ہمارے ہاں بدقسمتی سے مسائل زیادہ اور وسائل کم ہیں . ملک میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بہت کم ملتے اور اکثر جگہ میرٹ کی پامالی ہوتی اس صورت حال میں نوجوان اپنا گھر بار ، رشتے ناتے سب کچھ چھوڑ کر روزگار کے سلسلہ میں دیار غیر میں مقیم ہو جاتے ۔

دیار غیر میں زندگی بسر کرنا آسان نہیں جہاں ہر گزرتا دن مہینے اور سال کے برابر ہوتا ہے۔ دیار غیر میں مقیم ہمارے کشمیری اور پاکستانی بھائیوں کو کافی مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور جو عظیم تر صدمہ دیارغیر میں برداشت کرنا پڑتا وہ قریبی شخص کے انتقال کا صدمہ ہے ۔

قریبی شخص کے انتقال کا صدمہ

کسی قریبی شخص کے انتقال کے صدمے سے دوچار ہونا ایک بڑا صدمہ ہے۔ جس سے ہر شخص کو جلد یا دیرسے برداشت کرنا پڑتا ہے . کسی فرد کو جب اپنے قریبی ہستی کے انتقال کی خبر ملتی تو اس کو جو صدمہ پہنچتا ہے ۔ وہ کچھ وقت یا کچھ گھنٹوں کے لیے اس کو عمر بھر وہ گھڑی یاد رہتی ہے۔ اور شدید بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔

بعض اوقات صدمہ اس حد تک پہنچ جاتا کہ حرکت قلب بند ہونے سے خود بھی اس رنگ برنگی عارضی دنیا کو خیر آباد کہہ دیتا . اور جب قریبی ہستی کے انتقال کی خبر دیار غیر میں پہنچتی ہے تو اس وقت کی تکلیف کو بیان کرنا ناممکن ہے .

اپنے پیاروں کے آخری دیدار کی حسرت

کیوں کہ انسان بے یارومددگار ہو جاتا بے بس ہو جاتا ہے۔ نہ اپنے قریبی ہستی کے جنازے کو کندھا دے سکتا ہے۔ اور نہ جنازے میں شرکت کر سکتا ہے۔ نہ ہی آخری دیدار نصیب ہوتا ہے۔ اور نہ ہی اپنے گھر والوں کو دلاسہ دے سکتا ہے۔ اور نہ کوئی اسے دلاسہ دینے والا ہوتا ہے۔ اور اس کا دل بار بار مرحوم کی یاد میں تڑپتا ہے۔

  جب کسی شخص کا قریبی عزیز انتقال کر جاتا اس وقت وہ عظیم تر صدمے سے دوچارہوتا اس کو ضرورت ہوتی تو رشتہ دار اور دوست کی جو اس وقت اس کے ساتھ موجود رہیں اور تسلی دیں مگر دیار غیر میں یہ عظیم صدمہ تن تنہا برداشت کرنا پڑتا ۔

سہولتوں کی فراہمی

اس عظیم صدمے میں مضبوط اعصاب کا مالک مرد بھی بے بس ہو جاتا ہے۔ اور اپنے ہوش و ہواس کھو دیتا ہے ۔ والدین کی وفات ،بہن بھائی کی وفات ، بیوی کی موت ، بچوں کی موت کی خبر یا دیگر قریبی رشتہ دار کی موت یقیناایک عظیم صدمہ ہے ۔

ہر رشتہ عزیزترین ہوتا اور جب یہ رشتہ ختم ہوتا تو یقینا بڑا صدمہ پہنچتا ہے۔ انسان اپنا آپ بیچ کر بھی کسی دوسرے کی  زندگی نہیں لوٹا سکتا ۔ یہ کرب ناک اور اذیت ناک آزمائش دیار غیر میں برداشت کرنا یقینا مشکل کام ہے .

  حکومت پاکستان سے گزارش کروں گا دیارغیر میں مقیم افراد کے اس مسئلہ پر توجہ دے۔ اور پاکستانی اور آزادکشمیر کے باشندوں کو اس عظیم صدمہ کے وقت وطن واپسی کی سہولیات فراہم کرے ۔سفارت کاروں کو اس حوالے سے بہت اچھی حکمت عملی بنانی ہو گی۔