تبصرہ نگار :- عبدالحمید صفیؔ ربانی کتاب : “کہے بغیر” مصنف : اعجاز نعمانی

“ادب تخلیق ہے، تخلیق تجربے کا اظہار کرتی ہے۔تجربہ ذاتی ہوتا ہے، اس میں داخلیت ہوتی ہے، موضوعیت ہوتی ہے، سچائی ہوتی ہے، یہ سچائی کسی دوسرے کی دریافت نہیں فرد کی اپنی دریافت ہوتی ہے۔اس سچائی تک فرد اپنی بصیرت اور شعور کے ذریعے پہنچتا ہے۔”
                                       (جدیدیت مابعد جدیدیت اور غالب __دانیال طریر)
 “کہے بغیر” متنوع اور کثیر الجہتی موضوعات کا مرقع ہے۔


             ہر شعر اپنے آپ میں ایک الگ جہان رکھتا ہے جس کی فہم کے لیے بین السطور دیکھنے کا ہنر از حد ضروری ہے۔پرت در پرت اس خزانے کو جتنا  گہرائی سے پڑھا جائے اتنا ہی اس کی گیرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ پرتیں کھولتے جائیں شاعر آپ کو ہر نئے موسم، نئی رُت، نئی ریت اور نئے مکالمے سے متعارف کروائے گا۔اور اگر وہ کہیں ایسی بات بھی کہتا ہے جو آپ نے پہلے سے سن رکھی ہو تو بھی آپ کا دل کہے گا کہ بخدا یہ بات تو انہی لبوں پہ جچتی ہے۔
                  مَیں نے کتاب کا مطالعہ کیا اور پھر کیا اور پھر……۔کچھ شعر انتخاب کرنے کے لیے کاپی پینسل ساتھ رکھی اور منتخب کرتا چلا گیا۔موضوعاتی تنوع کے سبب جب مَیں کتاب ختم کر کے اپنے انتخاب کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ نصف سے زائد تو انتخاب ہو چکا ہے۔ایسے میں قاری کی طبعِ نازک کا خیال گزرا اور انتخاب پر نظرثانی کی۔مگر کسی شعر کو بھی قلم زد کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔سو طے یہ ہوا کہ چیدہ چیدہ موضوعات کو لے کر کچھ ہلکی پھلکی گفتگو کر لی جائے۔اتنے خوبصورت مجموعے کی مَیں ہو بہو تصویر تو کھینچنے سے رہا مگر اتنی امید ہے کہ آپ کو اس کا پرتو ضرور دکھا پاؤں گا۔
                 اعجاز نعمانی کا اولین وطیرہ محبت ہے۔اور کیوں نہ ہو کہ اُن کی جڑیں پیر پنجال میں پیوست ہیں اور پھل پات بغداد میں ۔اِن دو تہذیبوں کا میل اُنہیں مَحبت کا پیام بر بناتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اُنہیں مَحبت کے سوا کوئی دوسرا کام ہی نہیں آتا یہ مَحبت خالق سے بھی ہے مخلوق سے بھی؛ کربلا کے حسین ؓ سے بھی حسین ؓ کے نانا سے بھی؛ دھرتی سے بھی دھرتی سے جڑی تہذیب سے بھی؛ اپنے وطن سے بھی اور ہم وطنوں سے بھی؛ علم کے نور سے بھی اور اِس نور کے سوتے یعنی استاد سے بھی، یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے لیے تدریس کا پیشہ چُنا جو اُن کے لیے باعثِ عز و شرف ہے۔القصہ وہ سراپا مَحبت ہیں جس کا بین ثبوت ان کے مَحبت کے خمیر میں گندھے خوبصورت اشعار ہیں۔
