تحریر : محسن شفیق

جہاں اس قوم پر عالمی سطح پر اور بہت سی زیادتیاں کی گئی ہیں وہیں اس قوم پر ایک بڑی زیادتی یہ کی گئی ہے کہ اس کی عظیم مصروفیت کو گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس میں بھی بیرونی قوتوں کی سازشوں کا کردار ہے ورنہ یہ ٹائٹل اپنے نام کر لینے کے بعد اس قوم نے دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی دنیا کے ایسے چھکے چھڑا دینے تھے کہ خدشہ تھا گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے سارے صفحے ختم ہو جاتے اور کتاب کا نام تبدیل کر کے اس قوم کے نام پر رکھنا پڑ جاتا۔ اس لیے اغیار کی ریشہ دوانیوں اور اپنوں کی ملی بھگت سے قوم کو یہ ٹائٹل نہیں دیا گیا۔

یہ قوم کئی ٹکڑوں پر مشتمل ہے، ایک ہی خاندان کے افراد دو ریاستوں کے بیچ منقسم ہیں، مگر قوم اپنی مصروفیات کی بنا پر کبھی ان دو ریاستوں کو ایک ریاست نہیں بنا سکی۔ یوں تو اس قضیہ کے بہت سے حیلے بہانے بیان کیے جاتے ہیں کہ 47ء میں یہ ہوا، فلاں نے چھرا گھونپ دیا فلاں نے فلاں نے معاہدہ کی پاسداری نہیں کی وغیرہ، مگر 74 سال بیت گئے وقت کا دامن تنگ تھا اس لیے قوم متحد نہ ہو سکی۔

اس قوم کو اپنی ریاست میں کوئی خاص حقوق حاصل نہیں ہیں، مصروفیات کی وجہ سے قوم آج تک اپنے حقوق کی آگہی اور تحفظ کے لیے کچھ نہ کر سکی۔ ٹیکس کس کو دے، کیوں دے، ٹیکس کے بدلے اسے کیا ملے، اس کا دیا ٹیکس کس کام کا ہے؟ یہ جاننے کے لیے بھی وقت میسر نہیں آتا۔

یہ قوم اپنے دریا، دستیاب زرعی زمین، قبریں اور رہائشی رقبے تک بجلی کے حصول کے لیے لگنے والے پراجیکٹوں پر وار چکی ہے جبکہ مزے لوڈ شیڈنگ اور زائد بلات کے لے رہی ہے۔ قوم کے پاس وقت نہیں ہے ورنہ قوم بجلی کے وزیر اور زمہ دار محکمے کو بجلی کے تاروں سے باندھ کر بجلی کے شاکس لگاتی۔

قوم کو صحت قابلِ ذکر سہولیات حاصل نہیں ہیں۔ مگر قوم مضبوط دل گردے کی مالک ہے، ایمرجنسی کے وقت بڑے بڑے سنگلاخ پہاڑوں سے ٹکر لے لیتی ہے، چونکہ حادثات ایک وقتی سی بات ہوتے ہیں کون سے روز روز ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی روک تھام یا طبی امداد کی سہولت کے مستقل حل کے لیے وقت ضائع کرنا قوم کی پالیسی میں نہیں ہے۔ ہاں البتہ صحت کے میدان میں اس قوم کو جو سہولت حاصل ہے وہ دیگر اقوام میں کسی کو حاصل نہیں ہے اور وہ ہے ریفر ٹو کی سہولت۔ کسی حادثہ، یا حملہ قلب و دماغ   کی صورت میں ماہر معالج حضرات فوراً ہی مریض کو ریفر ٹو کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔ قوم وقت ضائع کیے بغیر ہی سہولت کا فائدہ اٹھا کر یہ جا وہ جا ہو جاتی ہے۔ موت کی صورت میں اللّٰہ کی مرضی اور وقت برابر پر مطمئن ہو کر لاش کاندھوں پر سجا کر واپس ہو جاتی ہے پر قوم نے کبھی صحت وغیرہ اور حادثے کی تحقیقات کے لیے کسی کو تکلیف نہیں دی۔

قوم کو بھلے کوئی  سرکاری عہدیدار سربازار ٹھڈے مارے، بھلے اس کے کپڑے ہی پھاڑ ڈالے، بھلے ہی اس کی خون پسینے کی کمائی پر اپنا حق ملکیت جما لے۔ قوم بڑی متانت سے ٹھڈے کھا کر، کپڑوں کے جھنڈے بنوا کر، خون پسینے کی کمائی سپرد کر کے سیدھا گھر کو چلی جاتی ہے۔ قوم نے کبھی اس پر مزاحمت کر کے وقت برباد نہیں کیا۔ قوم نے کبھی  انصاف جیسی تعیشات کے حصول کے لیے اپنا پیسہ نہیں ضائع نہیں کیا۔

