تحریر : سالک محبوب اعوان 

          بڑا زبردست ماحول تھا  اور پہلی ہی نظر میں گمان ہوتا کہ  یہ بڑی علمی اور ادبی محفل ہے اورہوتا بھی کیوں نہ  آخر اس محفل میں کائنات کے چند چوٹی کے علوم جلوہ افروز تھےاور اپنی اپنی علمی رائے دے رہے تھے۔ شاملِ محفل ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ جیسا گمان تھا حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ محفل دو گروہوں میں منقسم تھی ایک گروہ فطری علوم کا تھاجو اپنی علمی برتری جتا رہا تھا جب کہ دوسرا گروہ سماجی علوم کا تھا  اور جس کی نمائندگی فقط علمِ معاشیات کر رہا تھا۔ فطری علوم کے شرکاء مخالف گروہ پر اپنی علمی برتری کے وار کر رہے تھے۔ کبھی ریاضی کی آواز اُبھرتی کہ مجھے تو تمام علوم میں کُلی برتری حاصل ہے اور میں تمام علوم کی ماں ہوں۔ گنتی کا تصور میرا ہی تو دِیا ہوا ہے کہ آج جس پر تمام کائنات  کا ا نحصار ہے۔ میرے بغیر کوئی حساب کتاب نہیں کر سکتا اور تو اور مذہبی علماء بھی توحید کا تصور  کہ اللہ ایک ہے میرے بغیر نہیں دے سکتے۔ اَب خود دیکھ لیجئے کہ ایک کاتصور گنتی سے ماخوذ  ہے اور گنتی کا تعلق تو ہے ہی ریاضی سے، جب کہ دوسری جانب یہ معاشیات کا علم تو ریاضی کے بغیر اپنی بات مکمل بھی نہیں کر سکتا۔ کبھی معاشی اعدادوشمار اور کبھی مالیات کا جوڑتوڑ، جہاں نظر دوڑاؤ جابجا ریاضی ہی کا استعمال ہوتا نظر آتا ہے۔


سالک محبوب اعوان 

          یہاں کچھ خاموشی ہوئی  تو علمِ کیمیاء کی آواز اُبھری ریاضی کی اہمیت تو ضرور ہے لیکن میری اہمیت بھی اس سے کم نہیں۔ فطرت کے بنائے گئے عناصر اور ان کی ترکیب میری عدم موجودگی میں نہ تو کوئی معلوم کر سکتا ہے اور نہ ان کے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔  فطرت اور علمِ کیمیاء کا بڑا گہرا تعلق ہے  اور اسی تعلق کی بِنا پر آج حضرتِ انسان ادویہ سازی کی مہارت حاصل کر چکا ہے۔ سوچو اگر علمِ کیمیاء نہ ہوتا تو انسان بیماریوں کا مقابلہ کیسے کرتا؟ بات جاری ہی تھی کہ علم طبعیات نے اپنی عظمت کی داستان بیان کی، یہ طبعیات ہی تو ہےکہ جس کی بدولت آج انسان نے اتنی مادی قوت حاصل کی ہے کہ اگر طبعیات کو انسانی زندگی سے نکال دِیا جائے تو دنیا ایک مرتبہ پھر سے اندھیروں میں ڈوب جائے۔ وہ برقی رو جو کسی زمانے میں آسمان سے گرتی تو انسان کے لیے بس ہلاکت ہی لاتی آج طبعیات کی بدولت انسان اس قابل ہوا کہ نہ صرف آسمان سے آتی بجلی کے نقصان سے خود کو بچا لے بَل کہ وہ خود اس برقی رو کو پیدا کر کے اس کو  اپنی زندگی کے مختلف لوازمات پورا کرنے کے لیے استعمال میں لائے۔ وہی برق کہ جس کا دوسرا نام ہلاکت تھا اَب محض طبعیات کی بدولت وہی برق ہے کہ جس کا دوسرا نام زندگی ہے، اس کے علاوہ اکائیوں کا تصور بھی طبعیات کا ہی دیا ہوا ہے۔ ایسی کوئی خاصیت کسی سماجی علم کے ہاں  تو نظر نہیں آتی۔  علمِ معاشیات تو خود اپنے کسی قانون کو مفروضات کے بغیر مکمل نہیں کر سکتا تو وہ فطری علوم کے اٹل حقائق کا کیسے مقابلہ کر سکتا ہے؟ ابھی یہ بات مکمل ہوئی ہی تھی کہ علمِ حیاتیات نے زبان کھولی۔دیکھیں حیاتیات تو نِکلا ہی حیات سے ہے یعنی میرا دوسرا نام زندگی ہے۔ فطری علوم تو سب آپس میں جوڑے ہیں جن کی سماجی علوم پر برتری واضح ہے۔ دیکھیں اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ادویہ سازی علمِ کیمیاء کی مرہونِ منت ہے لیکن کیا ہوتا اگر انسان  کسی مرض کی تشخیص ہی نہ کر پاتا؟ دوا تو تشخیصِ مرض کے بعد دی جاتی ہے لیکن تشخیص کا مرحلہ تو حیاتیات نے ہی طے کروایا۔فطری علم ہونے کی وجہ سے ہم سب آپس میں جوڑے ہیں اور سماجی علوم پر ہمیں علمی برتری حاصل ہے۔

          اس جارحانہ گفتگو کا معاشیات پر بڑا گہرا اثر نظر آ رہا تھا   اور اتنی باتوں میں اسے بات کا موقع بھی نہ مِلا لیکن ان سب باتوں کے بعد محفل میں کچھ سکوت ضرور پیدا ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ فطری علوم کی برتری واضح ہے جس کا مخالف گروہ کے پاس کوئی جواب نہیں لیکن اسی سکوت  کا فائدہ معاشیات نے اُٹھایا اور موقع غنیمت جانتے ہوئے گویا ہوا، میں کب آپ تمام علوم کی عظمت کا انکاری ہوں؟ ہاں کچھ کہنے اور اپنا دفاع کرنے کا حق مجھے  بھی حاصل ہے۔  علمِ معاشیات نے اَب تک کچھ کہا نہیں بس کیِا ہے اور یہ کرنا شاید کسی  نے دیکھا نہیں اسی لیے اس کے کام کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ مان لیا کہ ریاضی تمام علوم کی ماں ہے لیکن اگر معاشیات نہ ہوتی تو ریاضی کو یہ اہمیت کبھی حاصل نہ ہوتی۔ معاشی اعدادوشمار ہی نے تو ریاضی کی شان میں اضافہ کیاورنہ یہ اعداد ایک علامت سے زیادہ کچھ نہ ہوتے۔ ریاضی کے اُصول و قوانین کو معاشیات ہی نے تو آگے پھیلایاورنہ صرف ریاضی شاید ریاضی دان تک ہی محدود رہتا۔ درسِ توحید ریاضی کا مرہونِ منت ہی سہی لیکن معاشیات توحید کی عملی صورت بھی پیش کرتا ہے۔ علمِ معاشیات میں عملی صورت میں منڈی کے نظام میں کوئی تو ہے  جو نہ نظر آنے والا ہاتھ ہے اور وہ اس نظام کو چلا رہا ہے بالکل اسی طرح کوئی تو ہے جو اس نظامِ کائنات کو چلا رہا ہے۔ یوں معاشیات کا جاننے والا توحید کو زیادہ اچھے سے  عملی انداز میں سمجھ سکتا ہے۔

          اگر علمِ کیمیا ء کا فطرت سے گہرا تعلق ہے  تو روزہ، زکوٰۃ      اور حج جیسے بنیادی  ارکانِ اسلام کا تعلق معاشیات سے کیوں ہے؟  حالاں کہ اسلام تو ہے ہی دین فطرت۔  روزہ رکھوکہ غربت کا اندازہ ہو،زکوٰۃ دو کہ غریب کی اعانت ہو اور اگر سفر کا خرچ ہو تو حج کرو تاکہ دولت گردش میں رہے۔ اَب بتائیے اِن میں سے کس فطری رکن کا تعلق علمِ کیمیاء سے ہے؟ حتٰی کہ معراج جیسے عظیم واقعہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں سُود خوروں، زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں اور اپنے مال سے جہاد کرنے والوں کا انجام دکھایا گیا ہے اور ان سب واقعات کا تعلق معاشیات سے ہے یہ الگ بات ہے کہ معاشیات نے اپنی علمی برتری کا گُن نہیں گایا۔ علمِ طبعیات کی یہ بات تو دل و جان سے قبول ہے کہ اگر طبعیات نہ ہو تو دُنیا پھر سے تاریکی میں ڈوب جائے لیکن اس بات سے بہت دُکھ ہوا کہ معاشیات کے قوانین صرف مفروضات ہی پر چلتے ہیں جب کہ طبعیات کے قوانین قطعی اور اٹل ہیں۔ طبعیات کے اس اٹل قانون کو سب جانتے ہیں کہ زمین تمام اشیاء کو اپنی جانب کھینچتی ہے اور یہ اٹل قانون کششِ ثقل کا قانون کہلاتا ہےلیکن پوچھنا یہ ہے کہ کیا  ہوا میں اُڑتے پرندوں پر یہ اٹل قانون لاگو نہیں ہوتا؟ کیوں اُڑتے پرندے دھڑام سے زمین پر نہیں آ لگتے؟ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس قانون کا اُڑتے پرندوں پر نفاذ نہیں ہوتا بَل کہ وجہ یہ ہے کہ کچھ مخالف قوتیں ہوتی ہیں جو اِن پرندوں کو نیچے نہیں آنے دیتیں اور یہی مخالف قوتیں معاشیات میں مفروضات کہلاتی ہیں اور انہی مفروضات کو علمِ معاشیات میں “باقی حالات بدستور رہیں” کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے۔ جیسے باقی حالات بدستور رہیں تو افادہ کا قانون قابل ِ عمل ہو گا۔  علمِ معاشیات  اپنے مفروضات کو کھول کر بیان کرتا ہے اور شاید دیگر علوم ان کو کھول کر بیان نہیں کرتے  اس لیے معاشیات کے بارے میں اس غلط فہمی نے جنم لیا کہ معاشیات ایک خشک مضمون ہے۔ ایک بات اور کہ انسانی زندگی میں اگر طبعیات نے اکائیوں کا تصور دِیا تو معاشیات نے اس سے بھی بڑا کام یہ کیا کہ ان اکائیوں کو مجتمع کیا۔  مائع کی اکائی لیٹر، ٹھوس کی اکائی کلوگرام اور لمبائی کی اکائی میٹر وغیرہ ایک اہم سنگِ میل سہی لیکن کیا اِن کو آپس میں جمع کیا جا سکتا ہے؟ تو یقیناً نہیں۔لیکن علمِ معاشیات نے حضرتِ انسان کی اس مشکل کو بہت آسان کر دیا اور ان سب کی ایک ہی اکائی بنا کر انہیں مجتمع کر دیا اور وہ اکائی ہے قیمت۔  مائع (دودھ) اتنے روپے لیٹر، ٹھوس (گندم) اتنے روپے کلویا لمبائی (کپڑا) اتنے روپے میٹر وغیرہ اور ایک ہی وقت میں اِن سب کو جمع کرو اور کل خرچ نکال لو۔

          بات تو یہ بھی دل و جان سے قبول ہے کہ حیات کا مطلب زندگی ہے اور حیاتیات کا تعلق حیاتِ انسانی سے ہے۔ مرض کی تشخیص ایک بہت بڑا کارنامہ ہے تاکہ حیاتِ انسانی کو دوام ہو لیکن کیا ہو گا اُس زندگی کا جس میں مرض کی تشخیص تو بہت عمدہ ہو لیکن پیٹ بھرنے کا کوئی انتظام نہ ہو، پیٹ خالی ہو گا تو زندگی کیسے پھلے پھولے گی؟ پیٹ کو بھرنے کی تگ و دو کا نام معاش ہے اور یہی عین معاشیات ہے۔

فطری علوم کی برتری کو مان کر بھی اور اس کے  اٹل قوانین کو تسلیم کر کے بھی یہ بات کون بتائے گا  کہ کیا کسی فطری علم کے سینے پر انسان کو کوئی نظام دینے کا تمغہ سجا ہے؟  یہ علمِ معاشیات ہی ہے جس نے انسان کو زندگی گزارنے کے لیے نظام بنانے پر اُکسایا۔ خوبیاں ، خامیاں اپنی جگہ لیکن سرمایہ داری نظام، اشتراکی نظام،مخلوط معاشی نظام یا اسلام میں معاشی نظام، یہ سب معاشیات ہی کی کارگذاریاں ہیں۔ کیا کوئی  سرمایہ دارانہ نظامِ طبعیات یا اشتراکی نظامِ ریاضی  یا مخلوط نظامِ حیاتیات یا اسلامی نظامِ کیمیاء ہے؟ اگر نہیں  تو یہ سمجھ لیں کہ نہ تو معاشیات خشک مضمون ہے اور نہ ہی مفروضات پر مبنی ایک کمزور علم بَل کہ یہ وہ طاقت ہے کہ جس کا اثر انسانی زندگی کے ہر پہلو پر ہے اَب چاہے وہ پہلو فطری ہو یا سماجی۔ اَب تو محفل پر وہ سکوت چھایا جو پہلے نظر نہ آیا تھا اور ہر کوئی نظروں سے علمِ معاشیات کو داد دے رہا تھا اور معاشیات نے مجھے یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ آج کی بزم تو بزمِ اقتصاد ہے