تحریر : ش م احمد 

   کووڈ ۔ ۱۹کی دوسری لہر ابھی تک شد ومد سے برقرار ہے ، مہاماری کی قہرمانیاں پوری شدت وحدت کےساتھ جاری ہیں ، انسانیت کا  جنازہ اُٹھ رہاہے۔ گھمبیر حالات کی بابت جاننے کے لئے سرکاری اعداد وشمار پر اعتبار کیجئے تو وائرئس متاثرہ مریضوں کی یومیہ تعدادچار لاکھ سے گھٹ اب ڈھائی لاکھ تک محدود ہے ، جب کہ مرنے والوں کی یومیہ تعداد ابھی تک چار ہزار کا ہندسہ چھوڑنے کانام نہیں لےرہی ہے ۔ واضح ر ہے کووڈ کے بارے میں سرکاری سیسنس کو عام لوگ اور سوشل میڈیا ناقابل ِ اعتباربتا تے ہیں ۔ اُن کے پاس مہاماری کے تعلق سے حالات وحقائق کی جو تصویر ہے ،وہ سرکاری دعوؤںسےبالکل مختلف ہے۔ اس تصویر کو مبنی بر صداقت مانئے تو کووڈ ملک بھر میں روزانہ بلا روک ٹوک انسانوں کو نگل رہاہے اور یہ کہ اصل آنکھڑے چھپا کر اربابِ اقتدار اپنی ناکامیوں کی لیپا پوتی کررہےہیں۔ ایسے میںیہ تہلکہ آمیز خبریں سرخیوں میں ہی نہیں کہ کرونا ہلاکتیں اتنی زیادہ ہیںکہ شمشان اور قبرستان کم پڑرہے ہیں ، آکسیجن کی کمی سے مریض مسلسل بے موت مر رہے ہیں ، ادویات کی کالا بازاری متواتر عروج پر ہے، شفاخانوں میں طبی سہولیات کا فقدان متاثرین کے لئے سوہانِ روح بناہوا ہے۔ مقامِ شکر ہے کہ  مسلمان اور سکھ اقلیتی طبقے اپنی اپنی سطحوں پر رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں، بلکہ سرکاری انتظام سے کئی زیادہ کچھ غیرسر کاری فلاحی تنظیمیں بھی سرگرم عمل ہیں اورقیامت خیز بحران سے نمٹنے میں متاثرین کو اپنا دست ِتعاون بڑھا رہی ہیں ۔افسوس کہ شاباشی کی بجائے کہیں کہیںان کی پولیس کے ذریعے حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔

 کرونا کا مارچ روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کا نفاذ تادم تحریر جاری ہے ۔اس سے سارا کاروبارِ زندگی تھم چکا ہے ، لوگوں کی نوکریاں جارہی ہیں، بے روزگاری کے چنگل میں پھنسے غریب لوگ زندہ درگور ہورہے ہیں ۔ان ناگفتہ بہ حالات میں اس وقت سرکار کی پہلی ترجیح کے طور یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ وائرس کی دوسری لہر کا موثر مقابلہ کر نے میں پیشگی قدم اُٹھانے میں اس سے جو چُوک ہوئی ،ا س سے سبق لے کر بلاتاخیر اپنے تمام وسائل مجتمع کر ے تاکہ کووڈ کی آنے والی زیادہ ہلاکت خیز تیسری لہر، بلیک فنگس اور وائٹ فنگس کا توڑ ممکن بن جائے ، عوامی بچاؤ کی تدبیریں سوچی جائیں، نتیجہ خیر انسدادی طبی پالیسیاںوضع کی جائیں ، ٹیکہ کاری کی مہم میں تساہل و تاخیر کے جو خوف ناک نتائج سامنے آئے ہیں،اُن کی روشنی میں دوبارہ نیند کا ماتو بننے کی روش سے اجتناب کیا جائے ۔ غرض جنگی پیمانے پر تمام ضروری اقدامات کرکے قدرتی آفت سے ملک کو چھٹکارا دلایا جائے۔ اس کے برعکس چشم ِفلک ہمارے یہاں کچھ اور ہی دیکھ رہی ہے ۔ مثلاً اس وقت ہلاکتوں کی بیچ یہ خبریں گشت کر رہی ہیں جو انتہائی مایوس کن اور دل آزار ہیں ۔ مسلمانوں کے حوالے سے خون کے آنسو رُلا دینے والی ایک خبریہ ہے کہ ۱۷ ؍مئی کوبارہ بنکا اُترپردیش میں دہائیوں قبل تعمیرشدہ ’’غریب نواز مسجد‘‘ کو عدالتی حکم ِ امتناع کے باوجود’’غیر قانونی‘‘ کہہ کر رات کےا ندھیرے میں ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ دل تھم کر سنئے یہ غیر قانونی وغیر اخلاقی کام انتظامیہ کی ناک کے نیچے سر انجام دیا گیا ۔ جن معنوں میں کووڈکی پہلی قسط نظام الدین دلی کے مرکز پر بھاری پڑی ، اب وبا کی دوسری قسط مسجد غریب نواز کی شہادت پر بھاری ہوئی۔ تعصب اور تنفر کی اسی بھڑکتی آگ کی لپٹوں میںبلند شہر یوپی کا رہائشی بیالیس سالہ عقیل قریشی کومبینہ طور قتل کیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق اس مظلوم پر گائے ذبح کر نے کا الزام لگایاتھا ۔ مقتول کے اہل خانہ کے بقول پولیس نے رات کوان کے گھرمیں گھس کر پہلے عقیل کا زد وکوب کیا گیا، پھر چھت سے نیچے دھکیل کر اسےبے رحمانہ موت کی وادی میں پہنچاکر دم لیاگیا۔ فی الحال معاملہ پولیس کے زیر تفتیش ہے ۔ کیا اس کے تین کم سن بچوں کو یوگی سرکار سے انصاف ملےگا یا دادری کے اخلاق احمد کی طرح یہ معاملہ بھی پولیس مثلوں میں قیامت تک دھول چاٹتے چاٹتے فراموشی کی قبر میں دفن ہوگا؟ مبصرین مسلم دشمنی سے جڑے ان اندوہ ناک واقعات کو یوپی میں دس ماہ بعد ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابی بخار کا اشارہ کہہ رہے ہیں ۔ خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ ایسے دلدوز سانحات آئندہ بھی وقوع پذیر ہونے کا امکان موجود ہے ۔ تجزیہ نگاروں کی مانیں تو مسلمانوں کے خلاف مار دھاڑ کے ایسےاوچھے ہتھکنڈے ہندوتو ووٹ بنک کے لئے امرت دھارا کاکام دیتے ہیں ۔ بھاجپا کی ہندوتو سیاست کا پرچم یوپی میں گزشتہ ساڑھے چار سال سے لہرا رہاہے مگر حالیہ پنچایت الیکشن میں پارٹی کی بری شکست، کووڈ۔ ۱۹کےحوالےسے یوگی حکومت کی عدم

 کاکردگیاں اور ناکامیاں، گنگا میں ہزاروں تیرتی لاشوں کے الم ناک مناظر ، پنچایتی الیکشن ڈیوٹی پر مامور ڈیڑھ ہزار سے زائد ٹیچروں کی بسبب کووڈ ہلاکتیں، انسانی حقوق کی پامالیاں ، انتظامی بد نظمیاں ،پارٹی کی طرز حکمرانی پر سوال اٹھارہی ہیں ۔اس کہانی کے چلتے اُتر پر دیش میں یوگی حکومت کے خلاف رائے عامہ برہم ہے۔  اس لئے بتایا جاتاہے کہ اگر مارچ ۲۲ کوہونے والے والےاسمبلی انتخابات میں ترنہ مول کانگریس بنگال کی طرح یوپی میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن پارٹی یوگی کو انتخابی جھٹکا دے ڈالیں تواس سے  ممکنہ طور ۲۰۲۴ کے پارلیمانی انتخابات میں مودی کا سیاسی ستارہ  بھی تنزلی کی جانب لڑھک سکتاہے۔ اسی خدشے سے جھوج رہی مرکز ی سرکاراور آرا یس ایس کی صفوں میں گھبراہٹ اور بے چینی کی پہلی آہٹیں سنی جارہی ہیں ۔ یہ لوگ یوپی میں ڈمیج کنٹرول میں مصروف ہیں ۔ حالانکہ قومی پیمانے پر موجودہ ہیلتھ کرائسس میں پارٹی کی تمام تر توجہ کووڈ۔ ۱۹  کا مقابلہ کرنے اور ویکسین کی فراہمی پر مرکوز ہونی چاہیے تھی لیکن دیکھا یہ جارہاہے کہ پارٹی کووڈ سے زیادہ یوپی میں اگلے سال ہونے جارہے چناؤ میں پھر سے اپنی جیت کا جھنڈا گاڑنے کے لئے زیادہ متفکر ہے۔