قوم کو فردوس بریں کے وعدے پر ووٹ ڈالنے کا کہا جاتا ہے اور قوم کی بریکیں جوہڑوں تالابوں میں جا کر فیل ہوتی ہیں، قوم اپنے پیرہن و شلوار لت پت کر کے ہجوم سے آنکھ بچا کر بھاگ جاتی ہے، قوم کیچڑ سے مستفید ہونا بھی باعثِ سعادت سمجھتی ہے مگر فردوس بریں کے وعدہ نواؤں سے کبھی جوہڑوں تالابوں کے حالات کا شکوہ نہیں کرتی۔ قوم سمجھتی ہے کہ یہ تو وقتی بات ہے اب اس کے لیے اپنا وقت کیوں برباد کرو، پیرہن و شلوار اور بہت، گیا وقت تو ہاتھ آنا نہیں ہے کیا فائدہ ہو گا۔

قوم اپنے بچوں کو مہنگے سکولوں میں حصول تعلیم کے لیے بھیجتی ہے، بھاری فیسیں ادا کرتی اور پرائیویٹ سکولوں کے تمام نخرے اٹھاتی ہے، ہر بلیک میلنگ مانتی ہے، مگر وقت کی کمی کی وجہ سے کبھی جا کر سرکاری سکولوں کے حالات پر احتجاج نہیں کرتی کہ یہ سرکاری سکول تو ہمارے ٹیکسوں سے کھڑے کیے گئے ہیں پھر ہمیں یہاں کیوں کوئی سہولت میسر نہیں؟ کیوں ہم اتنے بھاری اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ ٹیکس بھی دیئے جا رہے ہیں اور پرائیویٹ سکولوں کی بھاری فیسیں بھی۔ نہ ہی سرکاری سکولوں کے معیار تعلیم پر قوم بات کرنے میں وقت کھپاتی ہے۔

قوم کی سب سے دلچسپ عادت مہنگائی کا بڑھ چڑھ کر مقابلہ کرنا ہے۔ قوم نرخ نامے کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتی۔ نہ ہی خریداری کرتے وقت معیار کی جانچ پرکھ پر وقت ضائع کرتی ہے۔ قوم بیس روپے کی چیز پچاس روپے میں خرید کر خوش ہوتی ہے کہ چلو عزت بچ گئی ورنہ دکاندار تو منہ سے بالکل ہی گیا ہوا تھا۔ یہی حال سفر کے وقت بھی ہوتا ہے۔ قوم گاڑیوں کے عملے سے بھی زائد کرایہ ادا کر کے عزت بچا کر خوش ہو جاتی ہے۔ اس قوم میں چند باشعور بھی ہیں جو قوم کو درس دینا چاہتے ہیں کہ رسید لو اور شکایت کرو۔ شائد ان باشعوروں کو قوم کی عزت راس نہیں آتی ہے۔ دوسرا وہ قوم کے قیمتی وقت کا احساس بھی نہیں رکھتے۔ قوم مہنگے داموں خریداری کرنے میں عافیت سمجھتی ہے چہ جائیکہ وہ انتظامیہ کو گراں فروشی کی شکایت میں وقت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے۔

قوم کی جس مارکیٹ میں چلے جائیں، جس شاہراہ پر چلے جائیں، ہمہ وقت شدید رش دیکھنے کو ملے گا، قوم اپنی غریبی اور دیگر معمولات زندگی پس پشت ڈال کر خریداری بلکہ فضول خرچیوں میں مصروف نظر آۓ گی۔ قوم پوری قوت سے زیب و آرائش کی دکانیں خالی کرتی نظر آۓ گی۔ قوم کو لباس کے دیدہ زیب فیشن نے ایک سازش کے تحت دیگر تمام کاموں سے روک کر رکھا ہوا ہے۔

قوم کی اس مصروفیت کا اعتراف بھی آج تک نہیں کیا گیا۔ نہ ہی قوم کو مصروفیت کا عالمی ایوارڈ نہ دینے کا نوحہ لکھا گیا ہے۔

وقت کی اتنی قدردانی کے باوجود، زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے اس قوم کو کوئی عالمی سطح کا ایوارڈ نہیں دیا گیا۔ شائد وقت کی قدردانی کے لیے آج تک عالمی سطح پر ایوارڈ جیسا کہ نوبل انعام کا اعزاز نہیں رکھا گیا ہے یا دوسری صورت یہ ہے کہ قوم نوبل انعام کی حدود سے صدیوں آگے نکل گئی ہے اور ماہرین کے پیمانوں میں نہیں آ رہی۔ کچھ تو ہے ایسا۔۔۔