July 7, 2022

فیصل جمیل کاشمیری کا ذکرِ خیر  تحریر: نقی اشرف

اگر محض سانس لینا، کھانا پینا اور زندگی کی وہ سرگرمیاں کرنا کہ جن کے اثرات انسان کی اپنی ذات ،خاندان اور اقربا تک محدود ہوں کو ہی زندگی قرار دیا جائے تو پھر دنیا میں اربوں انسان زندہ ہیں  مگر فی الحقیقت  زندوں میں اُس انسان کو ہی شمار کیا جاسکتا ہے جو اپنے ارد گرد بسنے والوں کےدکھوں،غموں،پریشانیوں،تکالیف اور مسائل سے بیگانہ اور لاتعلق نہ ہو۔ انسانوں کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے تو پھر بالعموم ہر جگہ اور بالخصوص ہمارے ہاں زندہ انسانوں کی تعداد بہت محدود ہے۔ ہمارے سماج کے یہ زندہ انسان جو انسانی مسائل و مشکلات پر بولتے ہیں، لکھتے ہیں اور آواز اُٹھاتے ہیں اُنھیں ہمارے سماج میں کہ جہاں اظہارِ رائے پر قدغن ہے، کن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہوگا اُس کا اندازہ کوئی بھی باشعور انسان بخوبی کرسکتا ہے۔ میں انھی زندہ انسانوں کے حوالے سے قلم اُٹھانے کو محمود سمجھتا ہوں کہ جو سماج میں ہونیوالی نا انصافیوں، زیادتیوں اور انسانی دکھوں کو محسوس کرکے اُن پر اپنا ردعمل دیتے ہیں،مزاحمت کرتے ہیں۔

میں یہ نہیں لکھ سکتا کہ مجھے ایسے انسانوں کی تلاش رہتی ہے، اُنھیں تلاش کرنے کی نوبت کیونکر آسکتی کہ وہ تو دُور سے نظر آتے ہیں،آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔ جب میں مظفرآباد کی طرف نظر دواڑاتا ہوں تو جانے کیوں میری نظر فیصل جمیل کاشمیری پر جا ٹکتی ہے۔ فیصل جمیل کاشمیری سے میرا کوئی روائیتی تعارف نہیں ہے، کبھی ملا ہوں نہ پاس سے دیکھا ہے اور نہ کبھی کوئی رابطہ ہوا ہے۔ اس شخص کے غیرروائیتی کاموں نے ہی مجھے اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بس اُس کی سرگرمیاں دیکھی ہیں۔ فیصل جمیل کاشمیری کو دیکھ کر میں اکثر سوچتا ہوں کہ ایک انسان دوسرے انسانوں کے لیے کچھ کرنا چاہے تو کچھ نہ کچھ تو کرہی سکتا ہے بلکہ  بہت کچھ کرسکتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک انسان،محض ایک انسان اگر ٹھان لے تو وہ کتنے انسانوں کا بھلا کرسکتا ہے۔ میں اُسے آئے روز دیکھتا ہوں،کبھی وہ ٹوٹی ہوئی سڑک،کبھی اُبلتے ہوئے گٹر،کبھی سرعام یا دریاوں میں پھینکے گئے کچرے،کبھی سرکاری اراضی پر قبضے،کبھی بجلی اور ٹیلی فون کی اُلجھی ہوئی تاروں کی نشاندھی کررہا ہوتا ہے۔ اُس کی کاوشوں سے کچھ مسائل  ہمیشہ کے لیے اور کچھ وقتی حل ہوتے ہیں،کچھ جزوی اور کچھ کُلی طور پر۔

وہ شاعر ہے، نثر نگار ہے،مقرر ہے،ایکٹیوِسٹ ہے،مجھے کہنے دیجیئے کہ اپنی ذات میں انجمن ہے۔ گزشتہ سالوں میں اُس نے مظفرآباد  کے دریا  چرائے جانے کے خلاف اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر  طویل دھرنے دیے۔ گو کہ وہ دریا نہ بچا سکا کہ دریا بچانا کوئی کارِ سہل نہ تھا مگر یہی کیا کم ہے کہ جب قیادت کے سب دعویدار مصلحت و منفعت کی خاطر چُپ تھے تو وہ بول رہا تھا اور نہ صرف بول رہا تھا بلکہ بولنے والوں کا سرخیل تھا۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ آپ زندگی میں کیا کام کرپا تے ہیں بلکہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آپ نے کن کاموں کو اہمیت دی اور اُن کے لیے کس قدر جدوجہد کی یا باالفاظِ دیگر  جھوٹ اور سچ کی لڑائی میں آپ نے اپنا وزن کون سے پلڑے میں ڈالا ۔

جمیل انور کاشمیری(خدا اُنھیں غریقِ رحمت کرے)

ممکن ہے فیصل جمیل کاشمیری قوم پروری اور وطن دوستی کی روائیتی تعریف پر پورا نہ اُترتا ہو مگر میری ناقص رائے میں حقیقی قوم پروری اور وطن دوستی یہی ہے جس ڈگر پر وہ چل رہا ہے۔میں نے پڑھا سُنا ہے کہ فیصل جمیل کاشمیری کو عظمت و عزیمت کا یہ راستہ اپنے والد محترم جمیل انور کاشمیری(خدا اُنھیں غریقِ رحمت کرے) سے ورثے میں ملا ہے ، رشک آتا ہے کہ وہ کس خوبصورتی اور کمال جرات سے یہ ورثہ لیکر چل رہا ہے۔ ذمین کا نمک ایسے ہی لوگوں کو کہا گیا ہے۔ میں جب بھی فیصل جمیل کاشمیری جیسے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو میرے دل سے ایک ہُوک سی اُٹھتی ہے کہ اے کاش ایسے درد مند لوگ ہمارے بلدیاتی اداروں  اور ایوانوں میں ہوتے۔ ایسے لوگ بڑے اعزازات کے مستحق ہوتے ہیں مگر ہماری سرکاریں ایسے لوگوں کو کیا خاک اعزاز و تمغہ دیں گی کہ اُنھیں قصیدہ گووں کو ہی نوازنے سے فُرصت نہیں۔ چلیں چھوڑیے سرکار کو ، کیا آپ اور میں ایسے لوگوں کی خدمات کا اُن کی زندگی میں اعتراف نہیں کرسکتے اور اُنھیں وہ عزت و احترام نہیں دے سکتے جس کے وہ مستحق ہیں؟

Leave your comment !

Close