  دریں اثنا سپریم کورٹ بھی مودی سرکار سے ویکسین معاملے پر 

دس سوالات پوچھ کر ایک نئی بحث کا آغاز کرچکا ہے۔ کورٹ کا ہر سوال اپنی جگہ اہم ہے اور اس بات کا خلاصہ کرتا ہے کہ ایوانِ عدل  مہاماری کے خلاف حکومتی پالیسی پر عدم اطمینان رکھتا ہے ۔ سوالات کا جواب دوہفتوں میں عدالت ِعظمیٰ کی میز پر پیش ہونے چاہیے۔

 سوالوں کی فہرست میںایک سوال یہ بھی ہے کہ مودی سرکار نے ۳۵ ہزار کروڑ روپے ویکسین بجٹ میں مختص کر نے کا جو اعلان کیا تھا، وہ کیا ہوا؟ یہ خطیر رقم عوام کو مفت ٹیکہ لگانے کے لئے مختص کیا گیا 

تھا۔ 

سرکار سے سوالات کا کیا جواب عدالت عظمیٰ کو آتا ہے،وہ آئندہ چند دنوں میں صاف ہوگا ۔ 

اُدھر بنگال میں اپنی کراری الیکشن ہار سے جو زخم بھاجپا کو لگا ،وہ ابھی تک اُسی کو چاٹ رہا ہے ۔ معقولیت کی بات یہ ہے کہ انتخابی ہار کو معمول کا سیاسی دھوپ چھاؤں مان کر نیا سفر نئے عزم کے ساتھ شروع کیا جائے ، کوشش یہ کی جائے کہ تمام سیاسی دھارے 

 ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملاکر قوم و ملک کو درپیش  صدی کی اس ناگہانی آفت کا صفایا کرسکیں۔ اس کے اُلٹ میں فی الحال مودی اور ممتا کے مابین انتخابی ٹکراؤ کی رنجشیں نکتہ عروج پر ہیں۔ یہ رنجشیں نئی کہانیوں کاروپ دھارن کر کے جلوہ گر ہورہی ہیں۔ تازہ مثال یاس طوفان کے پس منظر میں پی ایم کی طرف سے بنگال میں بلائی گئی میٹنگ ہے۔ ممتا بینر جی میٹنگ میں تاخیر سے پہنچیں ، وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ پہلے سے ہی طے کسی سرکاری پروگرام میں مصروف تھیں۔ میٹنگ کا سارا مزا اُس وقت کر کرا ہوا جب میٹنگ میں محترمہ کی نظر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرسویندو ادھیکاری اور گورنر پر پڑی ، وہ یاس طوفان سے متعلق اپنی رپورٹ وہیں چھوڑ کر اُلٹے پاؤںنکل آئیں۔ میٹنگ چھوڑنے کی وجہ جو بھی ہو ،یہ اصلاً بنگال کی خاتون وزیراعلیٰ کی طرف سے پی ایم اور سی ایم کے وَن ٹو وَن اجلاس میں حزبِ مخالف کے نیتا کی موجودگی پر کھلااحتجاج تھا ۔ ممتا کے اس طرزعمل کو بھاجپا نے منصب ِوزیراعظم کے منافی قرار دے کر ان کی کڑی نکتہ چینی کی۔ جواباً ممتا بینر جی نے مودی کو تیز طرار زبان میں’’ مسٹر پرائم منسٹر، مسٹر بزی پرائم منسٹر، مسٹر من کی بات پرائم منسٹر ‘‘ جیسے الفاظ سےمخاطب کر کے اپنے دل کا غبار نکالا۔  مرکز میںاس شخصیاتی ٹکراؤ کا نزلہ اب شاید مغربی بنگال کے چیف سیکر ٹری پر گرانے کا سٹیج تیار تھا کہ ممتانے انہیں ریٹائرکر کے اگلے تین سال کے لئے اپنا خاص صلاح کار مقرر کیا ۔ 

