ڈاکٹر ساجد خاکوانی

                ”تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے“،یہ الفاظ محسن انسانیت ﷺ نے اس وقت فرمائے جب وہ میدان عرفات میں آخری حج کے موقع پر ایک لاکھ سے زائدانسانوں سے مخاطب تھے۔یہ الفاظ فرماکر تاریخ انسانی میں سب سے پہلے آپ ﷺ نے نسلی تفاخرات کا خاتمہ کیا۔انسانیت کا آغازحضرت آدم اور اماں حوا علیھماالسلام سے ہوا۔جس طرح ایک گھر میں کوئی نسلی امتیاز نہیں ہوتااور سب ہی ایک نسل یاایک خاندان یا ایک ہی قبیلے کے ہوتے ہیں اسی طرح سب سے پہلے انسانی گھرانے میں بھی کوئی نسلی امتیاز نہ تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ نسل آدم بڑھتی چلی گئی اوردیگر گمراہیوں کے ساتھ ساتھ نسلی تفاخر بھی اس قبیلے میں درآیا۔ابلیس نے جہاں شرک،بت پرستی،ہم جنسیت وسفلی بے راہ روی،تکبر اور ناپ تول میں کمی جیسے مکروہ افعال قبیلہ بنی نوع انسان میں متعارف کرائے وہاں نسلی امتیازات پر تفاخرکے داغ سے بھی انسانی دامن کو داغدار کر دیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجیدسورۃ الحجرات میں فرمایا کہ”یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآءِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۹۴:۳۱)“ ترجمہ:”لوگوہم نے تم کوایک مرداورایک عورت سے پیداکیااورپھرتمہاری قومیں اوربرادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کوپہچانو،درحقیقت اللہ تعالی کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو زیادہ متقی ہو،یقین رکھوکہ اللہ تعالی سب کچھ جاننے والا اور ہر بات سے باخبرہے“۔گویایہ نسلی امتیازات انسانی پہچان کے لیے ہیں۔بعض اوقات ایک ہی نام کے کئی لوگ ہوتے ہیں تب انہیں ان کے ناموں سے یاد رکھنا چونکہ ممکن نہیں ہوتا اس لیے ان کے نام کے ساتھ انکی نسل،خاندان یا قبیلے کانام لگاکر انہیں ایک الگ شناخت دی جاتی ہے تاکہ اپنی یادداشت میں اور ضروری دستاویزات میں انہیں الگ سے پہچانا جاسکے۔اسی طرح بعض لوگ اپنے علاقے کانام یااپنے بزرگ کانام بھی اپنے نام کے ساتھ نسبت کے طور پر لگا لیتے ہیں،مثلاََ بخارا سے تعلق رکھنے والے بخاری کہلائیں گے اور حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر مسلمان ہونے والے صدیقی کہلائیں گے وغیرہ۔یہ نسبتیں جب نسلوں میں چل نکلتی ہیں تو کسی پشت میں پہنچ کر یہ بھی نسبی پہچان بن جاتی ہیں۔

                انسانی معاشرے میں ضروریات زندگی کے لیے اور فراہمی رزق کے لیے جملہ پیشے بھی اپنائے جاتے ہیں۔ان پیشوں کے حاملین کو اپنے فن کی تکمیل کے لیے اور فراہمی روزگار کے لیے بعض اوقات یااکثر اوقات دوسرے انسانوں کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔اگرچہ بعض پیشوں کے حاملین کے پاس لوگ خود چل کر آتے ہیں لیکن بعض ایسے پیشے بھی ہیں جنہیں لوگوں کے ہاں چل کر جانا ہوتا ہے۔تب یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ پیشے ہی انسان کی پہچان بن جاتے ہیں اور کسی انسان کے ساتھ اس کے پیشے کی نسبت لگا کر اسے پہچانا جاتا ہے۔اگر یہ پیشے نسل میں چل نکلیں جیسا کہ ایک زمانے تک دنیاکادستور رہا کہ قبیلے کے قبیلے کسی ایک ہی پیشے سے وابسطہ ہوتے تھے تو وہ پوراقبیلہ یا خاندان کی پہچان ہی وہ پیشہ بن جاتااور کئی پشتوں کے بعد وہ پیشہ جو ایک زمانے میں محض فراہمی رزق کے لیے اپنایا گیاتھا اب اس خاندان کی پہچان ہی نہیں بلکہ اس کی نسل قرار پاتا ہے۔انبیاء علیھم السلام بھی کسی نہ کسی پیشے سے متعلق ہواکرتے تھے،چنانچہ یہ پیشہ بھی عزت دار ہونے یا عزت سے محروم ہونے کاکوئی پیمانہ نہیں ہے۔

                ان نسبی یا نسبتی یاکسبی پہچانوں کو اپنی شناخت کے لیے استعمال کرنا نہ صرف جائز بلکہ بعض اوقات ضروری بھی ہوتا ہے لیکن ان شعوب و قبائل کو کسی وجہ سے تفاخر کا سبب بنا لینا اور ان کی نسبت کے باعث اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر تصور کرنا اور دوسروں کو کمتر سمجھنااور انہیں دوسرے اور تیسرے درجے کاانسان تصور کرنا کسی طور بھی روا نہیں۔یہ بات  اسلامی تعلیمات تو کیاانسانیت سے بھی گری ہوئی ہے کہ اپنے جیسے انسانوں کو،اپنے ہی جیسا جسم رکھنے والے اور اپنے ہی جیسا قد بت رکھنے والے دوسرے انسان کواپنے سے گراہواسمجھاجائے اور بغیر کسی وجہ سے انہیں نفرین و استحقارکا مستحق بنادیاجائے۔کسی بھی پیشے،نسل یارنگ و علاقے کے لوگ بیک وقت اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی کیونکہ پانچوں انگلیاں بہرحال برابر تو نہیں ہوا کرتیں لیکن اچھائی اور برائی کے بہت سے دیگر معیارات انسانی معاشرے میں قائم ہیں جن پر انسانوں کو پرکھناچاہیے،محض رنگ و نسل کی بنیاد پر بہتروبدترکے فیصلے انسانوں کی تقسیم کے ظالمانہ و جابرانہ اور غیرمنصفانہ طریقے ہیں۔اس آسمان نے کتنی ایسی تہذیبیں دیکھیں جن کاسبب محض رنگ و نسل ہی تھاتب انسان نے سوائے تباہی کے کچھ نہ پایا۔حالیہ زمانے کی سیکولرمغربی تہذیب گزشتہ تین چار صدیوں سے اس دنیاکے آسمان پر چمک رہی ہے،عرف عام میں یہ گورے کی تہذیب ہے اور گوری نسل کے لوگ اس تہذیب کے پروردہ ہیں۔اس سیکولرمغربی تہذیب نے جو ایک رنگ پر بنیاد کرتی ہے پوری دنیاکو اپنا غلام بنانا چاہاہے۔ماضی میں فرد کے گلے میں طوق ہواکرتے تھے آج قومیں اپنے گلے میں گورے کی سیکولرتہذیب کی غلامی کاطوق سجائے ہوئے ہیں،ماضی میں افراد کی بولی لگتی تھی اور لونڈی غلام بازروں میں اور منڈیوں میں فروخت ہواکرتے تھے آج اس گوری سیکولرتہذیب کی منڈی میں قوموں کی بولیاں لگتی ہیں،آج سے پہلے آقااپنے غلام کو منڈی میں لاتا تھاآج اس گوری سیکولر تہذیب کی منڈی میں غداران ملت اپنی قوم کی بولیاں لگاتے ہیں اورپہلے صرف جسمانی غلامی ہواکرتی تھی آج گورے کی سیکولرتہذیب میں تہذیبی غلامی،ذہنی غلامی،تعلیمی غلامی،دفاعی غلامی اور نہ جانے کتنی کتنی غلامیاں ہیں جو انسانیت کی گردنوں کاطوق بن کر درپے آزار ہیں۔اس سیکولر تہذیب کے دور عروج میں دو عالمی جنگیں ہوئیں جن کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی اور جنگوں کے بعد نہایت ظالمانہ قسم کا معاشی،سیاسی اورمعاشرتی نظام کاالاؤبھڑکاجس میں نہ جانے انسانیت کب تک سلگتی رہے گی۔یہ نتیجہ ہے ایک رنگ کی نسلی تہذیب کے سیکولراقتدارکا۔

                کم و بیش پچیس ہزار مذہب اس دنیامیں اپنا وجود رکھتے ہیں،کچھ تو رنگ و نسل کے تفاوت پر ہی یقین رکھتے ہیں جیسے ہندومت ہے جس کی بنیاد ہی چار ذاتوں پر رکھی گئی ہے۔عقل حیران ہے کہ اکیسویں صدی کی دہلیز پر روشنیوں سے چندھیائی ہوئی انسانیت کے دامن میں اس طرح کے فرسودہ عقائدا بھی زندہ ہیں اورآسمانوں کو چھونے والی علمیات کے زمانے میں بھی لکڑی،لوہے اور پتھروں کے بنے ہوئے بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑے جاتے ہیں اور ماتھے ٹیکے جاتے ہیں؟؟ تف ہے۔”یہودی“مذہب بھی رنگ و نسل کے تفاوت پر مکمل یقین رکھتا ہے اس لیے دنیا کا کوئی فرد دنیاکا کوئی مذہب اختیارکرسکتاہے لیکن یہودی نہیں بن سکتا۔یہودی مذہب کے لوگ صرف اسی کو یہودی مانتے ہیں جو یہودن کے بطن سے پیدا ہو۔انکے مذہب کے مطابق کوئی غیریہودی کے ہاں پیداہونے والا اس قابل ہی نہیں کہ وہ یہودی مذہب اختیار کرسکے۔یہودی صرف اپنی نسل کو ہی اس مذہب کا وارث سمجھتے ہیں اور کسی دوسری نسل کے فرد کو اپنے مذہب میں داخلے کی اجازت نہیں دیتے۔اور کتنے ہی مذہب ایسے ہیں جو انسانوں کے درمیان رنگ و نسل کے تفاوت کا انکار کرتے ہیں لیکن خود انکے ہاں بھی یہ تفاوت بڑی شدومد سے موجود ہے۔مثلاََ اس وقت دنیاکاسب سے بڑا مذہب ”مذہب عیسائیت“ہے۔گزشتہ دوہزار سالوں سے عیسائیوں کے کسی ایک فرقے کاپوپ بھی یورپ کے علاوہ کسی براعظم سے نہیں آیا،حالانکہ عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد اافریقہ اور ایشیا میں بستی ہے لیکن یہ انکی مذہبی قیادت کا رنگ و نسل پر مبنی تعصب ہے کہ پوپ جو اس مذہب کا سب سے بڑا پروہت ہوتا ہے اسکا کرہ فال ہمیشہ گوروں کے لیے ہی نکلتاہے اور کالوں یا گندمیوں کی باری کبھی نہیں آئی۔بعض مقامات پرعیسائیوں کے گرجاگھروں میں پہلے ایک یا دو بنچ ہمیشہ خالی رکھے جاتے ہیں جہاں کوئی چوہدری صاحب،خان صاحب یا میاں صاحب نے آکر براجمان ہونا ہوتا ہے،وہ آئیں یا نہ آئیں انکی نشست خاص انکے لیے خالی ہی رہے گی۔

                صرف اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے صحیح معنوں میں رنگ و نسل کا تفاوت ختم کیا اور سب سے پہلا موذن کالے رنگ کاحامل تھا،حضرت بلال، انکی قسمت پر ہر امتی نازکرتا ہے کہ جب وہ آپ ﷺ کی اونٹی”قصوی“ کی باگ تھامے نبی ﷺ سے بھی پہلے جنت الفردوس میں داخل ہورہے ہوں گے اور جنت کی حوروں میں سے سب سے حسین ترین حور انہیں کے حصے میں آئے گی۔اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ جو پہلے آئے وہ اگلی صف میں پہلے جگہ پائے،بد سے بدتر دور امت پر گزررہاہے لیکن نماز شروع ہونے کے بعد کسی وڈیرے کے لیے جگہ خالی نہیں رکھی جاتی۔حج و عمرہ کے موقع پر ہر رنگ و نسل کا مسلمان ایک ہی طرح کے کپڑے پہنے،ایک ہی کلمہ زبان سے ادکرتے ہوئے اور ایک ہی کمرے کے گرد ایک رخ میں چکر لگاتے ہیں۔یہ صرف تاریخ اسلام کا طرہ امتیازہے کہ مسلمانوں میں غلاموں کو بھی حق اقتدار دیا گیا،ہندوستان میں خاندان غلاماں اور مصر میں مملوک خاندان جو غلاموں کے خاندان تھے وہ تخت بادشاہی تک پہنچے اس لیے کہ اس دین میں رنگ و نسل کا کوئی تفاوت نہیں ہے اور آپ ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں فرمادیاتھا کہ تم پر ایک نکٹاحبشی غلام بھی حکومت کرنے لگے اوروہ تمہیں اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے مطابق لے کر چلے تو تم پر اسکی اطاعت لازم ہے۔اسلام نے سب انسانوں کو بلا رنگ و نسل ایک ہی صف میں کھڑا کیا سوائے تقوی کے کہ اللہ تعالی نے فرمایا جو جتنا زیادہ متقی ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ اللہ تعالی کے نزدیک

عزت والا ہوگاخواہ وہ رنگ کے اعتبار سے کتنا ہی کالاہو یا نسل کے اعتبار سے کتنا ہی گیاگزرا ہواور خواہ پیشے کے اعتبار سے کتنا ہی گرا ہوا پیشہ اسکا ذریعہ روزگار ہو لیکن جس نے اللہ تعالی کا خوف اپنے دل میں جمایا ہے اور سنت رسول اللہ ﷺاپنے جسم پر سجائی ہے وہ سب سے زیادہ عزت و توقیر کامالک ہے اور قیامت کے دن جنت کاوارث ہو گا۔