ڈاکٹر فضیلت بانو

ڈاکٹر فضیلت بانو کا شمار مشہور ادبی شخصیات میں ہوتا ہے،وہ افسانہ نگار،شاعرہ، تحقیقی وتنقیدی مزاج رکھنے والی ایک عظیم اسکالر ہونےکے ساتھ ساتھ درس و تدریس میں بھی اپنا ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں لکھتی ہیں۔منہاج یونیورسٹی لاہورمیں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور صدرِ شعبہ اردو ہیں۔پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر چکی ہیں،شادی کے بعد ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہو گئیں۔سکول اور کالج کے دورمیں بہت لکھا مگر شائع نہیں کروایا۔سکول کے زمانے میں اردو کے پریڈ میں نصابی کہانیوں کی بجائے اپنی لکھی ہوئی کہانیاں سناتی تو اساتذہ اور ہم جماعت سب بہت پسندکرتیں اس حوصلہ افزائی سے کہانیاں لکھنے کا اعتمادپیدا ہوا۔۲۰۰۸ء سے پھول میں باقاعدگی سےلکھنا شروع کیا۔بچوں کے لیے اخلاقی اور سبق آموز کہانیاں لکھنے میں ان کا اپنا ایک انداز ہے۔ان کی تمام کہانیاں انعام یافتہ ہوتی ہیں،

بچوں کے ادب کی ایوارڈ یافتہ مصنفہ ہیں۔بچپن میں ریڈیو سے بچوں کے پروگرام سننے کا شوق تھابڑے ہو کے انھی پروگراموں کی مہمان بنیں۔ اپنے پورے تعلیمی دور میں ایک اچھی مقررہ،سکول میں بزم ادب اور کالج میں اردو ادبی سوسائٹی کی صدر رہیں۔مختلف ٹی وی چینلز کےادبی پروگرامز میں ان کے انٹرویوز آ چکے ہیں،ان کی اب تک نثر کی پانچ اور شاعری کی دوکتابیں شائع ہو چکی ہیں۔بیسٹ ٹیچر، بیسٹ ماسٹر ٹیچر ٹرینر اور بیسٹ مدر کا ایوارڈ حاصل کرچکی ہیں۔ منہاج یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹرفضیلت بانو نے ۲۰۲۱ء کے بیسٹ ٹیچر ایواڈ میں پہلی پوزیشن حاصل ک  ایک لاکھ روپے  سرٹیفکیٹ اور شیلڈ حاصل کی۔ا ن کی بچوں کی کہانیوں کی کتاب ’’مہکتے پھول‘‘بھی ایوارڈ یافتہ ہے اس کتاب پر انہیں نے  پروین سرو ربیگم گورنر پنجاب کے دست مباک سے  ۱۰۰۰۰ نقدکیش،سرٹیفکیٹ اور شیلڈ وصول کی

۔حال ہی میں بچوں کے لئے  سیرت پاک پہ لکھی گئی پنجابی کتاب ’’پیارے بالاں دا پیا را رسول‘‘ کو’’علی ارشد میر‘‘ ایوارڈ دیا گیا۔مختلف لٹریری اور ایجوکیشنل اورگنائزیشنز کی طرف  سے بیشمارادبی اور ٹیلنٹ ایوارڈز اور تعریفی اسنادحاصل کر چکی ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح کی ادبی  وتعمیری کانفرنسزاور اکادمی ادبیات اطفال کی اب تک ہونے والی تمام کانفرنسز کی روح رواں ہیں۔بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے ادب سے بھی وابستہ ہیں،  ا ردو اور پنجابی میں خوبصورت اور منفرد افسانے لکھتی ہیں بقول ڈاکٹر انوار احمد’’ان کے افسانوں میں زینب عبدالقادر کے افسانوں کا عکس نظر آتاہے۔ بچوں کے لیے پھول میگزین میں اردوکہانیاں اور لہراں میں پنجابی کہانیاں باقاعدہ سے چھپتی ہیں۔

Leave your comment !