(انتہائی عزیز دوست ارشد محمود راں شہید کی یاد میں)

اک پل جو جاں گُسل تھا ، وہ کیسے رُکتا

شام لحظہ ، وہ وقتِ فرقت کبھی تو آتا


الکھ نگری تمہیں پسند تھی، وہی تمہاری ادا بھی ٹھہری

قضا کو چکمہ دے بھی دیتے، تمہیں تو کتنا ملال ہوتا


شفق پر جب بھی شام پڑتی، نگاہ تمہاری ٹِک سی جاتی

رفتہ رفتہ غروب ہونا ، تمہیں نہ آتا تو کس کو آتا


ابھی جو ٹھہرے خزاں گزیدہ، کبھی تو ہوں گے قضا گرفتہ

ناموسِ الفت بچا بھی لیتے ، اجل کا کیسے نہ نام آتا


حیاتِ ابدی جو پا بھی لیتے تو کون مظہرِ خیال ہوتا

رنگ و بُو سے لو لگاتے ، جو رہ میں اپنا قیام ہوتا

مظہر اقبال مظہر