تحریر : فوزیہ تاج 

وہ  ایک  دس  گیارہ سالہ  بچہ  تھا.  بوسیدہ  چپل ، پھٹے  پرانے کپڑے  چہرے  پر رنج و الم  کی طویل  داستان  رقم  تھی. جو سنائے بغیر ہی پڑھی جا سکتی تھی. بعض اوقات  دکھ  بیان  کرنے  کیلے الفاظ  کی ضرورت  نہیں  رہتی بلکہ انسانی رویہ ،حلیہ اور اس کے تاثرات  چیخ  چیخ  کر  اس  پہ گذرے حالات و واقعات کی نشاندہی کر  رہے ہوتے  ہیں . میں   نے  اسے  کمرہ ملاقات  کے  باہر جالیوں سے سر ٹکائے دیکھا  تھا . اکیلا بچہ…. . یہاں کس  لئے  آیا ہے. اسی سوچ میں  وہاں سے  کافی  آگے تک چلی  آئی تھی. مگر دل  کچھ  بے چین  سا ہو رہا تھا  تو واپس پلٹ آئی. 

        بچہ ابھی تک ادھر  ہی کھڑا  تھا. میں  نے وہاں  ڈیوٹی پر موجود بندے سے پوچھا کہ یہ بچہ کس کے ساتھ آیا ہے. اس نے کہا کہ وہ اکیلا ہے،. ساتھ  کوئی نہیں. ماں سے ملنے آیا ہے لیکن  اسکے پاس تو  شناختی کارڈ  ہی نہیں تو کیسے ملاقات دیں. 

         میں نے بچے کو پاس بلایا تو وہ ڈر گیا. پھر جب اسے پتہ چلا کہ اسکی ماں میرے پاس ہے تو بے قراری سے میرے قریب آگیا. مجھے میری ماں سے ملنا ہے. ایک دم ہی بولا تھا. مگر  تم  یہاں کس کے ساتھ  آئے  ہو؟ پچھلے دو  تین سالوں  سے  میرا بڑا بھائی آتا تھا میرے ساتھ. مگر ….. اب وہ کبھی نہیں آ سکے گا یہاں……. کیوں بچے…. کیوں  نہیں آئے  گا وہ یہاں….؟  کیونکہ وہ مر چکا  ہے. اس کا ایک  ٹرک کے  ساتھ  ایکسیڈنٹ ہو گیا  تھا. تب ہی ہم پانچ مہینے سے نہیں  آئے ماں کی ملاقات کےلئے. بچے کے منہ  سے یہ بات سن کر میرا دل کانپ گیا. 

         میں نے جب ماں کا نام وغیرہ پوچھا تو عورت کو پہچان چکی تھی. وہ  اور اس کا  شوہر  دونوں جیل میں تھے. یہ بچہ اپنے  بڑے  بھائی کے ساتھ ماں  باپ سے ملنے پچھلے کئی سال سے آ رہا تھا. چونکہ  بڑے بھائی کے پاس اپنا شناختی کارڈ تھا اس لئے ان دونوں کی اپنے ماں باپ سےملاقات  ہو  جاتی تھی . لیکن  آج وہ ایک نئی بات بتا  رہا تھا. 

       آج سے پانچ ماہ قبل اس کابڑا بھائی حادثے میں جاں بحق ہو گیا تھا. اس کے ہاتھ میں بڑے بھائی کا شناختی کارڈ  اٹھایا تھا. مگر تم  اب رہتے کہاں ہو اور یہاں  تمہیں کون لایا ہے.. میں اور بھائی چاچا کے ساتھ رہتے تھے. بھائی  ہوٹل  میں کام  کرتا تھا اور  میں  اس کی  مدد کرتا  تھا. اب  بھائی  مر  گیا  تو میں اس کی جگہ کام کرتا ہوں. میں ماں کے لئے پیسے بھی لایا ہوں. اس نے جیب سے پانچ سو روپے کا نوٹ نکالا. مگر تم یہاں تک کیسے پہنچ  گئے.میں اکیلا  آیا  ہوں. مجھے  راستے  کا  پتہ تھا.  دس گیارہ سالہ بچہ ایک شہر سے دوسرے شہر.. اتنا طویل سفر کر کے اکیلا  آیا  تھا. سوچ  کر  ہی کلیجہ منہ کو آ  گیا. بچے  کے  کپڑے ، جوتے ، پانچ   سو  کا  نوٹ ، بھائی کا شناختی کارڈ  جو  کہ  اب   اس دنیا  میں  نہیں  تھا. چہرے  پر ٹھہری  بے چارگی اور اپنی عمر  سے کہیں زیادہ  پختگی……….. میرا  ضبط جواب  دے گیا. زندگی میں  بہت  سے  اذیت ناک  منظر دیکھے ہیں. یہ منظر بھی دل و دماغ میں قید ہو گیا. 

             اسی لئے وہ عورت  کچھ دن قبل کہہ رہی تھی کہ پتہ نہیں  کیوں چار  پانچ  ماہ  سے میرے بچے ملاقات  کے لئےنہیں آرہے.پھر خود کو ہی تسلی دیتے ہوئے بولی تھی کہ میرا بڑا بیٹا اپنے چاچا کی لاری کے  ساتھ چلا جاتا ہے، ہو سکتا ہے ادھر گیا ہو. خیر بات آئی گئی ہو گئی تھی. 

              میں نے بچے سے کہا کہ تمہاری  ماں تم  لوگوں کیلئے بہت  پریشان تھی. بچے نے صدمے  سے میری طرف  دیکھا.کیا نہیں ہو سکتی میری ملاقات… میں نے کہا ہو تو جائے گی مگر  تمہیں ایک  وعدہ کرنا  ہو  گا  میرے ساتھ. – جی بتائیں.اس  نے فوراً پوچھا. تم ماں کو اپنے بڑے بھائی کی موت کے بارے  میں نہیں بتاؤ  گے……. وہ  گہری  سوچ  میں  پڑ   گیا. دیکھو  وہ جیل میں  ہے  اور  بیٹے کی  موت  کا سن   کر  اس  سے جیل کاٹنی  مشکل ہو  جایے گی. جب  وہ  باہر  آئے گی تو اسے خود ہی پتہ چل جائے گا – مگر جب وہ پوچھے کہ وہ کیوں نہیں آیا.اب کی بار میں سوچ میں پڑ گئی – تم کہہ دینا  کہ وہ چاچا کے ساتھ دوسرے شہر گیا ہے. اس  نے کہا  ہاں یہ  ٹھیک ہے  ویسے  بھی  بھائی چاچا   کے ساتھ اکثر لاری پہ چلا جاتا ہے… میں بھی  سوچ رہا  تھا کہ ماں کو  کیسے بتاؤں گا بھائی کے بارے میں…. .اچھا  ہوا کہ  مجھے  آپ  مل  گہیں . میں   نے   وارڈرز   کو  سختی  سے ہدایت کی کہ کسی صورت بھی اس  کی ماں کو  بیٹے  کی موت کے بارے میں آگاہ نہیں کرنا. 

               اس عورت  کی اپنے  بیٹے سے  ملاقات ہو  گئ اس کے ساتھ  گئی وارڈر  نے واپسی پر مجھے رپورٹ  دی  کہ  انتہائی اعتماد کے  ساتھ  اس  بچے نے  اپنے بھائی  کے بارے   میں  ماں  سے  سچائی  چھپائی  اور  جب  ماں  نے   اس  نے پوچھا  کہ تم ادھر اکیلے کیسے آ گئے ہو تو وہ کہنے لگا کہ  بھائی نے  گاڑی  پہ   بٹھا  دیا  تھا . جب وہ  عورت ملاقات  سے واپس آئی تو میں نے اسے  بلوا کر  بچوں کی خیریت  وغیرہ دریافت کرنے کے  بہانے، چھان  بین کی  کہ کہیں کمسن بچے سے پردہ پوشی نہ  ہو سکی یو. مگر  وہ  انجان تھی. آنکھیں دکھ  اور خوشی سے ملے جلے جذبات  سے لبریز  تھیں… ایک  بچے  سے  ملاقات  کی خوشی اور دوسرا…… مل کر پھر بچھڑ جانے کا دکھ………. 

            ساری خواتین  اس کے ارد گرد جمع تھیں اور  وہ  خوشی اور جوش سے سب کو بیٹے کے ساتھ  ملاقات  کی تفصیل  بتا رہی تھی. پورے پانچ سو  روپے لے  کے  آیا ہے  میرے لئے.. فخر سے دوسری خواتین کو دکھاتے ہوئے بولی. 

ہوٹل پہ کام  کرتا ہے. بڑا نہیں آیا ساتھ میں. وہ چاچے کے ساتھ  گیا ہے……. اسی  لئے فون  بھی نہیں کر  رہا تھا. وہ  بھی آیے گا اگلے  مہینے میری ملاقات کے لئے. میں  اس کے  چہرے کی طرف  نہیں دیکھ پا رہی تھی. 

.میں نے چور  نظروں سے سب کی طرف  دیکھا. مگر  کسی کو کچھ خبر  نہیں تھی. اس کا  دس  سالہ  بچہ شاید  پردہ پوشی اور ضبط  غم  میں  ہم  سب  پہ بازی  لے  گیا  تھا . لاعلمی  بھی بعض  اوقات  کتنی بڑی نعمت  ہوتی  ہے. اگر تھوڑی دیر قبل اسے اصل حقیقت معلوم  ہو جاتی تو  ابھی صورتحال  یکسر  مختلف  ہوتی . وہ   عورت   خوشی  کے  ساتھ  پورے  صحن  میں  ناچتی پھر  رہی تھی.اور بار بار ایک ہی  بات دہرا  رہی تھی کہ  اس کا بیٹا اگلے مہینے آئے گا…… ابھی وہ لاری کے ساتھ گیا ہے…… 

               دل  نا امید  تو  نہیں،  ناکام  ہی  تو  ہے. 

               لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے