تحریر : ش م احمد

  رواں ماہ کی۱۲ ؍تاریخ کو سری نگر کشمیر کے ٹیگور ہال اورآئی کے ایس ایس میں متنازعہ فیشن شوز منعقد کرائے گئے ۔ وادی میں گرچہ اس نوع کی تقریب دوسال قبل منعقد ہونا بعید از قیاس تھا مگر اب ان چیزوں کی شروعات سے تبدیلی ٔ ہوا کا اشارہ ملتاہے ۔شو کی مخالفت میں عوامی ردعمل کا ویسا عشر عشیر بھی سامنے نہ آیا جومثلاً ۷ ؍ستمبر ۲۰۱۳ کو اُس وقت دنیا نے دیکھاجب جرمن سفارت خانہ نئی دلی کے تعاون سے شہرہ ٔ آفاق ڈل کنارے واقع مغل گارڈن شا لیمار باغ سری نگر میں بھارتی نژاد جرمن موسیقار ذوبین مہتا کا میوزیکل کنسرٹ بعنوان

 ’’حقیقت ِکشمیر‘‘ ہواتھا ۔ سرکاری سطح پر منعقدہ اس محفل موسیقی میں ذوبین کے ہمراہ ۹۸  سازندروں اور بعض مقامی موسیقاروں نے شرکت کی تھی۔ اس ہائی پروفائل میوزیکل شو سے نئی دلی میں تخت نشین کانگریس کشمیر میں ’’امن اور نارملسی کی بانسری ‘‘ بجاکر اس کا کریڈٹ آنےو الےقومی انتخابات میں لینا چاہتی تھی۔ شالیمار کی تقریب میں  وقت کے گورنر این این ووہرا، وزیراعلیٰ عمرعبداللہ ، این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر مفتی سعید ، اُن کی سیاسی جانشین محبوبہ مفتی اوردوہزار کے قریب چنیدہ سیاسی چہرے اور اعلیٰ سرکاری افسر بطور مہمان مدعوتھے ۔ حریت کا نفرنس نے ذوبین کنسرٹ کو کشمیریوںکی سیاسی جدوجہد کےخلاف منصوبہ بند سازش قرار دیا تھااوراس کے خلاف ایک روز ہ ہڑتال بلائی تھی۔مغل گارڈن اور ڈل کے گردونواح کی تمام بستیاں حفاظتی بندوبست سے کئی دن تک گویا فوجی محاذ میں بدل چکی تھیں ، یہاں پرندے کو پر  بھی مارنے کی اجازت نہ تھی ۔ پورےسری نگر میں شو کے دن ہُوکاعالم چھا یا رہا ۔ صورت حال کی گھمبیرتا محسوس کر کے ذوبین  مہتانے اگرچہ اپنے شو کو سیاست سےبالاتر ، موسیقی کو پیار کی زبان ، اپنا اگلا پروگرام سری نگر کے اسٹیڈیم میں کر نے کا دعدہ دیا مگر عوامی سطح پرشالیمار شو کے حوالے سےشکوک وشبہات اور چہ مہ گوئیوں کا بازار گرم رہا ۔ یہ محسوس کر کے کہ سرکاری محفل موسیقی سے کشمیر کے بارے میں سر کاری بیانئے کو پذیرائی نہ ملے ، اس خیال سے کشمیرکی بعض ادبی، علمی اور بشری حقوق سے متعلق فعال شخصیات جنگی پیمانے پر سرگرم ہوئیں،انہوں نے سول لائنزسری نگر میں واقع ایک پارک میں’’حقیقت ِکشمیر ‘‘ کے عنوان سے اپنا جوابی ایونٹ منظم کر نے کابیڑا اٹھایا ۔ انتظامیہ کی لیت ولعل کے باوجود وہ اپنی جوابی تقریب منظم 

کر نے کااجازت نامہ انتظامیہ سے حاصل کر نے میں کامیاب رہے۔ معروف شاعر اور سماجی اصلاح کار ظریف احمد ظریفؔ ، شکیل قلندر، پروفیسر حمیدہ نعیم ، ڈاکٹر جاوید اقبال اور اُن کے دیگر رفقا نے اہلِ کشمیر کے اصل درد کو اُجاگر کر نے کے ضمن میں بہ عجلت اپنی جوابی محفل سجائی۔ اس تقریب کو محفل ِنوحہ کہنا مناسب ہوگا کیوںکہ اس میں کشمیریوں کے عصری المیوں ، دُکھوں اور مشکلوں کی ناگفتہ بہ کہانیاں کچھ شعروشاعری اور تقاریرکی زبانی اور کچھ تصاویر کے ذریعے سنائی گئیں۔ 

