تحریر  :- ماہ نور جمیل عباسی
سورج کی کرنیں جب زمین پہ پڑتی ہیں تو اپنے ساتھ حرارت بھی لاتی ہیں جو زمین میں موجود پودوں اور دیگر جانداروں کے لئے مفید ہے ۔ اس حرارت سے زمین کا درجہ حرارت معتدل رہتا ہے اور زمین زیادہ ٹھنڈی نہیں ہوتی ۔  یہ حرارت زمین سے ٹکرا کر قدرتی عمل سے  واپس پلٹ جاتی ہے جس سے زمین نہ تو زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے اور نہ گرم ۔لیکن جوں ہی  انسان نے قدرت کے ان اصولوں کو جانے انجانے میں نقصان پہنچانا شروع کیا  تب قدرت نے  اپنا بھیانک روپ دکھایا ۔ انسانوں کے عمل کا قدرت نے رد عمل  ایسا دیا کہ آج دنیا   ایک بڑی آفت کی زد میں ہے ۔ گلوبل وارمنگ یعنی زمینی درجہ حرارت میں حیران کن  اصافہ  ہمارے عمل کی وجہ سے آنے والا رد عمل ہے ۔
آئیے سمجھتے ہیں کہ اصل میں گلوبل وارمنگ کیا ہے ۔ اسکی وجوہات کیا ہیں ، اس کے نقصانات اور اس آفت سے کیسے بچا جا سکتا ہے ۔ 
سورج کی طرف سے آنے والی شعاعوں میں سے کچھ شعاعیں جانداروں کے لئے مضر ہوتی ہیں ۔  زمین کی سطح سے 15-30 کلو میٹر اونچائی میں خدائے ذوالجلال نے  ایک پرت ، ایک  شیلڈ نما سطح بنا رکھی ہے جس کو اوزون لیئر  کہتے ہیں  ۔ اوزون ایک ایسی کیس ہے جو سورج سے آنے والی زہریلی شعاعوں کو  فلٹر کر دیتی ہے اور  مفید شعاعیں ہی زمین کی طرف   آنے دیتی ہے ۔  زمین کی سطح  سے 23 میل  اوپر کی جانب  انسانی ایکشنز کی وجہ سے مختلف گیسوں مثلاً ( اوزون , کاربن ڈائی آکسائیڈ , میتھین ) اور دیگر گیسز  کی ایک تہہ جم جاتی ہے ۔ یہ تہہ زمینی ماحول کے لئے انتہائی مضر ہے ،  سورج کی شعاعوں کے ساتھ آنے والی حرارت عموماً واپس خلا کی طرف پلٹ جاتی ہے اور زمین کا درجہ حرارت  برابر رہتا ہے ۔ لیکن     زمین سے کچھ اوپر ان گیسوں کی تہہ  جم جانے کی وجہ سے یہ سورج سے آنے والی حرارت کو واپس خلا میں نہیں جانے دیتی ۔اور وہ حرارت زمین میں ہی رہتی ہے ۔اس طرح مسلسل سورج سے حرارت زمین کی طرف آتی  ہے لیکن  اس کے اخراج  کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔ جس کے باعث زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھتا چلا گیا اور آج ایک الارمنگ کنڈیشن میں لوگ زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں ۔ حرارت کے اس طرح دن بدن بڑھتے جانے کے عمل کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے ۔ اور یہ مین میڈ یعنی انسان کی پیدا کردہ آفت ہے ۔
اوپر کے اس پیراگراف میں ہمیں یہ پتہ چلا کہ گلوبل وارمنگ   خاص گیسوں کے خلا میں جم جان کی وجہ سے ہے ۔ یہ گیسز تو آج سے کئی سال پہلے بھی  زمین میں موجود تھیں ، زمین کا درجہ حرارت تب کیوں نہیں بڑھا؟    دراصل آج سے کئی سال پہلے زندگی بہت سادہ تھی انسان صنعتوں سے کوسوں دور ایک  سادہ لوح زندگی بسر کرتا تھا ۔  جس کی وجہ سے یہ گیسز نہ ہونے کے برابر تھیں ۔ جیسے جیسے انسان صنعتی انقلاب کی طرف بڑھا ، گاڑیوں کا دھواں ، جنگلات کا کٹاؤ ، ریفریجریٹر ز سے خارج ہونے والا کلورو فلورو کاربن یہ سب اور دیگر کئی عوامل اِن گیسوں کو وافر مقدار میں پیدا کرتے گئے اور یہ گیسیں ہمارے ماحول   کا حصہ بنتی گئیں ۔
درجہ حرارت کے خطر ناک حد تک بڑھنے کی وجہ سے لوگوں کا اس سیارے میں رہنا مشکل ترین ہو تا چلا جائے گا ، گلیشئرز پگھل جائیں گے ، جنگلات میں آگ لگنا شروع ہو گی ، سیلاب ،گرمی کی لہر سے لوگوں کی اموات ہوں گی ۔اور سب سے بڑی بات فصلوں کی تباہی جس سے انسان کو  خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
اس صورت حال کو روکنے کے لئے پورے عالم کو مؤثر اور ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے ۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے سے درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خوراک کی طرح استعمال کریں گے  ، صنعتوں   سے خارج ہونے والی گیسوں کے اخراج کو روکنا ہو گا  تاکہ کم سے کم گیسیں زمین سے خلا کی طرف جائیں اور زمین کے درجہ حرارت میں توازن آ سکے ۔
اگر ہم پاکستان پہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کی  مستقبل قریب  کی  جھلک دیکھیں  تو اُس سے یہ پتہ چلے گا کہ پاکستان کے پہاڑی سلسلہ کوہ ہمالیہ میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے ملک کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے۔ قومی ادارہ برائے اوشنو گرافی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اگر اسی طرح سمندر کی سطح بلند ہوتی گئی تو  آئندہ 35٫40 برسوں میں  کراچی کے ساحلی علاقے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اک تغیر کو ہے اس زمانے میں
دنیا میں تغیر روز اول سے ہوتا چلا آیا ہے لیکن ایسا تغیر جس سے آنے والی نسلوں کو سسکیوں ، بھوک افلاس ،اور تپش  کا سامنا کرنا پڑے روک دینا اچھا ہے ۔ حکومتی اور  علاقائی  سطح پر لوگوں کو اس اہم  مسئلے سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ ہر ایک شخص  محفوظ مستقبل کی عمارت   میں اینٹ لگا سکے ۔

Leave your comment !