July 7, 2022

ماحولیات کے مقامی مسائل سے نمٹنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی ضرورت ہے، پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی ورجوئل ڈسکشن  کا اعلامیہ


لندن /راولاکوٹ (سوشل میڈیا  مانیٹرنگ ڈیسک)
پریس فار پیس فاؤنڈیشن  برطانیہ کے زیراہتمام ” راولاکوٹ کے ماحولیاتی مسائل” کے موضوع  پر  منعقدہ ٹویٹر  پینل ڈسکشن کے شرکا نے  خبردار کیا ہے کہ ماحولیات کے مقامی  مسائل سے نمٹنے کے لیے  پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ  کے تحت ہمہ گیر اور انقلابی اقدامات  نہ اٹھائے گئے تو مقامی خطے خطرناک صورت حال اور ناگہانی آفات کی زد میں آسکتے ہیں جس سے  مقامی آبادیوں کو سنگین  معاشی، سماجی اور ماحولیاتی مسائل کا سامنا  کرنا پڑسکتا ہے۔ ٹویٹر سپیس  کے پلیٹ فارم پر منعقدہ اس  ورچوئل ڈسکشن کی میزبانی کے فرائض  مظہر اقبال مظہر (لندن )  نے سرانجام دئیے  جبکہ  پینل  کے شرکا  سے ایجوکیشن کنسلٹنٹ جمیل احمد،  مصنف جاوید خان،   صدر غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ سردار راشد نذیر،  سینئر صحافی اور تجزیہ کار خواجہ  کاشف میر،  پروفیسر ظفر اقبال، ڈائریکٹر پریس فار پیس فاؤنڈیشن  یو کے، عبدالواجد خان،  سینئر صحافی، شاہد اعوان سوشل ایکٹویسٹ  خورشید عباسی،غضنفر عزیز، جمیل مقصود اور دیگر  مقررین نے خطاب کیا- اس پینل ڈسکشن میں راولاکوٹ، مظفر آباد کے علاوہ  یورپ اور برطانیہ سے ماحولیاتی مسائل سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد  میں شرکت  کر کے  راولاکوٹ اور آزاد خطے کے ماحولیاتی مسائل پر زیر حاصل گفتگو کی ۔ اس پینل ڈسکشن کے شرکا نے  اپنی سفارشات پیش کیں جن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ   جدید دور کے ماحولیاتی مسائل کو  کم کرنے کے لیے عوا م اور سول سوسائٹی کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہو گا۔ مضر صحت شاپنگ بیگ پر  مکمل پابندی عائد کی جائے۔ راولاکوٹ، مظفر آباد اور دیگر شہروں میں سیوریج اور کوڑا کرکٹ تلف کرنے کے جدید منصوبے شروع کیے جائیں۔

موٹیویشنل سپیکر اور ایجوکیشنل کنسلٹنٹ جمیل احمد کا کہنا تھا کہ  ہمارے خطے میں زمینی اور فضا کی آلودگی خطرناک حد کو پہنچ چکی ہے  لیکن عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر سنگینی کا ادراک نہیں کیا جارہا۔ ماحولیات کے مسائل کے حل کے لیے  مہذب شہری کے طور پر فعال کردار ادا  کرنا ہو گا۔ جنگلات میں لگی آگ سے ایک قومی ورثہ تباہی سے دوچار ہے، اس کو بچایا جائے۔پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار خواجہ  کاشف میر کا کہنا تھا  کہ آزاجموں و کشمیر  نے مسلم لیگ نون کے  پانچ  سالہ دور حکومت (سال 2016ء سے 2021ء) تک محکمہ جنگلات کے ذریعے بلین ٹری سونامی منصوبے اور گرین پاکستان پروگرام کے تحت محکمہ جنگلات اور محکمہ وائلڈ لائف کے ذریعے مجموعی طور پر 19 ارب 28  کروڑ 48  لاکھ روپے آزادکشمیر میں جنگلات اگانے اور بچانے پر خرچ کیے گئے۔ پی ٹی آئی کی ایک سالہ حکومت کے دوران بھی بلین ٹری اور گرین پاکستان منصوبے کے تحت 6 ارب روپے سے زائد خرچ ہو رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کا اپنا بجٹ اس کے علاوہ ہے۔انھو ں نے تحفظ ماحولیات کے لیے  حکومتی سطح کے اتنے بڑے پیمانے  کے اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بھاری رقوم زمین پر نظر نہیں آتی؛ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ہو سکتا ہے  اس پر پردہ ڈالنے کے لیے جنگلات میں آگ لگائی جاتی ہے؟اگر ایسا نہیں تو بتایا جائے  کہ جنگل اور جنگلی حیات بچانے کے لیے  پچیس  ارب روپے  کی خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی؟
مصنف اور کالم نگار  جاوید خان نے  اس بات پر افسو  س کا  اظہار کیا کہ سوسائٹی میں  ڈائپرز  اور دوسرے کچر ے کے ذریعے  فطری حسن کو آلودہ کیا جا رہا ہے  جس سے صحت  کے مسا ئل بھی جنم لے رہے ہیں۔ مشاہدے میں آتا ہے کہ  لوگ گھر کا کوڑا کرکٹ  خاص کر  پیمپرز/ ڈائپر کی گندگی عوامی راستوں اور کھلی جگہوں پر پھینک دیتے ہیں۔ ہمار ا مذہب  صفائی کو نصف  ایمان قرا دیتا ہے لیکن ہمارا  طرز عمل اس کے برعکس ہے۔ پیمپرز یا ڈائپر  کا مسئلہ اب صرف ایک شہر کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ملکی سطح کے ماحولیاتی مسائل میں ایک اہم ایشو بن چکا ہے۔
 سردار راشد نذیر، صدر غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ نے کہا کہ  راولاکوٹ میں سیورج کا جامع اور جدید نظام نہ ہونے کی وجہ سےسیاحت کے حوالے سے ایک اہم شہر بربادی کی طرف جا رہا ہے۔ مقامی اداروں اور عوام کو مل کر  تحفظ ما  حولیات  اور شہروں کی خوبصورتی کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
سول سوسائٹی کے نمائندے اور سماجی رہنما شاہد اعوان   نے کہا کہ  دریا ؤں کا رخ مڑنے سے مظفر آباد کا درجہ حرارت کئی  درجے بڑھ چکا ہے۔  مظفر آباد اور راولاکوٹ  کے  لاکھوں کی آبادی کے شہروں میں سیورج کے جدید نظام کا  نہ ہونا حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ  نشان اور سوسائٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
ایکٹی ویسٹ جمیل مقصود، خورشید عباسی اور غضنفر عزیز نے کہا کہ  تحفظ ما حول کے لیے  لوگوں اور سول سوسائٹی کو  کردار ادا کرنا ہو گا۔  حکومتیں اور ادارے شہریوں کی عادات اور رویوں کی اصلاح نہیں کر سکتے تا ہم  تحفظ ما  حول کو  نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کو بچپن سے ہی قدرتی ماحول  کی بقا  کے لیے انسانی اور  سماجی  ذمہ داریوں اور فرائض کی بجا  آوری کا پابند بنایا جائے۔

پروفیسر ظفر اقبال نے کہا کہ پریس فار پیس فاؤنڈیشن   گزشتہ دو دہائیوں سے  سماجی اور ماحولیاتی امور پر رضا کارانہ جذبے کےتحت مصروف عمل ہے۔ ماحولیات عصر حاضر کے  اہم ترین  مسائل میں شامل ہے جس پر عوامی بیداری کے لیے ورکشاپس، پینل ڈسکشن اور دیگر پروگرامات کا دائرہ ریاست بھر میں پھیلایا جائے گا۔

Leave your comment !

Close