خدا را بتایئے کیا اس وقت یہ مخاصمانہ سیاسی فضا اور ٹکراؤ و تصادم کسی بھی معنی میں کووڈ۔۱۹ سے اجتماعی طور گلو خلاصی پانےمیں ساز گار ثابت ہوسکتا ہے ؟

 کووڈ کی مار جموں اور کشمیر کے خطے میں بھی موت اور مصیبت کےپنجے برابر گاڑے ہوئی ہے ۔ بنابریںروزانہ ایک دوہزار کے قریب لوگ وبا کی چنگل میں پھنس جاتے ہیں، پچاس تا ساٹھ مریضوں کی موتیں اب یہاں روز کا رونا ہے ۔ ۵؍اگست ۲۰۱۹  کو  آئین کی دفعہ ۳۷۰ ہٹائے جانےسے معیشت، تعلیم وتدریس ، روزگار، تعمیر وترقی، سماجی امورات اور کاروبار ِ زندگی وغیرہ کا جو پہہیہ

 ر یاست میں ٹھپ ہو چکاتھا،اُس کی حرکت گزشتہ برس کے طویل اور رواں ماہ کے مئی سے جاری لاک ڈاؤن سےمزید جمود وتعطل کے نذر ہو کر رہا۔ یہ کوئی خدائی معجزہ ہی ہے کہ ابھی تک بدحال معیشت کی بھینٹ چڑھ کر یہاں بھکمری کی خبریں نہ سنی گئیں ۔ خطے میںکووڈ کے ہاتھوں مارے لوگوں نے مزارات میں قبریں بڑھا دیں اور شمشانوں میں راکھ کے ٹیلے جمع کئے، پیروجواں ، مردوزَن ، بڑی بڑی ہستیاں، مدرسین اور ڈاکٹر صاحبان اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات ابھی تک وبا نے اُچک ڈالی ہیں۔ انہی شہیدوں میں گزشتہ دنوں خطے کی ایک ممتاز دینی شخصیت مولانا فیض الوحید صاحب(1964-2021) بھی شامل ہیں ۔  آپ کئی دن ہسپتال میںکووڈ کا علاج ومعالجہ کر تے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ یہ ریاستی عوام کے ساتھ ملک اور دنیا بھر میں مرحوم کے فیض یافتگان کے لئے ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے ۔ صوبہ جموں کے مردم خیر ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے مرحوم مولانافیض جموں میں ایک اہم مدرسے’’ مرکز المعارف‘‘ کےبانی اور روح رواں تھے۔ یہاں دینی تعلیم کا شاندار اہتمام تھا ۔ انہیں یہ اعزا زبھی جاتا ہے کہ اپنے عالمانہ قلم سے پہلی بار قرآن کریم کا گوجری زبان میں ترجمہ و تفسیر اپنے باقیات وصالحات میں چھوڑدی۔ اس کے علاوہ بھی مرحوم علمی بصائر اور تزکیاتی نورسے عبارت کئی کتابوں کے مصنف ہونے کا شرف رکھتے ہیں ۔دعوت وتبلیغ کے میدان میں آپ اپنی مثال آپ تھے۔ سادہ مزاجی، اخلاص مندی ، طبعی شرافت اور مسکراتی وجاہت اُن کی وہ ظاہری صفات تھیں جو کسی کو بھی پہلی ہی نظر میں ان کا گرویدہ بناکر چھوڑتیں۔ مجھے ذاتی طور۲۰۱۵  میں حج کے موقع پر اُن سے اتفاقیہ طور حرم ِ کعبہ سے متصل فندق میں شرف ِ دیدار کی سعادت ملی۔اس موقع پر انہوں نے اپنی جچی تلی زبان میں میرے اصرار پر جو نصیحتیں فرمائیں ،واللہ وہ نہ صرف مولانا کی مومنانہ زندگی کا پرتوتھیں بلکہ ان پر عمل درآمد کر نے سے دنیا وآخرت کی کامیابی یقینی بن سکتی ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ مولانا فیض الوحید مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور مسلمانانِ وطن کو ان کا نعم البدل دے ۔


