے کرکےحکمِ خداوندی کی تعمیل سے جی چرائیں، سختیوں اور مشقتوں سے بچنے کے لئے سہولت و رخصت کے چور دروازےڈھونڈتےپھریں ۔ شریعت مسلمانوں پر جو بھی ممانعتیں عائدکرتا ہے ، جو بھی اجازتیں از راہ لطف و کرم دیتا ہے، اُن میں نہ صرف بندوں کے لئے فوائد اور مصالح کے خزانے چھپے ہیںبلکہ عام حالات میں یہ ہر کس وناکس کے لئے راحت رساں اور واجب التعمیل ہیں ۔ جب ایک بندۂ خدا کے لئے حالات کا پہیہ الٹی گردش اختیار کر ے اور فضامیں اتنا اُلٹ پھیر واقع ہوکہ انفردای یا اجتماعی سطح پر کسی دینی ہدایت یا حکم کی بجا آوری حد ِامکان سے ماورا ہو جائے تو اسلام بندگانِ خدا کے لئے ہنگامی حالات کے پیش نظر رعایتیں بھی دیتا ہے اور رُخصتوں کا راستہ بھی کھول دیتا ہے، سہولیات بھی عطاکرتا ہے اور آسائشیں اور تخفیفات سے بھی متمتع ہونے کی آسانی دیتا ہے۔ یہ دین حق کا روشن امتیاز ہے۔البتہ جو نہی حالات پھر سےنارمل اور فضا موافق ہو جائے تو بندوں کے لئے یہ تمام رخصتیں اور تخفیفیں بھی کالعدم ہو جاتی ہیں ۔ اسی قاعدہ کلیہ کی روشنی میں عالمی وبا کے دوران کبھی حرم کے دروازے بند ہوئے، کبھی کھل گئے اور کبھی حج وعمرہ پر تحدیدات عائد کی گئیں

۔ بہر صورت سعودی وزارت ِ حج وعمرہ کا تازہ فیصلہ اُن قدسی روحوں کے لئے لازماً قلبی بے چینی اور ذہنی کوفت کا سبب بناہوگا جو گزشتہ سال کی طرح اس برس بھی موسم ِ حج میں حرم ِمکہ ، مزدلفہ ،عر فات، منیٰ کی مقدس گرد اپنی پاک جبینوں کا جھومر بنانے کا خواب تشنہ ٔ تعبیر پائیں گے، دوبارہ طوافِ کعبہ اور مسجد نبوی ؐ میں حاضری دینے کی محرومی سے سر تا پا تڑپتے رہیں گے مگرکیا کیجئے یہ اللہ کی مشیت ہے کہ عالمی وبا کا تسلسل تاحال قائم ہے۔ اس بنا پر عالم ِدنیا سے عشا ق کے قافلے حجاز  مقدس کی جانب کوچ کر نے سے پھر ایک مرتبہ رہ گئے کہ اللہ نے ان کی اُمیدیں بر آنے میں مزید تڑپ اور مزید انتظار کا وقفہ بڑھایا ہے۔ رب کی منشا ٔ رب ہی جانے۔ دعا ہے کہ رب ِ کعبہ عزمِ راسخ رکھنے والے تمام مسلمانوں کی جھولیاں بھرنے کے لئےدرِ کعبہ پھرسے کھول دے، آقائے مدینہ ﷺ  کے روضہ پاک پر اشک اشک درود وسلام کی ڈالیاں پیش کر نے والوں کاجلدا زجلد انتظار مختصر فرمائے،پھر سے حرمین کے سر سبز وشاداب چمنستان سجدوں ، دعاؤں ، روحانی فیوضات و برکات کے نزول سے تمام مسلمانوں کی روحیں تر وتازہ کر دیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ جب حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر نے مسلمان بہ حیثیت مجموعی محروم رہے بلکہ بعثتِ محمدی ﷺ کے مابعد اب تک وقفے وقفے سے کم ازکم چالیس بار حج کی ادائیگی مختلف دشواریوں ، مشکلات ، فتنوں، حملوں، وبائی بیماریوں، سیلابوں، موسمی ناہنجاریوں اور کئی دوسری وجوہات سے معطل رہی ۔

۶۲۹ ھ میں پیغمبرا سلام ﷺ نے بہ نفیس معتدبہ تعداد میں صحابہ کبار رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کے ہمراہ حج کا فریضہ انجام دیا مگر ۶۶۵ھ کو اسمعٰیل بن یوسف السفاک کے عرفات پر حملہ ، ۳۱۰ اور ۹۳۰ ھ کو بحرین کے قرامطہ کی جانب سےمکہ معظمہ کعبہ مشرفہ پر یورش، ۳۰ ہزار حاجیوں کے قتل عام اور حجراسود کو اکھاڑ کر بحرین لے جانے، ۹۸۳ھ کو عباسیوں اور فاطمیوں کی لڑائیوں سے حج بیت اللہ ہی نہ ہوسکا۔ مزید برآں ۳۵۷ھ کو الماشری نامی بیماری اور ۱۸۳۱کو ہندوستان سے درآمد شدہ ہلاکت خیز وبا مکہ میں پھوٹنے سے حج کا موسم درہم برہم ہو ا۔ ۱۸۳تا ۱۸۵۸  تین باروبائی بیماریاں حج موقوف ہونے پر منتج ہوئیں ۔ ان نا گفتہ بہ واقعات پر رہزنوں کے ہاتھوں حاجیوں کی بڑھتی ہوئی لوٹ مار، موسم کی برہمی اور سیاسی اتھل پتھل، جنگ وجدل اور حج اخراجات میں اضافے جیسے اسباب کو بھی جوڑ یئے تو چودہ سوسال کی تاریخِ اسلام میں۱۹۳۲  تک کل ملاکر چالیس بار حج بیت اللہ براہ راست اور بلواسطہ متاثر رہا ۔ البتہ ۱۹۳۲ سے ۲۰۲۰  فریضۂ حج بلاناغہ جاری رہا مگر کووڈ۔ ۱۹ نے اس تسلسل کو پھر توڑ دیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلدازجلد عالم انسانیت کو مہاماری سے نجات دے اور حرمین الشریفین کی روح پرور زیارت کے تمام بند پڑے راستے کھول دے

 ؎ تیرے گھر کے پھیرے لگاتا رہوں میں

 سدا شہرِ مکہ میں آتا رہوں میں 

سند حج ِ مبرور کی لینے حاضر

 آقاﷺ  کی چوکھٹ پہ جاتا رہوں میں