July 7, 2022

کاہے کو  بیا ہی بدیس  /تحریر  فوزیہ  تاج

افسانہ نگار  : فوزیہ تاج

اسکی شادی کو پندرہ سال بیت گئے تھے. پانچ بچوں کا ساتھ، بھری پری سسرال اور ایک بدمزاج، چڑچڑا، سخت گیر  قسم کا شوہر (جو ایک اکیلا ہی سو ساسوں پہ بھاری تھا) شکر ہوا کہ اسکے والدین نے اچھے وقتوں میں اسے پڑھا لکھا دیا تھا ورنہ حالات اور بھی دگرگوں ہوتے. گھریلو حالات کی وجہ سے اس نے ادھر ادھر نوکری کے لیے ہاتھ پاؤں مارے اور اللہ نے کرم کیا کہ کچھ ہی عرصہ میں وہ بحیثیت لیکچرر ایک کالج میں پڑھا رہی تھی۔عزت کے ساتھ وقت گزر رہا تھا مگر اسکی عزت اسوقت دو کوڑی کی بھی نہ رہتی جب اسکا شوہر سب کے سامنے اسکی عزت کا جنازہ نکال دیتا۔

        زندگی کے سفر میں کانٹے ہی کانٹے تھے۔اسکے پاؤں چھلنی تھے۔ گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ مالی مسائل سے بھی نپٹتے وہ اکثر ہمت ہار جاتی ۔اب کے تو اسکے شوہر نے حد ہی کر دی۔ الماری سے اسکے زیور، بغیر اس سے پوچھے، اٹھا کر بیچ ڈالے اور تو اور اسکی محنت سے جمع کی گئی رقم جو وہ اپنا اور بچوں کا پیٹ کاٹ کاٹ کر رکھتی رہی تھی، وہ سب بھی چھین کر لے گیا۔.

        وہ صدمے سے چور بیٹھی تھی.آج اسکے گھر میں کام کرنے والی ماسی کی بھی اپنے شوہر سے کسی بات پہ لڑائی ہوئی تھی اور وہ نہ صرف پورے محلے میں سب کے سامنے اعلان کرتی پھر رہی تھی بلکہ چیخ چیخ کر اسے کوسنے اور بدعاییں دے رہی تھی۔ ان پڑھ  اور گمنام ہونا بھی بعض اوقات کتنی بڑی نعمت بن جاتا ہے. کم از کم کتھارسس تو ہو گیا اس کا۔ تعلیم کے میدان میں بڑی بڑی ڈگریاں لینے والوں کے تمام دکھ ان کی ڈگریوں کے انبار تلے ہی دب جاتے ہیں۔.

               کالج میں کولیگز نے بہت پوچھا کہ وہ آج خاموش کیوں ہے مگر اس نے زبان نہ کھولی۔ اپنا منصب اسے زبان بندی کا درس دے رہا تھا۔ گھر میں بچے پوچھتے رہے کہ آخر وہ آج اتنی خاموش کیوں ہے (گو کہ سنجیدگی اور خاموشی اسکی شخصیت کا خاصہ بن چکی تھی) بچوں کو اپنے دکھ میں کیسے شریک کرتی۔ وہ ناحق پریشان ہو جاتے۔ پڑوسن چلی آئی… ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی، خیریت تو ہے نا  تم کچھ پریشان لگ رہی ہو۔ اس نے ہنس کر ٹال دی۔.

       شام میں اپنے والدین کے گھر چلی آئی۔ بھابیوں اور بھائیوں سے تو بات کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک بات کی سو باتیں بن جائیں گی اور طرح طرح کی وضاحتیں دینی پڑ جائیں گی۔ دو شادی شدہ بہنیں بھی گھر آئی ہوئی تھیں۔ جب اپنی ماں جائیوں سے مل بیٹھی تو دل بہت کیا کہ ان سے اپنے سارے دکھ بانٹ لے، وہ اپنے اپنے گھریلو حالات کا تذکرہ ایک دوسرے سے کر کے دکھ بانٹ رہی تھیں. نہیں…. ہرگز نہیں… ان کو بھی ہرگز کچھ نہیں بتائے گی. (اگر آپ کسی کا دکھ کم نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے اپنے دکھ بتا کر مزید دکھی نہیں کرنا چاہیے.) اب وہ والدہ کے کمرے میں براجمان تھی۔ ان سے ان کی بیماری کا حال پوچھ رہی تھی۔ شوگر، بلڈ پریشر، گھنٹوں کے درد کے ساتھ ساتھ وہ بھائیوں کی لاپرواہی اور بہوؤں کے تلخ روئیے کو بھی رو رہی تھیں….. نہیں وہ ماں کو بھی کچھ نہیں بتائے گی… کیا ماں اس لئے اپنی اولاد کو جنم دیتی ہے کہ ساری عمر  دکھ بھر بھر کے اسکی جھولی میں ڈالے جائیں۔ ماں اسکی آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔ تو بڑی خاموش ہے۔کبھی کچھ کہتی، بتاتی نہیں… نہ بہنوں کو… نہ مجھے. جواباً وہ بآواز بلند ہنسنے لگی… اماں! میری  بہت خوشی سے گزر رہی ہے. ایسا کچھ ہے ہی  نہیں جو میں بتاؤں… ماں اسکی ہنسی سن کر خوفزدہ ہو گئی۔.

         وہ بیگ اٹھائے گھر جانے کو تیار بیٹھی تھی. جاتے جاتے کونے والے کمرے میں پڑے اپنے  الزائمر اور ڈیمینشیا کے مریض، عمر رسیدہ  اور معذور باپ کے پاس چلی آئی۔ وہ ایک ٹک چھت کو گھورے جا رہے تھے.۔جب بھی وہ گھر آتی، کبھی وہ فوراً پہچان لیتے اور گلہ بھی کرتے کہ تم نے بہت عرصے بعد چکر لگایا ہے اور کبھی بہت یاد کروانے پہ بھی انھیں یاد نہ پڑتا کہ وہ ان کی بیٹی ہے۔.           آج بھی وہ اسکے چہرے کو بغور دیکھ رہے تھے. شاید اسکو پہچاننے کی کوشش یا اسکے چہرے پہ لکھی بے چارگی کی تحریر…… اسکا ضبط جواب دے گیا تھا… ابو میں ہوں آپ کی پیاری بیٹی…. ابو… کوئی ایسا نہیں جو میرا دکھ سمجھے ساری دنیا میں صرف آپ ہی ہیں… جو میرا دکھ سن کر کسی کو نہیں کہیں گے، مجھے کوئی طعنہ نہیں دیں گے… ابو میں تھک چکی ہوں… وہ باپ کے سینے پہ سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رہ رہی تھی… برسوں سے جمع شدہ لاوا بہہ نکلا تھا… اور وہ بوڑھا، جو تھوڑی دیر پہلے اس سے پوچھ رہا تھا کہ وہ اسکی کیا لگتی ہے… اسکے سر پہ ہاتھ پھیر رہا تھا.وہ سب اسے چپکے سے سنا کر جب کمرے سے باہر آنے لگی تو ایک نظر مڑ کے ان کے چہرے کو دیکھا… پہچان اور اسکے دکھوں کا ادراک ان کے چہرے پہ رقم تھا… آنکھوں کے کنارے بے بسی کے دو آنسو اٹکے تھے۔اسے اپنا بچپن یاد آ گیا جب وہ کسی بات پہ روتی ابو کے پاس آتی تھی تو اس کے بے تحاشہ رونے پہ سینکڑوں سوالات کر ڈالتے…… کیا ہوا….. کیوں رو رہی ہو، کیا ماں نے ڈانٹا،کیا گھر کی کوئی چیز توڑ ڈالی  تم نے، کیا بہنوں سے لڑائی ہوئی… وہ بدستور روئے جاتی…. وہ پھر خود اندازہ لگاتے، اچھا تو ضرور بھائی سے کوئی جھگڑا ہوا ہے اور جب آخر میں معمولی سی کوئی بات نکلتی تو وہ قہقہہ لگا کر اسے اپنے سینے سے لگا لیتے… یہ بھی کوئی رونے کی بات ہے. اتنی چھوٹی باتوں پہ اسطرح نہیں رویا کرتے. وہ ماضی سے پھر حال میں آ چکی تھی۔ واقعی ابو نے سچ کہا تھا کہ عمر بھر بہت بڑے بڑے دکھوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نہایت بہادری سے…. اس نے آنسو پونچھ ڈالے، اسکا چہرہ شدید بارش کے بعد دھلے آسمان جیسا ہو گیا. وہ والد پہ الوداعی نظر ڈال کے کمرے سے باہر آ گئی. بہنوں کو مشورے دییے، والدہ کو ان کی بیماری کے متعلق نصیحتیں کیں،  بھائی بھابھی اور ان کے بچوں سے ہلکی سی گپ شب لگائی… اور رخصت ہوتے وقت وہ بالکل ہلکی پھلکی تھی…… اسے کیا معلوم کہ وہ جاتے سمے….. اپنے سارے دکھ درد اپنے الزائمر زدہ،  باپ کی جھولی میں ڈال آئی تھی…. کہ بیٹی کے آنسوؤں نے اسکے شعور و لاشعور کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا

Leave your comment !

Close