تحریر: نقی اشرف
دُنیا میں انسانوں کی آمد و رُخصتی کا سلسلہ ازل سے جاری ہے۔ آنے والوں کے لیے خوشی منانا اور جانے والوں کے لیے غم و ماتم کی انسانی سُنت  جاری و ساری رہے گی۔  ہر انسان کی موت  پر اُس کے عزیز و اقارب،دوست و ساتھی،رشتے دار اورپڑوسیوں کی سطح پر افسوس اور دُکھ کا اظہار تو کیا ہی جاتا ہے لیکن اگر کسی انسان کی وفات  پر اِس سطح سے اُوپر اُٹھ کر  شہر بھر اور دیگر دیہاتوں میں بھی غم و افسوس کی لہر دوڑ رہی ہو تو یقین جانیئے وہ موت کسی عام انسان کی نہیں بلکہ کسی خاص انسان کی موت ہے،کسی بڑے انسان کی رُخصتی ہے جو  عزیز و اقارب،علاقہ برادری،رشتہ تعلق سے بڑھ کر  تمام انسانوں کے لیے سُودمند تھا۔ ایسا ہی ایک بڑا انسان کورونا کی وبا نے حال ہی میںہم سے چھینا ہے جسے ہم ڈاکٹر ہارون الرشید کے نام سے جانتے تھے۔خدا اُنھیں غریقِ رحمت کرے۔
ڈاکٹر ہارون الرشید گو کہ میرے آبائی گھر سے چند کلومیٹر دُور میری ہی یونین کونسل( ہورنہ میرہ )  میں پیدا ہوئے مگر  مجھے کبھی اُن سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوسکا،ہاں دُور سے اُنھیں دیکھ ضرور رکھا تھا۔مجھے اپنی جنم بھومی سے دُور رہتے ہوئے دو دہائیوں سے زائد عرصہ بیت چکا ہے۔ ڈاکٹر ہارون الرشید کے بارے میں جو میں جانتا ہوں وہ وہاں بسنے والے دوسرے انسانوں کی اُن کے بارے میں رائے اور تاثر کا حاصل ہے۔کہتے ہیں زبانِ خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔ اُن کے حوالے سے میری یہ نگارشات بس اُسی پر مبنی ہیں جو میں نے اُن کے حوالے سے خلقِ خدا سے سُنا ۔ ڈاکٹر ہارون الرشید کے دادا صوبیدار میجر(ر) سردار فیروز خان سیاسی و سماجی کردار کے حامل علاقے کے ایک نامور انسان تھے۔ اُن کے بیٹے حمید خان (والد محترم ڈاکٹر ہارون الرشید) جوانی میں ہی روزگار کے سلسلے میں برطانیہ چلے گئے۔ حمید خان نے اپنے خاندان کو برطانیہ منتقل کرنا چاہا تو سردار فیروز خان اَڑ گئے اور کہا کہ بچے یہیں رہیں گے اور یہیں پڑھ لکھ کر اپنے لوگوں کی خدمت کریں گے۔ چنانچہ دادا نے اپنے پوتوں کو وہیں پڑھایا۔ دونوں ڈاکٹر بنے۔ بڑے بھائی ڈاکٹر افتخار آرمی سے میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں جبکہ ڈاکٹر ہارون الرشید ــ’’ٓآزادکشمیر‘‘  میں سرکاری ملازمت کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کے محض ڈیڑھ سال بعد ہی چل بسے۔ ڈاکٹر ہارون الرشید ہائی سکول ہورنہ میرہ سے میٹرک پاس کرنے کے بعد پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم رہے اور ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ایک دُور افتادہ مقام علی سوجل میں واقع بی ایچ یو جہاں کوئی بھی ڈاکٹر تعینات ہونا پسند نہیں کرتا تھا،بخوشی تعینات ہوئے ۔ وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق ڈاکٹر ہارون الرشید سرکاری اوقاتِ کار کے بعد بھی شام کو بلامعاوضہ مریضوں کا چیک اپ کرتے،گاوں کے بچوں کو بلامعاوضہ پڑھاتے۔ بعد ازاں ایک آدھ اور مقام کے علاوہ زیادہ عرصہ سی ایم ایچ راولاکوٹ میںمیں تعینات رہے۔ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھنے  والے ڈاکٹر ہارون الرشید عاجزی اور انکساری کا مجسمہ تھے۔  مریضوں سے اپنی ماں بولی پہاڑی میں گفتگو کرتے ،ہمدردی اور دردمندی سے  اُن کی صحت کی یوں جانکاری  لیتے کہ مریض کے دل میں گھر کرلیتے۔ ڈاکٹر ہارون پرائیویٹ پریکٹس بھی کرتے تھے مگر کبھی اُن پر کوئی اُنگلی نہ اُٹھی کہ اُنھوں نے بھی بعض دوسرے ڈاکٹرز کی طرح  اپنی سرکاری ڈیوٹی کے دوران اپنے طرزِعمل و سلوک سے کسی مریض کو پرائیویٹ کلینک  آنے پر مجبور کیا ہو۔ اُن کے بارے میں سُنا ہے کہ اپنے پرائیویٹ کلینک پر آنے والے مریضوں  میں سے کسی کا اُنھیں اندازہ ہوتا کہ وہ طویل علاج کے لیے فیس بھرنے کے قابل نہیں ہے تو اُسے سی ایم ایچ آنے کا کہتے اور اُس کے علاج کے سلسلے میں  وہاں اُس کی ہرممکن مدد کرتے۔کوئی سیریس مریض سی ایم ایچ  میں آجاتا جسے سرجری درپیش ہوتی ،اگر متعلقہ سرجن چُھٹی پر ہوتا تو اُس سے ذاتی طور پر رابطہ کرکے اُسے بلاتے۔ کسی مریض کا علاج  مقامی ہسپتال میں ممکن نہ ہوتا اور اُسے راولپنڈی اسلام آباد ریفر کیا جاتاتو جہاں ضروری سمجھتے،اپنے بھائی میجر جنرل افتخار کے نام اُسے رُقعہ بھی لکھ دیتے۔ میجر جنرل(ر) ڈاکٹر افتخار خود بھی ایک دردمند انسان ہیں جو ہمیشہ انسانوں کے کام آئے ہیں خدا اُنھیں صحت و زندگی دے۔  ہمارے ہاں تمام شعبہ ہائے زندگی ہی ذوال کا شکار ہیں مگر جب مسیحائی کے نام پر انسانی جانوں سے کھیلا جائے اور مال بنانے کے لیے مریضوں کی چمڑی ادھیڑی جائے تو اس سے  بڑھ کر ذوال پذیری  اور کیا  ہوگی۔ یہ جابجا پرائیویٹ ہسپتالوں کی فلک بوس عمارتیں،یہ جائیدادیں یونہی نہیں بن سکتیں۔ اگر یونہی بن سکتیں تو پھر ہمارے ہاں ایسی باتیں زبانَ زدِ عام نہ ہوتیں کہ فلاں ڈاکٹر نے مریضوں کو سرکاری ڈیوٹی کے دوران اچھی طرح علاج  نہ کرکے پرائیویٹ کلینک آنے پر مجبور کیا  اور فلاں نے کسی مریض کو بلا ضرورت آپریشن تجویز کرکے اپنے پرائیویٹ کلینک پر آپریشن کرکے اتنے لاکھ بٹور لیے اور فلاں نے  دواساز کمپنیز سے کسی منفعت کی خاطر میرٹ سے ہٹ کر نُسخہ لکھا ۔یہ باتیں تو کھلے راز ہیں۔ہر انسان کے پاس سنانے کو ایسی کہانیاں ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر ہارون الرشید جیسے مسیحا کا وجود ایک غنیمت تھا۔ دُنیا میں کس نے ہمیشہ رہنا ہے۔ ہر انسان کو  ایک نہ ایک دن عدم کو سدھارنا ہے  اور یاد رہے خالی ہاتھ رُخصت ہونا ہے۔  ڈاکٹر ہارون الرشید کی طرح انسانوں کے لیے شجرِ سایہ دار بن کر  رہنا ہُما شُما کے بس کا روگ کہاں،یہ بلند رُتبہ جسے ملا مل گیا۔ ڈاکٹر ہارون الرشید بلا تفریق رشتہ تعلق،علاقہ  برادری،ذات یا قبیلہ  انسانوں کے کام آئے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں لکھا جانا چاہیے تاکہ مستقبل کی نسلوں کو بھی معلوم پڑ سکے کہ وہ کون تھے جو کانِ نمک میں رہ کر بھی نمک نہ ہوئے۔جو بھی لوگ اُن کے قریب رہے،اُنھیں جانتے تھے،وہ براہَ مہربانی اُن کے حوالے سے قلم اُٹھائیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ ایسے لوگوں کو یاد کیا جانا چاہیے بلکہ یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ ایسے لوگ جنھیں زمین کا نمک کہا گیا ہے،اُنھیں فراموش ہی نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایسے لوگ ہی ہمارے حقیقی ہیروز ہیں۔ ہم نے دُنیا بھر کے جنگجووں کوہیرو ز کی کھونٹی پر لٹکا رکھا  ہے اور آئے روز اُن کے پلے کارڈز اُٹھائے جلوس نکالے ہوتے ہیں۔مگر صد افسوس کہ ہم  اپنے ہیروز کو پہچان نہ پائے۔
ڈاکٹر ہارون الرشید کو  اپنی  پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے پر متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا مگر اُن کے حصے میں آنے والا سب سے بڑا عزاز  انسانوں کا پیار، محبت واحترام ہے ۔ ہمارے ہاں ڈاکٹرز کی بھرمار ہے مگر یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ انسانی جذبے کے تحت اپنے فرائض کو دیانت داری سے نبھاتے ہوئے ڈاکٹر ہارون الرشید کی طرح دُنیا کی آلائشوں سے اپنا دامن بچا کر رہنے اور  رُخصت  ہونے والے  محدودے چند ہی ہوں گے۔ ڈاکٹر ہارون الرشید اپنی ریٹائرمنٹ پر اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں اپنی ساری کتھا دو جملوں میں بیان کرگئے : ’’میری زندگی کے دو نصب العین تھے،اول اپنے علاقے کے مریضوں کی خدمت کرنا،دوئم اپنے والدین کے ساتھ رہ کر اُن کی خدمت کرنا۔اللہ تعالٰی نے میری دونوں خواہشیں پوری کی ہیں
ٓآسماں تیری لحد پے شبنم افشانی کرے۔

بحوالہ روزنامہ کشمیر دھرتی  راولاکوٹ