تحریر–افضل ضیائی
بچپن کی حدود پھلانگ کر جب ھم لڑکپن میں داخل ھوئے تو تاریخ کے مطالعے میں مسلہء کشمیر محض سات سطروں میں دکھائی دیتا تھا ۔۔لگتا تھا کہ اھل کشمیر کی تاریخ کو دانستہ طور پہ “لکائی چھپائی” کےچکر میں رکھنے کی زمہ داری بعض قوتوں نے اپنے زمہ لے رکھی تھی ۔
تاریخ کشمیر کی پرانی کتابوں کی عدم دستیابی تھی اور نئی نسل اپنی قومی تاریخ سے بے خبری کے عذاب کو جھیلنے پہ مجبور تھی ۔ایسے میں تاریخ کشمیر کے اس گھپ اندھیرے میں دانستہ خواھش اور پورے عزم کے ساتھ ایک شخص اٹھا جس نے گمشدہ تاریخ کشمیر کو کھنگال کر اور اس کے تختوں سے برسوں کی پڑی گرد کو جھاڑپونچھ کر نسل نو کے ھاتھوں میں تھما دیا ۔
یہ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب جی ایم میر ۔۔۔۔۔۔
جو آج 30اپریل 2021،جمعتہ المبارک کو ماضی میں خطہء کشمیر کا حصہ رھنے والے ھزارہ کے خوبصورت شہر ۔۔۔ایبٹ آباد میں منوں مٹی کی چادر اوڑھ کر محو استراحت ھو جائیں گے ۔

ایسے لگتا ھے کہ ریاست جموں کشمیر کے تشخص کو تباہ کرنے اور اسکے جغرافیہ کو تقسیم کرنے کے ھندوستان کے پانچ اگست 2019 کے ناپاک اقدامات کو ممتاز کشمیری راھنما جناب امان اللہ خاں اور جناب جی ۔ایم میر کی حب وطن میں گندھی ھوئی روحوں نے قبل ازوقت بھانپ لیا تھا ، امان صاحب کی سرگرمیوں کا عمومی مرکز راولپینڈی اور جی ایم میر کا زیادہ تر میرپور رھا مگر مرنے کے بعد ایک نے گلگت و بلتستان (جسے جموں کشمیر سے الگ کرنے کا ڈول ڈالا جا رھا ھے) اور دوسرے نے پرانے کشمیر کے جنوب مغربی محاذ ۔۔(ایبٹ آباد ، خطہء ھزارہ )۔۔۔۔پہ مورچہ لگانے کا فیصلہ کیا تاکہ جموں کشمیر کی وحدت کا تحفظ کیا جا سکے ۔خیر اب اس کا انحصار جموں کشمیر کے عصر حاضر کے فرزندوں کی قوت مزاحمت پر ھے

جناب جی ایم میر جموں کشمیر کی تاریخ و کلچر کے بیدار مغز مورءخ اور عالم تھے ۔انہوں نے جموں کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک بے مثال مورءخ ،عظیم سیاسی مفکر اور بطور دانشور کے جو کردار ادا کیا وہ ھمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔۔
جناب جی ایم میر !
آپ وطن کی آزادی کا جو خواب آنکھوں میں سجائے خلد بریں کو روانہ ھو رھے ھیں اس خواب کی تعبیر انشاء اللہ ھماری آئیندہ نسلیں ضرور دیکھیں گیں ۔۔۔
اے کشمیر کی نسل نو کو تاریخ لوٹانے والے !
فل وقت ھماری عقیدتوں کے پھول آپکے ساتھ سفر آخرت پہ روانہ ھونگے ۔ یہ پھول ھمیں آپکا پیام یاد دلاتے رھیں گے کہ ۔۔۔

مرد کہسار سن،آگ کے پھول چن
خم نہ ھو سر ترا،دشمنوں پر ترا
خوف طاری رھے ،جنگ جاری رھے

دیکھ لے تیرا چہرہ ،وادی تری
ھو عروس شہادت سے شادی تری
چاھتا بھی ھے تو ،پھر تری آرزو
کیوں کنواری رھے ،جنگ جاری رھے