تحریر : ش م احمد

 بارالہٰا!
میں فرقان ِ مجید آپ کا نازل کردہ کلامِ مقدس ہوں۔۔۔ عالم ِ انسانیت کے لئے حق و باطل کا آئینہ، صحیفہ ٔہدایت ، دستورِ حیات، ظلمات سے رہائی پانےکا پروانہ، آزادی کا مژدۂ جان فزا، نور کی سواری ،کا میابی کا سامان، انسانیت کا پاسبان، نقصان وخسارے سے بچاؤ،منفعت کا سجھاؤ، ہمہ وقت مخلص مشیر ، نجات کانقش ِراہ، لاینحل مسائل کا حل، مفاہمت کا راستہ،امن کی منزل، محبت کا گلدستہ، اُخوت کی خوشبو ، فسادات کا خاتمہ، تضادات سے خلاصی،نیکی کاغیر مختتم خزانہ، بدی کے لئے موت، خوش حالی کی ضمانت، طمانیت کا خزینہ، عقل کا پیامی، فہم کا داعی، انصاف کا ترازو، قانون کی سند، جنت کی شاہراہ، دوزخ سے چھٹکارا، ایمان کا مربی، ایقان کی کسوٹی ، علم وفن کا دلداہ ،عبادات کی بہار، آئین ِامامت،انوارِخلافت،کمالات کی ترغیب، جمالِ کردار، حُسن ِ فطرت ، رہنمائے حکمت ،اَن گنت نعمتوں کا گلشنِ پُر بہار۔
خدائے ذوالجلال!
  مگر اُف ! اس بھری دنیاکوئی نہیں جو بصدق دل تسلیم کر ے قرآن اس کے لئےکتاب ِ ہدایت ہے،نصاب ِ حیات ہے ، صلائے ایمان ہے ، ندائے رُوح ہے، عقل وشعور کو پرواز دینے والا شہپر ہے؟ مجھےزیادہ سے زیادہ معدودے مذہبی رسومات تک محدود کیا گیا ہے ۔  میری یاد ضرور آتی ہےجب کسی نیم عریاںدُلہن کی رُخصتی ہورہی ہو اور باجے گاجے کی دُھن میں اس کے سر پر دو پانچ منٹ مجھے رکھنے کی نمائش کی جاتی ہے، پھر عمر بھر میراپاک سایہ اُ س کے سر اور دل سے جدارہتاہے ۔ میری تھوڑی بہت ضرورت اس وقت بھی محسوس ہوتی ہے جب کسی جان بلب انسان پر دَم مارنے کے لئے مجھے رسماً پڑھاجائے تاکہ مر نےو الے کی رُوح جلداز جلد پرواز کرسکے۔ حالانکہ میری تمام آیات کاملاً زندگی سے آراستہ ہیں ۔ مردوں کےایصال ِثواب کے وقت بھی میری ورق گردانی کی جاتی ہے ۔
توکیا ابن آدم نے عملاً مجھے اپنی زندگی کی گہماگہمی سے کھرچ کھر چ کر بے دخل نہیں کیا ہے؟
میں ابدی سچائیوں کا گواہ ہوں مگر لوگ میری جھوٹی قسمیں کھا تے ہیں آپس میںدھوکہ دھڑی کر نے کے لئے، ایک دوسرے کاحق مارنے کے لئے ، عارضی فوائد سمیٹنے کے لئے۔ میں ہی ڈھال کے طور ان سارے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہوں۔ اور ہاںمیراتماشہ جھاڑ پھونک ، تعویذ گنڈے ، مذہبی استحصال،جعلی درویشی، مسلکی تقسیم، طبقاتی کشاکش ،خشک اورلایعنی بحث ومباحثے، تقریری مقابلوں، تحریری پہلوانی،نذرونیاز کی کمائی ، مناظرہ بازی جیسی دوکانیں چمکانے کے لئے بھی ہورہا ہے۔اللہ اللہ خیر صلا۔
 رب ِ کریم :
 موجودہ دُنیا میں یہ قرآن کسی کا چہیتا نہیں ، کوئی میری ہدایت کا طالب نہیں، کسی کو میری مشاورت درکار نہیں، کسی کو میری سرزنش پر اعتبار نہیں ، میری دھمکی کے باوجود کسی کو گناہ کے دلدل میں پھنسنے سے اجتناب نہیں، میری چتاؤنیوں سےہر اعلیٰ وادنیٰ غافل ہے ۔ حال یہ ہے   ؎
 ہم تو مائل بہ کرم ہے کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیں
 تربیت عام توہے، جو ہر قابل ہی نہیں
 جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گِل ہی نہیں
  اے خدائے ذوالجلال :
  میں تمام انسانوں سے بلا تفریق مہر وماہ کا لاثانی رشتہ رکھتاہوں ، لوگوں کی تکالیف پر میرادل کڑھتا ہے ، اُن کے کڑوے مسئلوں کا ازالہ کر نے کے لئے بے قرار ہوں مگر افسوس ! دنیائے انسانیت مجھ سے لاتعلق ومہجور ہے۔ اسےمیری ساتھ اپنی نافرمانیوں پر کوئی شرم ساری نہیں ، اس کی رُوگردانیاںناقابلِ بیان ہیں ، حلال کیا ہے حرام کیا ہے، یہ مجھ سے کون پوچھے ؟ سب شیطانی دجل وفریب یا نفس ِامارہ کی من مانی سے حلت وحرمت کے اصول لیتے ہیں۔
  یاحی وقیوم !
میں انسان کی عمومی گمراہی وضلالت، بدامنی، بے چینی سے دل برداشتہ ہوں، اُس کی بغاوت کا شاکی ہوں،اسی لئے آپ کے حضور دُہائی دینے اپنی فریاد و فغان لئے بار گاہِ عدل میںحاضر ہوں۔ آپ نے قرآن کو متروک العمل بنانے کی پہلے ہی تصویر کشی کی ہے:
 ’’اور رسول کہیں گے: اے میرے رب !میری قوم نے اس قر آن کو واقعی ترک کردیا تھا‘‘ (سورہ ٔ فرقان ۔آیت ۳۰ )
  شکوہ زن ہوں کہ مجھے انسان نے عملاً ترک کیا ہوا ہے ۔ آج سب سے زیادہ راندہ ٔ درگاہ ، مظلومیت کا استعارہ ، محکومیت کاحوالہ، عدم توجہی کی مثال،سرد مہری کا اشتہار،فراموشی کا نمونہ، غیریت کی شکار کتاب اللہ ہے۔ کس کس کا گلّہ کروں ؟ کن کن کی احسان فراموشی کا رونا روؤں؟ مجھ سے عرب کی دوری کا گلہ کروں ؟ عجم کے ستم ہائے صد رنگ بتاؤں؟ شرق کا ظلم بولوں یا غرب کی زبان درازیاں عرض کروں  ؎
 جو لوگ ہویٰ کے ساتھی ہیں،وہ اپنے خدا کے باغی ہیں
اس جرم ِ بغاوت سے بڑھ کرایمان کانقصاںکیا ہوگا

 اےعلیم وخبیر 
  آپ سمیع وبصیر ہیں، سب جانتے ہیں ، سب دیکھتے ہیں، کراماً کاتبین شب وروز احوالِ آدم لکھے جارہے ہیں ۔آپ کی ذات ِ بے ہمتا  عادلانہ فیصلہ لینے کی مجاز ومختار ہے ۔ میں نے اپنےاوپر ڈھائے جارہے ظلم وستم کی رُوداد سنا ئی تا کہ میری شنوائی ہو۔ مو لا!دنیا میں میرا بُرا حال ہو رہا ہے ، ایسا ہی بُراحال جیسے بازارِ طائف میں پیغمبر اسلام محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ اقدس پر اوباشوں نے پتھر مار مار کر کیا ۔ مجھ پر بھی طائف کی مانند طعن وتشنیع،حکم عدولی ، عدم تعمیل کے نوکیلے سنگ ر یزے چاروں طرف سے برسائے جارہے ہیں کہ لہو لہاں ہوں ۔ میرے اصولوں کی زبان بندی کی جارہی ہے ، میری لائی ہوئی شریعت کا گلا گھونٹھا جارہاہے ، میری خوش خبریوں اور دھمکیوں کا مذاق اُڑایا جارہاہے۔ میری تنبیہات ، عذاب کی وعیدوں، مکافات ِ عمل کی مثالوں کو قصہ گوئی سمجھا جارہاہے ۔ نہ قومِ نوحؑ ، نہ نمرودد ، نہ فرعون کا بُراانجام، نہ قوم ِ لوط ، نہ قوم ثمود کی دل دہلانےو الی سرگزشت سے سرکشوں کے دل پگھلتے ہیں نہ کردار میں بدلاؤ آتا ہے۔ غرورِ نفس میں مبتلا شیطان کے پجاری مجھ پر دقیانوسی ، رجعت پسندی ، ترقی دشمنی کے طعنے کسے جا رہے ہیں۔ یہ لوگ میری بتائی ہوئی راہِ امن پر چلتے نہیں ، انسانیت کے دفاع میں میری کاوشوں کو قبولتے نہیں ، میری تقلید میں رنگ ، نسل ، قوم اور زبان کے بھید بھاؤ سے بالاتر بنی نوع انسان کی خدمت کو اپنا ڈھب بناتے نہیں، کمزور قوموں کو تاراج کر نے میں کوئی عار محسوس کر تے نہیں، آباد وشاداب ملکوں کو فوجی طاقت کےبل پر نشانہ ٔ عبرت بنانے سے پیچھے مڑتے نہیں ، اور پھر بے شرمی یہ کہ خود کو جمہوریت نواز ، حقوق البشر کے حامی ، آزاد خیالی کے پیکر جتلاتے ہوئے مجھے دہشت گرد، انتہا پسند، شدت پسند بتلا تے پھرتے ہیں۔میرے بتائے ہوئے نظامِ عدل سے سرعام انحراف ہو رہاہے۔ پاکی اور نیک عملی کے جن انمول موتیوں کوسدابہار مالا میں پرو کر محبتوں سے انسان کے گلے ڈالا تھا، اُس مالا کو ’’ادب و ثقافت اور ترقی و جدت ‘‘ کے نام سے فحاشی، عریانیت اور فسق وفجور کی زنجیروںسے بدلا جارہاہے۔ خوشی و غمی کے لئے میرے سادہ حکموں اور اخلاقی قدروں سے منہ موڑا جارہاہے۔ ملّی اتحاد کو پروان چڑھانے والے میرے آزمودہ فرامین کو کھلم کھلالتاڑا جارہاہے ۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے جن وحشی قوموں کو میں نے ایک خدا کی بندگی،ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع، ایک الکتاب کی فرماںبرداری، ایک قبلہ کی سمت میں جوڑ کر ہم دوش ِثریا کیا تھا،انہی اقوام کو اب راہِ راست سےہٹا کر نہ جانے کتنے لات ومنات، رسومات، توہمات ، بدعات، یہود ونصاریٰ کی دجالی خدائیت اور جابرو قاہر قوتوں کا غلام در غلام بنایا جارہاہے۔ 
خدا ئے بزرگ وبرتر!