            اپنے نبیﷺ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس قدر عجز و انکساری سے کام لیتے ہیں کہ راہ مصطفیٰ کے خس و خاشاک ہونے کو بھی کسی بلند مرتبے سے کم نہیں سمجھتے ۔
۔
خس و خاشاکِ راہ مصطفیٰ ﷺہوں
مَیں کس منصب پہ فائز ہوگیا ہوں
۔
              مگر وہ ذکرِ نبیﷺ کو نعت کی صنف تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ زندگی کے کسی بھی پہلو کو ذکرِ مصطفیٰ ﷺسے تہی نہیں دیکھنا چاہتے، اسی لیے غزلوں میں بھی آپﷺ کا ذکر خوبصورتی سے کرتے ہیں ۔
۔
جب پڑی مجھ پر مصیبت کی گھڑی
آپﷺ نے رحمت کا سایہ کر دیا
۔
اپنی کملی میں چھپا لینا گنہ گار ہوں مَیں
مجھ کو رسوا سرِ محشر نہیں ہونے دینا
۔
                کربلا تاریخ انسانی کا وہ سانحہ ہے جس کے درد  سے دنیا  کا کوئی دل تہی نہیں ہے۔اردو شاعری میں شروع سے یہ روایت رہی ہے کہ کتاب کے آغاز میں نعت و سلام پیش کیا جاتا ہے جس کی پاسداری غیر مسلم شعراء تک نے کی ہے۔مگر یہ درد جس ہستی سے وابستہ ہے اس کا تقاضا ہے کہ اس کا اظہار سے سلیقگی سے کیا جائے۔ اعجاز نعمانی اس  پل صراط سے نہ صرف سلامت گزرتے ہیں بلکہ آئندگاں کے لیے نشان بھی چھوڑتے ہیں۔
۔
تنہا تھے رزم گاہ میں پھر نرم خُو حسین ؓ
وہ میرے خوش نسب وہ مرے خوب رو حسین ؓ
۔
دنیا پھر اک یزید کے نرغے میں آ گئی
اک اور کربلا ہے مرے روبرو حسین ؓ


                محبت کی تفہیم میں بہت سوؤں نے گھوڑے دوڑائے ہیں اور ہر ایک کوئی نہ کوئی منزل دریافت کرنے میں سرخرو ہوا ہے ۔مگر ایسا مفہوم ندارد ہے جو آفاقی کہلایا جا سکے۔ اس سلسلے میں اعجاز نعمانی نے جو سعی کی ہے وہ انتہائی قابلِ قدر ہے، اُن کی تفہیم منفرد اور خوبصورت ہے۔وہ محبت کو روشنی سے تعبیر کرتے ہیں۔ جو نفرت کے اندھیاروں میں نور کا پرتو بن کر دلوں کو جگمگاتی اور پیہم پھیلتی چلی جاتی ہے۔
۔
یہ تو اک نور ہے جو بڑھتا چلا جاتا ہے
یہ محبت ہے کبھی کم تو نہیں ہو سکتی
۔
                    اوّل اوّل کی محبت کا نشہ  بھی عجیب ہوتا ہے۔اُکھڑی اُکھڑی سی سانسیں، بجھا بجھا سا چہرہ، کھوئی کھوئی سی نگاہیں، ہر منظر ایک دم پہلے سے مختلف لگنے لگتا ہے، پسند نا پسند میں اچانک تبدیلی واقع ہوتی ہے، رات گئے تک جاگتے رہنا اور خالی نظروں سے آسمان کو تکتے رہنا عادت سی ہوجاتی ۔تاہم اس اسرار سے پردہ اٹھنے میں بہت دیر لگتی ہے۔اور جب پردہ اٹھتا ہے تب کیا کیفیت ہوتی ہے ۔اسے اس سے بہتر کون بیان کر سکتا ہے۔
۔
یہ وہی دن تھے کہ جی نہیں لگتا تھا کہیں
بعد میں علم ہوا مجھ کو محبت ہوئی ہے
۔
             یہ محبت اتنی تاثیر رکھتی ہے کہ جس کی روح میں سرایت کر جائے اُسے ہر سو پھول ہی پھول دکھائی دیتے ہیں ۔وہ کانٹوں پر چلتے ہوئے بھی راحت محسوس کرتا ہے۔پھر اُسے  دشت چھاننے میں حیرت نہیں خوشی ملتی ہے کہ محبت اُسے جہدِ مسلسل سکھا دیتی ہے۔وہ بزدلوں کی طرح حالات سے ہار کر کسی کنج تنہائی میں نہیں بیٹھ جاتا بلکہ منزل کی تلاش میں خاکستری لباس پہنے مسلسل بڑھتا چلا جاتا ہے۔
۔
یہ سارے دشت تری جستجو میں چھانے ہیں
میں ہار مان کے غاروں میں جا بسا تو نہیں
۔
شجر اُگائے ہیں صحرا ہرا بھرا کیا ہے
یہاں رہے ہیں تو رہنے کا حق ادا کیا ہے
۔
                 اور یہ تلاش یوں ہی رائیگاں نہیں جاتی بلکہ شاعر اپنی منزل سے ہم کنار ہو ہی جاتا ہے۔وہ ان بہت کم مگر خوش نصیب لوگوں میں سے ہے جنہیں محبوب بھی محب سا ملتا ہے اور یہ دو طرفہ محبت انہیں ہمیشگی وابستگی سے ہم کنار کرتی ہے۔ایسی ہمکناری جس کے بعد شاعر کو کل جہان اپنی مٹھی میں دکھائی دیتا ہے۔وہ اپنے آپ کو لوگوں کی دسترس سے باہر سمجھنے لگتا ہے ۔
۔
ہاتھ میں جب وہ حنائی ہاتھ آیا ایک پل
یوں لگا جیسے کہ ہے ساری خدائی ہاتھ میں
۔
پھر میں کسی کے ہاتھ میں آیا نہ عمر بھر
وہ ہاتھ میرے ہاتھ میں آیا تھا ایک دن
۔
اور اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہو سکتی ہے!
۔
خوشی اس بات کی ہے اس نے مجھ کو
محبت کی فراوانی میں رکھا
۔
                جب اس قدر فراوانی سے محبت میسر ہو تو پھر لازم ہے کہ محب، محبوب کی ہر خوشی  کے لیے  اپنا سب کچھ وار دینے کے جذبے سے معمور ہو ۔چاہے وہ اس کی ذات کی خوشیاں ہوں، چاہے اس کی انا یا پھر اس کا وجود ۔محبت جیسی انمول شے کا صلہ اس سے سوا کیا ہو سکتا ہے  کہ اُس کی پکار پہ محب جاں ہتھیلی پہ لیے دیوانہ وار چلا آئے ۔
۔
جو میرے پاس تھا وہ لے کے آ گیا ہوں مگر
یہ سوچتا ہوں کہ کچھ گھر  میں رہ گیا تو نہیں
۔
ورنہ ہم لوگ کہاں اپنی انا دیتے ہیں
تو جو کہتا ہے تو پھر جان لٹا دیتے ہیں

اس نے جاں مانگی محبت کے عوض میں ہم سے
ہم اتنی ہی محبت سے کہا؛ دیتے ہیں!
۔
             یہ محبت ہی کا اعجاز ہے کہ انسان اپنی ذات سے نکل کائنات کو اپنا لیتا ہے ۔پھر کائنات کا غم اس کا غم اور کائنات کی خوشی اس کی خوشی بن جاتی ہے۔دل ایسے قطرۂ خوں کو دریا کرنا بھی محبت ہی کا کارنامہ ہے۔نگاہ کی وسعت اور صرف اچھائیاں دیکھنے کا سلیقہ بھی محبت کا فیض ہے۔
۔
کوئی بھی لگتا نہیں ہم کو برا
جب سے ہم نے دل کو دریا کر دیا
۔
             جہاں اس قدر محبت ہو وہاں حساسیت خود بخود در آتی ہے۔انسان کی فطرت ہے کہ  ہر اچھے عمل کے صلے کی تمنا اس کے دل میں رہتی ہے۔مگر بیشتر وہ اس صلے سے محروم رہتا ہے۔ اس صلے کہ محرومی کا رنج اعجاز نعمانی کے یہاں کچھ یوں ہے۔
۔
رنج ہی رنج مجھے روز فزوں ملتا ہے
تو اگر مجھ سے محبت کے بدوں ملتا ہے
۔
                اردو کا شاعر بیشتر رویات کے لگے بندھے اصولوں کے تحت ہی اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔اردو روایت میں شاعر کا دل بت کدہ ہے، اصنامِ خیالی کی آماج گاہ ہے، کہیں پتھر ہے تو کہیں بس اک قطرۂ خون ہے، کہیں ویران کھنڈر ہے اور کہیں دشتِ بے کراں۔مگر اعجاز نعمانی نے اپنے دل کے لیے مدینے کا لفظ استعمال کیا ہے جو نہ صرف اس لحاظ نیا ہے بلکہ شاعر کے پاک طینت ہونے کی گواہی بھی ہے۔وہ جہاں دریا دل ہے وہیں اس دریائی دنیا کو پاکیزہ بھی رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس نے جنہیں اس دنیا میں آباد کیا ہوا ہے وہ کسی دوسرے ماحول کا اثر قبول نہیں کر سکیں گے۔
۔
ان دنوں میرے مدینے میں اتارے گئے شعر
جن دنوں آپ سے ملنے کی سعادت ہوئی ہے
۔
در بدر خاک بسر پھرتی ہے گلیوں گلیوں
مَیں نے جب دل کے مدینے سے نکالی دنیا
۔
                   شاعر کے لیے محبوب کے حسن کی تعریف سب سے ہم مرحلہ ہوتا ہے ۔جہاں وہ بہت سوچ بچار سے الفاظ کی نوک پلک درست کرتا ہے ۔کہیں مبالغہ آرائی سے کام لیتا ہے، کہیں زمین و آسمان کی وسعتوں کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے، کہیں استعاروں، تشبیہوں ،کنائیوں سے کام چلاتا ہے، یہی سب اس کے موثر ہتھیار ہیں جن کے توسط سے محبوب کے حضور میں اس کا سراپا کھینچ کر رکھ دیتا ہے۔تاہم حسن بجائے خود ایک کائنات ہے اور وہ اپنے اظہار کے لیے کسی دوسری شے سے مماثلت کا محتاج نہیں ہے ۔اُسے کسی سہارے کے بغیر بھی ہو بہو پیش کیا جاسکتا ہے۔اُسے چاند، پھول،شبنم ،ستارہ، چراغ یا کچھ اور نہ بھی کہا جائے تو بھی وہ اتنی استعداد رکھتا ہے کہ مکمل طور پر ظاہر ہو سکے۔مگر شاعر کا تخیل اس کا متحمل نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کر سکے پس اسے مجبوراً محولہ بالا ہتھیار کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔تاہم اس میدان میں بھی اعجاز نعمانی بازی لے جاتے ہیں۔وہ محبوب کی تعریف کرتے ہوئے ادھر اُدھر سے کھینچا تانی نہیں کرتے بلکہ سیدھے سپاٹ انداز میں دل کی بات کہ دیتے ہیں اور اتنی خوبصورتی سے کہتے ہیں کہ حسن مارے شرم کے اپنی باہوں میں سمٹ آتا ہے۔
اشعار دیکھے۔

مثال کوئی نہیں ہے مثیل کوئی نہیں
تمھارے حسن کے آگے دلیل کوئی نہیں
۔
حسن اور اتنی فراوانی کے ساتھ
دیکھتا رہتا ہوں حیرانی کے ساتھ
۔
تیرا ذکر جہاں چھڑتا ہے
گھر مے خانے ہو جاتے ہیں
۔
اب کہاں سے مَیں ڈھونڈ کر لاؤں
تیری کوئی مثال۔۔۔جانے دے
۔
ساحل پہ آگیا ہے  عریاں جمال اُس کا
اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہے دریا ادھر اُدھر سے
۔
پرند نغمہ سرا ہیں کسی کی آمد پر
درخت اس کے لیے تالیاں بجانے لگے
۔
سبھی کو اس کی مثالوں سے ہم سمجھتے ہیں
کوئی نہیں ہے جو اس کی مثال رکھتا ہے
۔
قائم نظام ہست بس اس کی کشش سے ہے
جو بھی حصار یار سے نکلا، نہیں رہا
۔
گزری نہیں ادھر سے کوئی رو زوال کی
اُس کو اسی جمال میں مدت گزر گئی
۔
آ گیا ذہن میں اک بار تصور اسکا
سج گئے چاروں طرف نقش و نگار حیرت
۔
               جہاں محبت ہے وہاں قصہء ہجر و وصال لازم ہے۔شاید ہی دنیا کی کوئی محبت ہو جو سراسر وصال یا فراق ہو۔بلکہ زندگی انہی دو ٹیلوں کے درمیان سعی کرتے رہنے کا نام ہے۔جب وصل سے ہم کنار ہوا جاتا ہے تب سپردگی کا احساس شدید ہوتا ہے، محبوبے کے سراپے کی نقش گری ہوتی ہے، محویت کا عالم ہوتا ہے، مگر یہ موقع انتہائی نازک ہوتا ہے کہ نہ تو حسن پہ داغ لگنے پائے اور نہ ہی عشق رسوا ہو، دونوں جانب سے اس کا پاس رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ عمر بھر کی رسوائی گلے پڑ جاتی ہے ۔رومانس کی ہلکی مگر دیر پا جھلک دکھا کر آگے بڑھتا ہوں ۔
۔
شاخ بدن پر ہونٹوں سے
پھول کھلاتا رہتا ہوں
۔
                 مگر یہ پھول کھلنے، کھلانے کا سمے بہت مختصر ہوتا ہے ۔جس کے بعد ہجر کا ایک طویل دور شروع ہوتا ہے ۔جس میں عاشق کہیں مجنوں کی طرح دشت پیمائی کرتا ہے کہیں فرہاد کی طرح پہاڑ کاٹتا ہے ۔کہیں سرِ راہ پیرہن چاک کیے گریہ کرتا نظر آتا ہے ۔کہیں محبوب کے محمل پیچھے برہنہ پا بھاگتا دکھائی دیتا ہے ۔مگر یہ اپنے اپنے علاقے کی بات ہے ۔ہر عاشق کے ہاں ماحول ایک سا نہیں ہوتا، اپنے اپنے ظرف کے مطابق ہجر کا روگ پالا جاتا ہے۔اعجاز نعمانی ایک بلند معاشرے کا فرد ہے جہاں دھاڑے مار کر رونا، گریبان چاک کرنا، خاک کے پیوند لگانا زیب نہیں دیتا ۔خود ان کا مقام انہیں ایسا کرنے سے روکتا ہے ۔سو وہ ہجر کا روگ بھی سلیقگی سے مناتے ہیں۔
۔
ہجر آزار ہے اور وصل ہے بس اسکا علاج
اس مسیحا کو یہ بیماری سمجھ آ جائے
۔
کس لیے پوچھتا ہے تو مجھ سے
میرے ماضی کا حال جانے دے
۔
میری طرح تمھیں بھی سخن بھول جائیں گے
بچھڑا جو کوئی تم سے تمھارا اسی طرح
۔
آنکھوں میں لے کے حسرت دیدار چل پڑے
مدت کے بعد جس طرح بیمار چل پڑے
۔
ہم سناتے کسی کو حال دل
کوئی اپنا بھی رازداں ہوتا
۔
         ہجر کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں ہجرت کا دکھ بھی ہے ۔شاید اس لیے بھی کہ ان کا تعلق جس خطے سے ہے وہاں یہ دکھ شدت کے ساتھ جلوہ گر ہے ۔یہ ہجرت اپنے گھر سے، اپنے دیار سے بھی ہے، یہ ہجرت کسی کے دل سے بھی ہو سکتی ہے اور اپنے دل سے کسی کا ہجرت کر جانا بھی ہو سکتا ہے۔ہجرت کرنے والا کوئی خواب بھی ہوسکتا ہے، انسان بھی اور کوئی دیرینہ خواہش بھی جو مدتوں تکمیل کی آس لیے دل میں بیٹھی رہتی ہے پھر ایک روز اچانک ہجرت کر جاتی ہے۔
۔
الوداع آئے ہیں کہنے کو منڈیروں پہ چراغ
دل سے یہ کون سی خواہش ہے جو رخصت ہوئی ہے
۔
کسی گھر سے دھواں اٹھتا نہیں ہے
یہی لگتا ہے سارے جا چکے ہیں
۔
کر نہ جائے وہ اندھیرا کہیں جاتے جاتے
لے جائے وہ کہیں ساتھ اجالے میرے
۔
دیکھا پلٹ پلٹ کے ہر اپنے پرائے کو
روکا نہ جب کسی نے تو ناچار چل پڑے
۔

               اس قدر سلیقگی سے غم کرنے، محبت کا بھرم رکھنے، حسن کو سرخرو کرنے اور عشق کی آبرو رکھنے کا ایک اور راز بھی ہے جو خود ان کے یہاں سے ملا۔
۔
اس محبت نے سکھائی ہے مجھے عجز کی خو
اب طبیعت مری برہم تو نہیں ہو سکتی
۔
                اگر پوچھا جائے کہ دنیا کا نازک ترین دل کس کے پاس ہے تو بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ شاعر اس کا حامل ہے۔شاعر کا دل حساسیت کے خمیر میں گندھا ہوتا ہے۔انسانیت کا غم گویا اس کا مذہب ہوتا ہے۔دنیا میں کہیں بھی کسی بھی انسان پر ظلم ہو رہا تو وہ اس پر احتجاج کرتا ہے ۔اور اگر وہ خود ان لوگوں میں سے ہو جن پر دہشت کے سائے ہمیشہ منڈلاتے رہیں تو اس کا احتجاج اور زیادہ موثر شکل اختیار کر لیتا ہے ۔اعجاز نعمانی کا تعلق خطۂ کشمیر سے ہے، چناروں کی اس دھرتی سے جو کئی دہائیوں سے شعلوں میں زد میں ہے ۔ان کے ہاں کشمیر کا غم بھی ہے، شمع آزادی  کے پروانوں کے لیے تحسین بھی اور ایک پرنور اور آزاد صبح کی امید بھی ہے ۔انہی افکار کی ذیل میں کچھ شعر دیکھیے ۔
۔
بربادی چمن کا سبب ایک یہ بھی ہے
کردار اپنا اپنا نبھایا نہیں گیا
۔
ظلم کی کھنچی تھی اک روز یہاں سرخ لکیر
جل اٹھے وصل کی حسرت سے چنارِ حیرت
۔
کیوں نہ تڑپوں گا میں برما کے شہیدوں کے لیے
ان سے غم ملتا ہے، دل ملتا ہے، خوں ملتا ہے
۔
جو گھر جنت نشاں ہوتا تھا پہلے
وہی زندان ہوتا جا رہا ہے
غمِ کشمیر ہے جو میرے خوں میں
مری پہچان ہوتا جا رہا ہے
۔
مرے خدا کی خموشی سے وہ نہیں واقف
جو مجھ سے کہتا ہے تیرا کوئی وکیل نہیں
۔
ہلالی پرچموں کے جھیل ڈل پر
سنا ہے لہلہانے تک رہوں گا
۔
رات تاریک ہوئی جاتی ہے لیکن ہم کو
اک ستارے نے بتایا ہے سحر ہے آگے
۔
ہائے چھلنی ہو یہ مشکیزہ کہ پانی جائے
جبر والوں سے مگر ہار نہ مانی جائے
۔
ابھی اکھڑے نہیں ہیں میرے پاؤں اپنی دھرتی سے
ابھی ثابت قدم ہوں جبر کی اندھی ہوا، دیکھا!!
۔
لہو سے لکھ گیا برہان وانی
پرندوں کو رہا کرنا پڑے گا
۔

             وطنیت ایک ایسا جذبہ ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، چاہے یہ گفتارِ نبوت میں ہو؛ چاہے گفتار سے سیاست میں؛ کوئی شخص اسکا اسیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔اعجاز نعمانی بھی اس محبت کے اسیر نظر آتے ہیں مگر ان کی وطنیت وہی ہے جو گفتارِ نبوت میں ہے۔وہ اپنی دھرتی سے پیار کرتے ہیں اس لیے کہ وہ ان کا خمیر ہے۔نبی اکرم ﷺ نے جس بنا پر مکہ سے محبت کا اظہار کیا تھا یہ بالکل ویسی ہی محبت ہے۔وہ اپنے دیس سے پیار کرتے ہیں اس کے حسیں نظاروں، لالہ زاروں سے محبت کرتے ہیں وہ اسکے پرچم سے محبت رکھتے ہیں وہ خاکِ وطن کے ہر زرے کو دیوتا نہیں سمجھتے مگر جگر کا ٹکڑا سمجھتے ہیں ۔
۔
امڈتے جاتے ہیں گرداب میری آنکھوں سے
یہ جوئے جہلم و نیل آب میرے سامنے ہے
۔
میری دنیا ہے مری جان مرا پیارا وطن
سبز پرچم ہے مری سبز ہلالی دنیا
۔
خیبر، سندھ، پنجاب، بلوچستان میں رہتا ہوں
مَیں کشمیر ہوں سارے پاکستان میں رہتا ہوں

پریوں والی جھیل مری آنکھوں میں بہتی ہے
میں روگی شہزادہ ہوں ناران میں رہتا ہوں

سارے سجر سویرے میرے دم سے ہیں
شاعر ہوں مَیں گلگت بلتستان میں رہتا ہوں
۔
               مگر وہ شاعر ہیں اور شاعر کسی بھی طور سرحدوں کا پابند نہیں ہو سکتا،سو وہ بھی اس حصار کو توڑتے ہوئے آفاقیت کی بے کرانی کی طرف بڑھتے ہوئے کہتے ہیں ۔
۔
پورب، پچھم، اتر، دکھن، سارے اپنے لوگ
میں دنیا کے ہر زندہ انسان میں رہتا ہوں
۔
مَیں پیڑ ہوں اپنی ذات میں، مرا لمبا چوڑا پھیر
مری جڑیں ہیں پیر پنجال میں، پھل پات مرے بغداد
۔
               اعجاز نعمانی پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں ۔مگر وہ ایسے استاد بالکل نہیں ہیں جن کی استادی مکتب تک محدود ہو، وہ ہر زمان و مکان کے لیے استاد بنتے دکھائی دیتے ہیں ۔زندگی کا ہر درس ان کی تدریس میں شامل ہے، دنیا کی بے ثباتی کا ذکر ہو یا زندگی جینے کے طور طریقے، وہ ہر ایک پر نہ صرف گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ ہمیں درس بھی دیتے ہیں۔وہ تیرہ شبوں میں چراغ جلانے کا درس دیتے ہیں اور اگر چراغ میسر نہ ہوں تو خون دل تک جالا دینے کی تلقین کرتے ہیں کہ اندھیاروں سے کبھی شکست نہیں کھانی ۔وہ خطرات سے آگاہی بھی بخشے ہیں اور ان سے نبٹنے کا سلیقہ بھی سکھاتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ دنیا عرض حال سے بے آبرو کرتی ہے سو وہ غم پی جانے اور زخم چھپانے کا گر سکھاتے ہیں۔
آئیے کچھ شعر اس ضمن میں دیکھتے ہیں ۔
۔
مرے بزرگوں کا پیشہ پیمبرانہ تھا
خدا کا شکر ہے میں بھی پڑھانے والا ہوں
۔
یہ میرا عجز ہے اعجاز کہ دکھلاتا نہیں
ورنہ میں زخم کئی تیری قسم رکھتا ہوں
۔
تیرگی حد سے گزر جاتی ہے جب بھی اعجاز
ہم لہو اپنا چراغوں میں جلا دیتے ہیں
۔
یہ تند خو ہوا کبھی ٹلی نہیں کسی طرح
اگر یہ اپنی  بات پر انا پسند، آ گئی
۔
عجب نہیں کہ چھین لے امیر شہر اس کو بھی
اگر کسی فقیر کی قبا پسند آ گئی
۔
تب سے رائج ہوا دیوار اٹھانے کا رواج
جب سے رکھا گیا گھر بار کی بنیاد میں خوف
۔
تم زمانے کو برا کہتے ہو کیا یاد نہیں
اُس نے یہ بھی تو کہا تھا کہ زمانہ میں ہوں
۔
ہنستا رہتا ہوں خود پر
زخم چھپاتا رہتا ہوں
۔
بہت مشکل ہے اب پہچان کرنا
بہت سے روپ دھارے جا چکے ہیں
۔
نئے جہان کی تعمیر کرنے والا ہوں
تمام عالمِ اسباب میرے سامنے ہے
۔
مشکلوں میں مسکرانا سیکھ لو
زندگی بدلے گی آسانی کے ساتھ
۔
             مگر وہ جانتے ہیں کہ جب استادی اس نوعیت کی ہو پھر صلہ بھی اتنا ہی منفرد ہوگا ۔وہ سقراط کی طرح کہنہ نظام بدلنے کے لیے اپنے استادانہ فن کا استعمال کرتے ہیں مگر جانتے ہیں کہ سقراطوں کا انجام کیا ہوا کرتا ہے سو وہ کہتے ہیں :
۔
جئے گا کوئی تو سقراط بن کر
 ہجوم اب میری جانب دیکھتا ہے
۔
               بات نہ چاہتے ہوئے بھی بہت طول پکڑ گئی مگر کیا کیا جائے کہ یہ ایک ایسا بے کراں سمندر ہے جس کی تہ میں ہزاروں خزانے پوشیدہ ہیں، ایک کے بعد ایک کی کھوج میں نہ جانے میں کتنا دور نکل آیا ہوں مگر یہ یقین سے کہ سکتا ہوں کہ آپ اکتائے نہیں اور اگر میرے نا پختہ اسلوب سے اکتائے بھی ہوں تو اشعار کی چاشنی نے اس اکتاہٹ کو دور کر دیا ہو گا۔جہاں اس قدر عمدہ شعری اسلوب موجود ہو، جس جگہ جہاں بینی کا ہنر اس قدر ہو، جہاں محبت کی فراوانی ہی فراوانی ہو، وہاں فخر و غرور اور انانیت بے جا نہیں۔اردو شاعری میں بکثرت اس کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں ہر شاعر اپنے تئیں اس کا اظہار رکھتا ہے ۔تاہم اعجاز نعمانی اپنے اس فخر میں اکیلے شامل نہیں ہوتے بلکہ ایک آفاقی شاعر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس میں اپنے جیسے دیگر انسانوں کو بھی شامل کرتے ہیں ۔ان کی فطرت ہے کہ وہ بانٹنا پسند کرتے ہیں، چاہے وہ اپنی خوشیاں ہوں، کسی کے غم ہوں، محبت ہو یا اپنا غرور ہو، وہ دوسروں میں تقسیم کرتے ہوئے زرا نہیں ہچکچاتے۔
۔
ہمیں سے ہے تری اوقات ورنہ
زمانے تجھ میں کیا رکھا ہوا ہے
۔
پتھر پہ کھنچی جائے ہے جیسے کوئی لکیر
وہ ہو گیا جو میری زباں سے نکل گیا
۔
اے فلک تیرا نہیں کوئی مرے بعد جواز
تیرے سینے میں فقط ایک خزانہ میں ہوں
۔

           سبھی کچھ قاری کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا ہے سو تھوڑا سا اس سے ہٹ کے بھی شامل کرتا چلوں۔عوام تو یقیناً اس فعل کو نظرانداز کر دیں گے مگر شعراء حضرات ممکن ہے مجھے کنکھیوں سے دیکھیں مگر کیا کیجئے کہ اس بکھیڑے میں الجھنا میری کمزوری ہے۔آمدم بر سرِ مطلب؛ شاعرِ موصوف نے اس مجموعے میں سالم بحروں اور ضحافات سمیت ١٦ مختلف اوزان کو برتا ہے، جو کہ اچھی بھلی تعداد ہے۔اس کا ذکر اس لیے کیا کہ مختلف بحروں کے استعمال سے مطالعے کے دوران جلترنگ سے بجنے لگتے ہیں ورنہ عمومی کتابوں میں چند  بحروں  میں پے در پے غزلیں پڑھ کر اکتاہٹ سی ہونے لگتی ہے (کہ انسان تغیر پسند ہے) ۔
           سوچتا ہوں کہ جو “کہے بغیر” اتنا کچھ کہ دینے کا سلیقہ رکھتا ہے اگر وہ کہنے پہ آ جائے تو کیا قیامت اٹھا سکتا ہے۔ یہ قصہ محمد یامین صاحب کے اعجاز نعمانی کی بابت کہے اس جملے پر ختم کرتا ہوں ۔
               ” اگرچہ وہ………. شاعروں کا امام تو نہیں بن سکتا لیکن
                 اس کتاب کے طفیل سے اس کے مقلدین ضرور پیدا
            ہوں گے جو ہو سکتا ہے مستقبل میں شاعری کا رخ موڑ دیں۔”