       سردست گزشتہ دنوں کشمیر میں فیشن شو ہو ا۔ اسے اپنی نوعیت کا پہلا ایونٹ مانا جاسکتاہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی این جی او نے اسے منظم کیا تھا ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ اکیلے ایک غیر سر کاری انجمن کا

’’ کارنامہ‘‘ نہیں ہوسکتا، اس کے پیچھے طاقت ور غیبی طاقتوں کی آشیرباد ضرور ہے۔ اخباری اطلاعات کی مانیں تو ٹیگور ہال کےفیشن شو میں کوئی تیس سے زائد مردوزَن فیشن ریمپ پر جلوہ گر ہوئے۔ان میں مبینہ طور مقامی ماڈلز اور فن کاروں کےعلاوہ شو بز سے تعلق رکھنے

و الے جج صاحبان شر یک ِمحفل بتائےگئے۔ شو کامقصد بقول ِ منتظم ِ تقریب یہ تھا کہ جو مقامی نوجوان ماڈلنگ اورہالی وڈ کی چکا چوندی میں قسمت آزمائی کر نا چا ہتے ہوں ، اُن کے لئے فیشن شو ایک پلیٹ فارم ہے۔ اس نے شو کی مخالفت میں اُٹھی ایک نحیف نسائی آواز کے بارے میں کہا کہ یہ ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ اُدھر فیشن شو پر اپنی ناراضگی جتانے کے لئے باحجاب نوعمر لڑکیوں نے ڈل کنارے واقع ہوٹل سنٹور سری نگر میں ایک خاموش احتجاجی جلوس نکالا۔ شرکا نے اپنے ہاتھوں میں حجاب حامی کتبے اُٹھا رکھے تھے۔ جلوس کو پولیس نے آگے بڑھنے سے روک تو دیا، البتہ سوشل میڈیا پر فیشن شومخالف پروٹسٹ وائرل ہوا۔احتجاجی جلوس میں ایک باپردہ لڑکی نے اپنے

و یڈیو پیغام میں مظاہرے کی غرض وغایت بتائی۔ موصوفہ نے سورہ آل عمران کی آیت ۱۱۰ ؍ کی تلاوت کی، جس میں مسلمانوں سے مخاطب ہوکر اللہ فرماتا ہے : تم خیرِ اُمت ہو ، جنہیں لوگوں کو بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے رو کنے کے لئے معرض ِ وجود میں لایاگیا ہے اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔ 

 باپردہ خاتون نےاپنے موقف کی مزید وضاحت میںکہاکہ اہل ِایمان نکلیں اور لوگوں کو منکرات ، فاحشات اور برائیوں سے روکیں ۔   انہوں نے کہا کہ بتایا تویہ جاتا ہے کہ جاری فیشن شو فقط لباس کی تراش خراش تک محدود ہے مگر ہماری نظروں میں یہ عریانیت کا پہلا قدم ہے۔ کشمیر میں مسلم اکثریت میں گزر بسر کر رہی ہے ، مسلمان قرآن کے ماننے والے ہیں ، ہمیں یہ شو خود اپنے لئے بھی اور اپنی آئندہ کی نسلوں کے لئے بھی ناامنی ( نامناسب) محسو س ہوتا ہے۔ (اہلِ صلیب نے) سپین میںیہی حکمت عملی اپنائی تھی،وہاں مسلمان بہت تعدادمیں تھے لیکن ا س ملک میں منشیات کو فروغ دے دیا گیا ، وہاں عریاں لڑکیوں کو بھی بھیجاجاتا تھا ، پھر کلمہ خوانوں کو مدہوش کر کے ان کا بے تحاشہ قتل و غارت کیا گیا ۔ ہم یہاں پر اسی لئے جمع ہوئے ہیں

تا کہ اس فیشن شو کے خلاف اپنی آواز اُٹھا سکیں ۔ یہ شو آج کپڑوں سے متعلق ہے مگر کل کو یہ ہماری لڑکیوں کو تن فروشی کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ کل یہ اور زیادہ سنگین خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے ، کل ہم ایک بدتر دلدل میں دھنسائے جا سکتے ہیں، اگر آج ہم اس کے خلاف آواز نہ اُٹھا ئیں ۔ 

 بے شک یہ چند بچیوں کی جانب سے فیشن شو کی مخالفت میں اُٹھی ایک چھوٹی آواز سہی مگر اس کی اَن سنی نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ کشمیری مسلمانوں کے دل کی دھڑکن اور ان کی اجتماعی سوچ کی غمازہے ۔ 

            بہر صورت باوجود یکہ اس سال کشمیر میں حالات میں اوپری تبدیلی رونما ہوئی ہے اور عام لوگ کووڈ۔۱۹؍ کی تیسری ہلاکت خیز لہر نظر انداز کر تے ہوئے جوق درجوق باغ ِ گل ِ لالہ ، نشاط، شالیمار، ہارون، گلمرگ وغیرہ کے سیر سپاٹے کو بھی جارہے ہیں مگر سیاسی معنوں میں یہاں پہلے کی طرح قبرستان جیسی خاموشی قائم ہے، اور ۵؍ اگست ۲۰۱۹ کو دفعہ ۳۷۰ پر خط ِ تنسیخ پھیرنے سے لوگوں کو جو نفسیاتی دھچکالگا وہ اس سے باہر نہیں آئے ہیں ۔ کوئی جیسی مرضی کشمیر کی تصویر پیش کرے مگر وادی کی زمینی حقیقت یہی بتاتی ہے کہ یہاں سیاسی خلا بھی موجود ہے اور سیاسی گھٹن بھی قائم ہے ۔ خاص کر کشمیری لوگ ریاست کے حصے بخرے کئے جانے اوراس کا خصوصی آئینی درجہ کو حرف ِ غلط کی مانند مٹانے پر شدید قسم کےاحساسِ محرومی میں مبتلا ہیں۔ایسے میں فیشن شو کا اہتمام کشمیریوں کے درد وغم کا کسی صورت مداوا نہیں ہوسکتا ۔ اس نوع کے تجربے ماضی میں بھی بارہا ناکام رہے۔ وادی ٔ کشمیر میں اپنے وقت کے ریاستی وزیراعظم بخشی غلام محمد نے بھی’’ شبِ شالیمار‘ جشن ِ کشمیر ،بچہ نغمہ‘‘ جیسے گھٹیا تماشے آزمائے مگر  سوائے کرسی والوں کی تفریح ِ طبع کے ان کا اور کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا ۔ شیخ عبداللہ نے بھی اندرا عبداللہ اکارڈ کے مابعد اسی حکمت عملی کو اپنا کر چوک چوراہوں پر فوارے لگواکرعوام کا دل لبھانے کی ناکام کوشش کی ، مشہور بنگلہ مغنیہ رونا لیلیٰ کو سری نگر کے ٹیگور ہال میں دما دم مست قلندر کی سُرتال پر پیرانہ سالی کے باوجود تھرک بھی اُٹھے مگر کیا لوگوں کی سیاسی سوچ بدلی جاسکی؟ مفتی سعید نے اپنے عہد ِ حکومت میں بالی وڈ کو سر نو کشمیر کی طرف راغب کر نے کے لئے فلم نگری کے دروازے پر جاکر دستک دی مگر حاصل ندارد ۔ ماضی کے ان ناکام تجربات کے بعد کشمیر میں فضول تماشوں اور تہذیبی جارحیت کو تھوپنے  والا فارمولہ آزمانا مشق ِ لاحاصل ہی ثابت ہو گا ۔

        سری نگر کےفیشن شو کے دفاع میں یہ دلیل دی گئی کہ کشمیری لڑکے لڑکیاں بالی وڈ اور ماڈلنگ میں قسمت آزمائی چاہتے ہیں،مگر ممبئی جانے کے لئے اُن کے پاس مالی وسائل کی کمی آڑے آرہی ہے،ان ’’سپوتوں ‘‘ کے واسطے فیشن شو ایک پلیٹ فارم ہے جس کی وساطت سے وہ گلمیر کی دنیا میں قدم جماسکتے ہیں۔ یہ دلیل بے ہودہ، مغالطہ آمیز اور بھونڈا مذاق ہے۔ منہ بولتی سچائی یہ ہے کہ ممبئی کے فلمی گلیمر کے سحر میں مبتلا جو بھی نوعمر آج تک بھٹکنے گیا ،اس کے لئے اداکارانہ’’ ٹیلنٹ‘‘ کے باوجودعروس البلاد کی سڑکیں ناپنا ، ہزارہا ٹھوکریں کھانا، اپنے عزت ووقار کا سودا کرنا ہی فلمی بانڈ بننے کے بنیادی لوازمات ٹھہرے ۔ یہ سب کر کے بھی خال خال ہی کوئی اپنے خوابوں کی چہیتی نگری بسا پایا ، زیادہ تر جوانیاں وہاں کی گلی کوچوں میں سڑگئیں یا کوڑی کوڑی کا محتاج ہوکر بے نیل ومرام گھرواپسی کی راہ لینا پڑی۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ فلمستان میں نام کمانے کے باوصف کوئی کوئی ڈپریشن کے ہاتھوں اداکار سوشانت سنگھ راجپوت جیسے المیوں کی بھینٹ چڑھ کر زندگی تک گنوابیٹھا۔ اس لئے اگر کوئی سادہ لوح کشمیری نوجوان فیشن شو کو فلمی دربدری وخاک بسری کا متبادل سمجھ کر احمقوں کی دنیا میں رہنا چاہیے تو شوق سے رہے مگر ایک سنجیدہ ذہن انسان اس خیال ومحال و جنون سے دور ہی رہے گا۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جن دوایک کشمیریوں نے حالیہ برسوں میں فلمی کیر ئرکے جان گسل مراحل طے کر کےبالی وڈ کے در پر ماتھا ٹیکنے میں کا میابی پائی، وہ بھی بالآ خر جادوئی دنیا کی خرابیوں، برائیوں اور تباہ کاریوں سے دل برداشتہ ہوکر بے نیل ومرام گھر لوٹ آئے۔شہرت یافتہ اداکارہ زائرہ شاہ اور ایک کامیاب ماڈل ثاقب خان کی تازہ مثالیں سب کے لئے چشم کشا ہیں۔ ان دونوں نے اپنی اپنی باری پر علانیہ اعتراف کیا کہ بہ حیثیت مسلمان وہ فلمی دنیااور اپنے دین وایمان کے درمیان ایک بڑی خلیج دیکھ کر اپنے دین وایمان کو ہی ترجیح دینے پر مجبور ہوکر اس جادوئی دنیا کو چھوڑ گئے۔ مسلمانوں کے لئے یہ جادونگری کتنی کھٹور ہے ،ا س کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ یوسف خان کو مسلمانانہ شناخت چھپانے کے لئے دلیپ کمار بننا پڑتا ہے۔ ممکن ہے کہ ہندوستانی فلموں کے باواآدم دادا صاحب پھالکے کے دور میں فلمستان اتنا برا اور بھدا نہ رہا ہو مگر آج کی تاریخ میں یہ ایک وسیع وعریض سنڈاس ہے جس کی ناقابلِ بیان عفونت سے انسانی برادری جرائم ، جسم فروشی ، فحاشیت، عریانیت، چوری، ڈکیتی ، قتل ، دھوکہ دہی ، جنسی ہیجان ، فیشن پرستی، جنگ وجدل اور انتقام گیری کی آگ میں بھسم ہورہی ہے ، جوان نسل اپنا مقصدِ حیات بھول چکی ہے، انسانی معاشرت بدسے بدتر ہو تی جارہی ہے ۔ اس دنیا نے ہماری تہذیبی شناخت اورآدمیت کے بنیادی اقدار کو چھین لینے کے علاوہ ہمارے اخلاقیات کا بھی جنازہ اُٹھایا ہواہے۔ علامہ اقبال نے اس دنیا پر یونہی یہ چوٹ نہیں کر تے   ؎ 

 وہی بُت فروشی ، وہی بُت گری ہے

سنیما ہے یاصنعت ِآزری ہے

وہ صنعت نہ تھی ، شيوئہ کافری تھا

یہ صنعت نہيں ، شيوئہ ساحری ہے

وہ مذہب تھا اقوامِ عہد کہن کا

یہ تہذيب حاضر کی سوداگری ہے

وہ دنیا کی مٹی ، یہ دوزخ کی مٹی

وہ بت خانہ خاکی ، یہ خاکستری ہے

 میری ناقص رائے میں اگر سری نگر فیشن شو کے منتظم کے دل میں واقعی کشمیر کی جوان نسل کا بھلا کر نے کی مخلصانہ خواہش مچل رہی ہے تو اُسے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل کشمیر کی د بی کچلی نسل کو جدید تعلیم، تہذیب ، اخلاق، ترقی اور عوامی خدمات کے میدانوں میں آگے بڑھانے میں صرف کرنی چاہیںتاکہ کشمیر کی چرب دست اورتردماغ قوم اکیسویں صدی میں سر اُٹھاکر جی سکے۔