مولانا فیض الوحید صاحب(19642021

 ریاست میں کووڈ کے دوران تعلیمی ادارے بندہیں،سرکاری اور پرائیوٹ ا سکول درس وتدریس کا سلسلہ زُ وم کلاسز کی وساطت سے چلارہے ہیں مگر اس مواصلاتی عمل سے استفادہ کر نے کی دقتیں بھی بے شمار ہیں ۔ ان دقتوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بچوں اور اُن کے والدین کے ذہنوںپر آن لائین کلاسز کا بڑا بھاری بوجھ اور دباؤ پڑارہتا ہے ۔اس بات کی شکایت ایک چھ سالہ معصوم کشمیری بچی نے بذات خود ایک ویڈیو کلپ کے ذریعے وزیراعظم مودی کو مخاطب کر کے کی۔ اس نے اپنی معصوم زبان میں اس حقیقت کا خلاصہ کیا کہ کس طرح آن لائین کلاسزمیں اُس کے جیسے چھوٹے بچوں بچیوں کو مسلسل صبح دس سے دن دو بجے تک بڑے بچوں کی طرح مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں کہ وہ کھیل کود سے محروم ہوکر رہتے ہیں۔ بچی نے چند سادہ جملوں میں تعلیمی نظام کی بڑی حامی کی نشاندہی کر کے ماہرینِ تعلیم کو بھی ہکا بکا کیا ہوگا کہ تعلیم کا اصل تصور اس بچی کے معصوم جملوں میں چھپا ہوا ہے ۔ ویڈیو وائرل ہوا تو ایل جی حکومت کے ساتھ ساتھ ڈائرکٹر ایجوکیشن کی نیند بھی ٹوٹ گئی اور ایک نیا نظام الاوقات معصوم بچوں کے آن لائین کلاسز کے لئے فوراً وضع کیا گیا۔ محکمہ تعلیم کی ایک اورانسانیت سوز سوچ پر جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام سے تعلق رکھنے والے ایک تعلیم یافتہ نوجوان کے وائرل ویڈیو نے بڑا طمانچہ رسیدکیا۔ شعیب وانی نامی اس نوجوان نے خود کشی کا انتہائی قدم اٹھایالیکن مرنے سے پہلے اس نے سوسائڈ نوٹ کے طور ایک ویڈیو بنایا جس میں اپنی یہ بپتا سنائی کہ اس کاباپ محکمہ تعلیم میں ٹیچر ہے مگر اسے دوسال سے تنخواہ سے محروم رکھا گیا۔اس سے ان کے گھرمیں جو مالی مشکلات پیداہوئیں،ان سے گھرانے کی حالت بہت خراب ہوئی ،اس لئے

 اب وہ زندگی کا خاتمہ کر رہاہے تاکہ باپ کے سر سے ایک فرد کا بوجھ کم ہو ۔ویڈیو وائرل ہوا تو ناظمِ تعلیمات کشمیر نے تیس کروڑ کی رقم واگزار کر کے تنخواہ سے محروم ایسے ٹیچروں کے حق میں رُکا پڑا مشاہرہ واگزار کر نے کا حکم جاری کردیا   ع 

 ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا