جنوبی ایشیاء کی علاقائی تجارت بمشکل 3-5 % ہے۔ جبکہ مشرقی  ایشیا میں یہ تقریبا 7% تک ہے۔ بھارت کی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت 3%سے بھی کم ہے۔

وسط ایشیا کو جنوبی ایشیاء کی نسبت شدید معاشی، سیاسی اور دفاعی مسائل کا سامنا ہے۔ علاقائی تجارت کی ترویج اور معاشی، سیاسی، دفاعی اور باہمی روابط کے لیے سی پیک انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

علاقائی تجارت کے لیے افغانستان کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور سی پیک سے افغانستان کو سالانہ 50ملین امریکی ڈالرز کا فائدہ ٹرانزٹ رائیٹس کی مد میں ہو گا۔ جو افغانستان کی تعمیر نو کے لیے بہت مفید ثابت ہو گا۔افغانستان میں کسی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سی پیک کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

علاقائی روابط کی مضبوطی

سی پیک منصوبے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ یہ منصوبہ بہت سارے ممالک کے تجارت وقت اور ترسیل کے دورانیے کو کم کر دے گا۔ اس طرح سی پیک کے زریعے تجارتی وقت اور توانائی دونوں بچایا جائے گا۔

سی پیک کو ایشیائی دیو کے نام سے پکارا جا تاہے۔ یہ منصوبہ پاک چین سدابہار دوستی کی بہترین مثال ہے۔سی پیک علاقائی روابط اور تعلقات کو مضبو ط کرنے کی ایک اکائی ہے۔ سی پیک پاکستان کو چین کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک سے جوڑنے میں اہم کر دار ادا کر رہا ہے۔

سی پیک تمام علاقائی ممالک کے لیے ایک کھلی منڈی ہے۔ وسط ایشیائی ریاستیں قدرتی وسائل سے مالا مال اور جغرافیائی، سماجی، معاشی، ثقافتی، مذہبی اور دفاعی نقطہ نظر سے کافی اہمیت کی حامل ہیں۔

عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی

وسط ایشیائی ریاستیں سمندر جیسی نعمت سے محروم ہیں اور سی پیک انہیں یہ سہولت فراہم کر تا ہے۔ سی پیک وسط ایشیائی ریاستوں کو دیگر منڈیوں تک آسان ترسیل کا نادر موقعہ مہیا کر رہا ہے۔ پاکستان اور چین کی توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو بھی وسط ایشیائی ریاستوں کے وسائل سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

سی پیک نہ صرف پاکستان اور چین کے لیے اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ وسط ایشیائی ممالک کے لیے معاشی، دفاعی اور ڈپلومیٹک لحاظ سے کسی نعمت سے کم نہیں ہے

۔سی پیک ترکمانستان، ازبکستان، کازکستان، تاجکستان اور دیگر ممالک کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کا آسان، محفوظ اور سستا ترین زریعہ ہے۔ دنیا چین کی تیزی سے بڑھتی عالمی معیشت، بین لاقوامی سیاست میں کردار اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی شاہد ہے۔ اور چین کو مستقبل کی سپر پاور تصور کیا جار ہا ہے۔

چین ایشیا پیسیفک معاشی توازن

چین اپنے معاشی توازن کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ایشیا ء میں دیگر ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کے ساتھ ساتھ چین ایشین پیسیفک میں امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ۔ بن کر ان کے علاقائی تسلط کے خوابوں کو چکنا چور کر رہاہے۔

وسط ایشیائی ریاستیں اپنے قدرتی وسائل کی وجہ سے چین اور پاکستان کے لیے خاص توجہ کی متقاضی ہیں۔ چین کی وسط ایشیاء میں تجارت کا حجم ماضی کے مقابلے میں کئی گنا بڑ ھ چکا ہے۔

چین اورایشیا ئی ریاستوں کی سرحدیں بھی آپس میں ملتی ہیں۔ چین اور وسط ایشیاء کے درمیان 75%تجارت چین کے صوبے ژیانگ جینگ کے زریعے ہوتی ہے۔ ترکمانستان اور چین کے درمیان گیس اور تیل کے منصوبوں پر مشترکہ کام ہو رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے برعکس چین پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان امن کے لیے کوشاں ہے۔

افغانستان میں کسی بھی غیر یقینی صورتحال کی صورت میں سی پیک کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا جا ئے گا ۔ سی پیک کی علاقائی اہمیت کی وجہ سے بہت سارے ممالک نے اس منصوبے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اور مستقبل قریب میں وہ باضابطہ طور پر اس کا حصہ بھی بن جائیں گے۔ سی پیک علاقائی، معاشی، دفاعی اور باہمی اشتراک کے زریعے خطے میں علاقائی اور بیرونی سرمایہ کاری کا مرکز بن جائے گا۔

دفاعی لحاظ سے ایک انتہائی اہم منصوبہ

سی پیک اپنے اہم جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ یہ پاکستان کو جنوبی ایشیاء، ایران، چین، مشرق وسطی اور وسط ایشیاء کے ساتھ جوڑنے کا زریعے ہے۔ بحیرہ عرب کے شمال میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی دفاعی اہمیت مزید تقویت اختیار کر جاتی ہے۔ روائیتی علاقائی تجارت زیادہ تر دوبئی اور گہابہار کی بندر گاہوں کے زریعے ہوتی ہے۔

نئے بین الاقوامی گوادرہوئی اڈے کی تعمیر جو 230ملین ڈالر سے مکمل ہو نی ہے سی پیک کے زریعے وسط ایشیا کی ریاستوں کے لیے مزید بہتری کی نوید لائے گی۔شنگائی تعاون تنظیم اپنے ممبران کو سی پیک سے مستفید کرنے میں بہت معاون ثابت ہو گی۔

سی پیک کے زریعے روس کو گرم پانیوں تک قانونی رسائی ملے گی۔ یہ منصوبہ مختلف ازم کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے تحت مقابلہ کرنے کا موقع مہیا کر ے گا۔

سی پیک شنگائی تعاون تنظیم کے ممبران کو جنوبی ایشیا، افریقہ مشرق وسطی، وسط ایشیا ۔ سے رابطے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر ے گا ۔ ۔سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وسط ایشیائی ممالک مشترکہ صنعتوں، معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات سے مستفید ہو سکیں گے۔

سیاحت و ثقافت کے شعبوں کی ترقی

تمام ممالک کی عوام کے درمیان باہمی روابط کو فروغ ملے گا۔ سیاحت، اور ثقافت کے شعبے ترقی کی بے مثال منازل طے کر یں گے۔ سی پیک توانائی کی بچت کے ساتھ توانائی کی فراہمی اور اس کی ترسیل کا منصوبہ ہے۔

سی پیک دفاعی لحاظ سے مشترکہ دفاع اور علاقائی امن و استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک بحیرہ ہند تک رسائی کے لیے ایک کھلا راستہ ہے اسی لیے سی پیک کا منصوبہ بھارت اور امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بہاتا۔

پاکستان وسط ایشیا کے چوراہے پر

وسط ایشیا کی ریاستیں سی پیک کے زریعے نہ صرف اپنی تجارت کو ترویج دے پائیں گی بلکہ انہیں بین الاقوامی تعلقات اور دفاع میں بھی خاطر خواہ کامیابیاں سمیٹنے کا موقعہ ملے گا۔

پاکستان اس وقت مشرقی اور مغربی ایشیائی ریاستوں کے لیے چوراہے کی ماند ہے جو تمام ممالک کو ترقی، باہمی روابط، دفاع اور علاقائی امن و استحکام کے یکساں مواقع مہیا کر رہا ہے۔

سی پیک بھارت عزائم کے خلاف ایک سیسہ پگلائی دیوار کی مانند ہے کیونکہ سی پیک چین کو بحیرہ عرب تک پہنچنے کا مختصر ترین راستہ فراہم کر تا ہے۔