تحریر :  ماہ نور جمیل عباسی
ایسا کیوں ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ….؟ ایک ہی ہاتھ میں موجود ہماری پانچ انگلیاں مختلف ہیں ۔ ان کا کیا مقصد ہوسکتا ہے ؟۔ یقینا سائنسی  اور عملی طور پر بھی اس کے بے شمار  فائدے ہوتے ہیں مثال کے طور پر انگلیوں کا سائز مختلف ہو نے کی وجہ سے ہم آسانی سے ہاتھ میں چیزیں اٹھا سکتے ہیں اور روز مرہ کے کام کر سکتے ہیں لیکن اس کے علاؤہ بھی اللّٰہ سبحان و تعالیٰ نے ہمارے لئے نشانیاں رکھی ہیں جن کو   سمجھنے کے ساتھ ساتھ عمل  بھی کیا جائے تو ہم  زندگی گزارنے  کا ڈھنگ اور قرینہ سیکھ جائیں گے ۔ انسانی ہاتھ میں موجود ہر انگلی ایک دوسرے سے مختلف ہے اب ایسا نہیں کہ ہم یہ کہہ دیں کہ چھوٹی انگلی با لکل بیکار ہے اس کا کوئی کام نہیں  یا کسی دوسری ہاتھ کی انگلی کو باقیوں سے کمتر سمجھنا شروع کر دیں ۔
یہی بات انسانوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ ہر  انسان کی سوچ ،زندگی گزارنے کا ڈھنگ دوسرے انسان سے مختلف اور جداگانہ ہوتا ہے اور دیکھا جائے تو یہی تنوع زندگی کی خوبصورتی ہے ۔  ہر طرح کے لوگ  ان کی عادات اور سوچ مل کر ایک خوبصورت  معاشرہ بناتے ہیں ۔  خوبصورت  معاشرے کے ساتھ ساتھ  پر سکون معاشرہ  تب بنے گا  جب انسان ایک دوسرے کی سوچ کی عزت کریں کے ۔  دوسرے کو کمتر سمجھنے سے گریز کر کے ہر انسان میں موجود اسکی   خوبیوں کو پرکھ کر اس میں موجود خامیوں کو دھو ڈالنے کی کوشش کریں گے ۔ شاید ہی دنیا میں ایسی کوئی جگہ ہو جہاں لوگوں میں اختلاف رائے نہ ہو اور اختلاف رائے ہی ایک پڑھے لکھے اور ذہین معاشرے کی پہچان ہو تی ہے جہاں  لوگوں کی ایک سوچ ہو اور اس سوچ کو آگے لے جانے کی جستجو ۔ لیکن جیسے تعلیم تربیت کے بغیر ادھوری ہے ویسے ہی اختلاف عزت کے بغیر نامکمل  ہے ۔ انسان کی سوچ سے اختلاف ہونا غلط نہیں لیکن انسان کی ذات سے ہونا غلط ہے ۔   ایک پڑھے  لکھےاور مہذب معاشرے  کے لئے شر فساد کا خاتمہ ضروری ہے اور فساد ایک دوسرے کی ذات سے اختلاف رکھنے سے وقوع پذیر ہو تا ہے ۔ایک دوسرے کی سوچ سے اختلاف ضرور رکھیں لیکن ذات سے نہیں ۔تبھی ایک پر سکون معاشرہ کی تکمیل مکمل ہو سکتی ہے ۔

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے 

مگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے

  اعجاز رحمانی