   میری آیات کی وساطت سےپوری انسانیت آپ کی مخاطب ہے ۔ مجھےآپ نے نہ کسی شخص کی ذاتی جاگیر بنایا، نہ کسی قوم یا خطے کی نجی میراث میں لکھا، مجھے پوری انسانیت کے لئے اپنا ابدی تحفہ اور اَزلی امانت کے طور اہل ایمان کے سپردکردیا، البتہ میری ہدایت صرف متقین کے لئے مخصوص رکھی۔کوئی مانے نہ مانے مگر صرف میں ہی  تمام ا نسانیت کے لئے آپ کی بے پایاںمحبت وخیرخواہی کا رہنما اصول ہوں ۔ نیزالخلق عیال اللہ کے صدقے ہر کوئی میرا اپنا ہے، سگا سمبندھی ہے، میری محبت وخلوص کا یکساں حق دار ہے مگر انسانوں میں کوئی ہے جو مجھ سے بغل گیر ہے؟ مجھ سے نصیحت پکڑتاہے؟ مجھ سے رہبری چاہتاہے ؟ میرا مسلک’’ ہر ملک، ملک ماست، ملک ِ خدائے ماست‘‘ ہے( یعنی ہر سرزمین خدا کی ملکیت ہے اور یہ سب ہمارے وطن ہیں)، تقسیم تو انسانوں نے خودکی ہوئی ہے۔اس تقسیم کے توسط سے میرے’’ اپنے‘‘ بڑی لاپروائی بلکہ ڈھٹائی کے ساتھ میری نافرمانیاں کررہے ہیں اور ’’غیر‘‘ زبان ِ طعن دراز کر کے میری
 بُر ائیاں کر رہے ہیں اور تشکیک والحاد پھیلارہے ہیں۔ یوں دنیا میں،  میںاکیلا پڑا ہوں ، تنہائی کا مارا ، اجنبیت کا ستایا ۔ کیامسلمانوں میں میرے احکامات،تعلیمات ، اخلاقیات کی کسی کو فکر دامن گیر ہے ؟ صرف زبانی کلامی عزت و محبت کے دعوے ہیں۔ بلا شبہ میرے نام پربے شماردارالعلوم ، اُنجمنیں، ادارے موجود ہیں مگر یہ سب نمبر شماری کے لئے ہیں۔ میںدنیا کے ہر کوچہ وبازار میں کتابی صورت میں موجود ہوں، میرے تراجم ہورہے ہیں ، میری بڑی بڑی شرحیں تفسیریں موجود ہیں مگر عمل ندارد ۔ لاتعداد چھاپ خانے روزمیری دیدہ زیب طباعت کر تے ہیں ، کچھ بندگان ِ خدا مجھے اپنے خوش نصیب سینوں میں محفوظ کر رہے ہیں ، مساجد قائم ہورہی ہیں ، پنج وقتہ اذانیں گونج رہی ہیں ، نمازیں ادا ہورہی ہیں، اھدنا الصراط المستقیم کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ، حُسن ِ قرأت کی مجلسیں آراستہ ہو رہی ہیں ، واعظ وخطیب میری آیات پڑھ پڑھ کے منبر ومحراب گرماتے ہیں ، مگر سب اثر اور اصلیت سے خالی۔ ہاں کوئی کوئی بندۂ خدا ہے جو میرے سامنے سرنگوں ہے، میری اطاعت کا قلادہ گردن میں ڈالے ہے ، باوجود یکہ اس کے سر پر مجبوریوں کی تلواریں اور مشکلات کی کٹاریں سایہ فگن ہیں۔ اب آپ ہی انصاف کریں کہ میں غریب الدیار کیا کروں ۔
 یکایک سورہ آل عمران کی آیت۱۳۹  کی صدائے غیبی
 آئی   ؎
خرقۂ ’’لا تحزنو‘‘ اندر برش
’’اَنتم الاعلون‘‘ تاجی بر سرش
 یعنی غم نہ کرو، تم ہی اعلیٰ وبالا رہوگے