July 7, 2022

     خسارے سے کنارے تک- تحریر : فوزیہ تاج

فوزیہ تاج
 زندگی کی طویل و کٹھن  شاہراہ پر سفر کرتے سمے  منزل مقصود کا تعین پہلے سے کر لیا جاتا ہے. بسا اوقات بے سمت چلتے آپ کو ایک عمر ہو جاتی ہے اور زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ منزل پر پہنچ جانے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ آپ تو غلط گاڑی پہ بیٹھ گئے تھے. جہاں سے واپسی کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں. پھر آپ کی زندگی کی ناؤ……. تا عمر بیچ بھنور کے پھنسی رہتی ہے…… انسان اس منجدھار سے نکلنے میں ایک عمر تیاگ دیتا ہے اور اس خسارے سے کنارے تک آنے میں ساری ریاضت بے کار چلی  جاتی ہے.
            جس طرح درختوں کے سائے، پگھلتے ہوئے سورج کے ساتھ ساتھ بڑھتے اور  گھٹتے رہتے ہیں. ایسے میں گہرے ہوتے سایوں کے ساتھ دور جاتے رستے………. قریب آنے کی کوشش میں مذید دور ہوتے چلے  جاتے ہیں.اسی طرح انسان سایوں کا پیچھا کرتے کرتے، جب تھک ہار کے ایک مقام پہ آ بیٹھتا ہے تو آخر دم…… اس پہ یہ عقدہ کھلتا ہے کہ وہ تو اپنے ہی سائے پہ دسترس نہیں رکھتا………….. تو دوسروں کا پیچھا کرنا….. کجا معنی……..؟؟ نوک زباں پہ رکھا زندگی کا  پرفریب ذائقہ….. اب اسے کڑوا محسوس ہونے لگتا ہے اور پھر……. وہ مستعار لی گئی سانسیں بھی…….. گن گن کر گزارنا شروع کر دیتا ہے.
         تم بھی جب صحرا میں ٹنڈ منڈ کھڑے درختوں کے سایے میں، میری طرف بڑھنے کی کوشش کرو گے تو میں صحرا میں دکھائی دینے والا سراب بن جاؤں گی……… ہر بار قریب آنے کی کوشش تمہیں مجھ سے اور بھی  دور کر دے گی تو تمہاری اور  اس راہ گیر کی حالت میں کوئی خاص فرق نہ ہو گا جو پیاس سے نڈھال ہو کے جھلساتی ہوئی دھوپ میں ایک لمبی مسافت طے کر کےصحرا میں پانی تلاش کر رہا ہوتا ہے. کہیں دور نظر آنے والے چشمے کو دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے مگر…….. سامنے دکھائی دینے والا وہ چشمہ……. چشم زدن میں…… بھاگ کر اس بچے کی مانند دور آ کھڑا ہوتا ہے ( جو ساتھیوں کے ساتھ  لکن میٹی کھیل رہا ہوتا ہے اور جان بوجھ کر سامنے آنے کے بعد پھر کہیں جا کے چھپ جاتا ہے) .پیاس کی شدت زبان پہ چھالے ڈال دیتی ہے . پاؤں سے لپٹی دھول اور سر پہ پڑی خاک، دامن میں گلاب سجانے  کے بجائے، بدن میں خار اگا دیتی ہے .  وصل کی مالا پہننے کے بجائے غم فراق کا طوق گلے میں پڑا رہتا ہے  . یہ دردناک سفر آنکھوں میں خواب کے بجائے عذاب بھر دیتا ہے.
                پھر  وہ ٹوٹی ہوئی آس اور پیاس کی شدت سے، سوکھتے ہوئے لب لے کر سامنے دکھائی دینے والے چشمے کی طرف بے قراری سے بڑھتا ہے …. مگر چشمے کے پاس پہنچتے ہی چشمہ آگے ہی آگے……. سرکتا چلا جاتا ہے……. خواب سے سراب تک کا رستہ پھر  اسے اپنے آپ سے ملا دیتا ہے. باہر کی طرف اسکی کھوج ختم ہو جاتی ہے.
             کئی دفعہ منزل کی کھوج اسے خود سے ہی بے گانہ کر دیتی ہے اور وہ…….. اپنے ہی اندر ڈیرے ڈال دیتا ہے. اپنے وجدان سے آ گہی اس پہ طلسم ذات کے در وا کر دیتی ہے جن سے وہ قبل ازیں نابلد ہوتا ہے………….. اپنی ذات کے نہاں خانے جب اس پہ آشکار ہوتے ہیں تو وہ جان لیتا ہے کہ باہر کی دنیا فقط ایک دھوکہ ہے…….مکر و فریب ہے، اک ایسا سراب ہے جس کا سرا کبھی ہاتھ نہیں آتا.
           اب پاؤں میں چبھے  خار………..اس کے بدن کا حصہ بن جاتے ہیں. آبلے اب اسے تکلیف نہیں دیتے. اور بالآخر…… وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں…….. دونوں ہاتھوں میں ٹھنڈے میٹھے پانی کے بجائے………… تپتی ہوئی ریت بھر کر پیاس سے ہلکان ہوتی زبان پہ رکھ دیتا ہے. (کیا قربت کا تصور……… اتنا جاندار ہوتا ہے) کہ سورج کے آہنی نیزے، ست رنگی دھنک میں رم جھم برستی پھوار بن جاتے ہیں. جب انسان دنیا و مافیا سے لاتعلق ہو کر اپنے آپ  ہی سے لو لگا لیتا ہے کیونکہ…… باہر بسنے والا تو رفتہ رفتہ….. ذات کے اندر سانس لینے لگتا ہے. انسان، من و تو کی الجھنوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے. یہ عشق ہی تو ہے جو قرب محبوب چاہتا ہے اور یہ خواہش وصل ہی ہے جو زمین سے اٹھا کر وجود خاکی کو………… عرش معلیٰ پہ بلا لیتی  ہے اور منزل مقصود مل پائے یا نہیں خسارے سے……. کنارے تک…… کے سفر میں عشق امر ہو جاتا ہے…!!

Leave your comment !

Close