تحریر محمد رمضان شاکر

قومی کانفرنس برائے ادب اطفال ملتان میں جانے کی تیاری تو اسی دن شروع کر دی تھی جب واٹس ایپ پہ میسج ملا تھا۔میسج چونکہ نئے نمبر سے آیا تھا اس لیے تسکین دل اور تسلی دل کی خاطر علی بھائی سے رابطہ کیا۔کہ واقعی میں دعوت نامہ انہوں نے ہی بھجوایا ہے یا کہ کوئی ماموں بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔حالانکہ ہم پہلے سے ہی کافی بچوں کے ماموں ہیں۔خیر تسلی تو ہو گئی علی بھائی کی تصدیق سے۔ملتان جانے کی اتنی خوشی تھی کہ ایک دن پہلے ہی عازم سفر ہوئے ہمراہ اپنے ماموں زاد سہیل انجم کے اور جا پہنچے ان کے گھر کبیروالہ میں۔ 

اگلے دن ایک بجے گھر سے نکلے اور دھکم پیل ہوتے ہوئے پورے ساڑھے تین ملتان ٹی ہاؤس جا پہنچے۔سیڑھیاں چڑھ کے اوپر گئے تو رجسٹر تھامے ایک صاحب نے کہا یہاں انٹری کر دیں۔دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں جلدی جلدی نام ایڈریس لکھا اور ساتھ ہی کرن کرن روشنی گفٹ وصول کیا۔جیسے ہی پیچھے مڑا تو دیکھا کہ علی عمران بھائی ایک بھائی کو ہدایات دے رہے ہیں تو فوراً سے پہلے السلام علیکم کہتے ہوئے ان سے بغل گیر ہو گیا۔علی بھائی بھی گرمجوشی سے ملے حال احوال کیا کیونکہ تھوڑے مصروف تھے اس لیے زیادہ وقت نہیں لیا ان کا اور غلام زادہ نعمان صابری صاحب کو سلام کیا جو ابھی ابھی آ کے کھڑے ہوئے تھے۔ایک بار بغل گیر ہوئے تو شاید وہ پہچان نہ سکے بعد میں غور کیا تو ارے رمضان شاکر آپ کہتے ہوئے دوبارہ جپھی ڈال لی۔بہت گرم جوشی سے ملے۔اتنے میں سہیل اپنا اندراج کرا چکا تھا تو ہم اندر ہال کو ہو لیے۔پہلی رو میں نوید احمد بھائی احمد عدنان طارق صاحب اور جناب ندیم اختر صاحب کے ساتھ بیٹھے دکھائی دیے۔نوید اپنے خیالوں میں بیٹھے نہ جانے کہاں کھوئے ہوئے تھے کہ ہم نے جا لیا۔یہ ہماری نوید بھائی سے پہلی ملاقات ہو رہی تھی۔حالانکہ گپ شپ اور دوستی کب سے ہے۔نوید بھائی نے بڑے پیار اور محبت سے گلے لگایا۔جس کی تاثیر روح تک اترتی محسوس ہوئی۔بہت شکریہ نوید بھائی اس پیار اور محبت کے لیے۔احمد عدنان طارق صاحب سے ملنے لگا تو انہوں نے اپنی شفقت بھری گود میں لیتے ہوئے ایک تاریخی جملے بولا کہ ،رمضان آج اگر میں تمہیں ظاہری حالت میں نہ دیکھتا تو یہی سمجھتا رہتا کہ تم کوئی پچاس ساٹھ سال کے بوڑھے آدمی ہو،جبکہ تم تو ینگ مین ہو۔سر آپ کے ان الفاظ نے میرا سیروں خون بڑھا دیا ہے۔اس کے لیے بے حد شکریہ۔مزید حال احوال ہوا نظموں کے حوالے سے بات ہوئی مزید اچھا لکھنے کے حوالے سے کان بھی کھینچے اور ٹپس بھی دیں۔جو کہ بہت اچھا لگا۔لگے ہاتھوں ندیم اختر صاحب سے بھی گرم جوشی سے حال احوال ہوا بہت اچھے سے ملے اور ساتھ ہی نوائے ادیب کا شمارہ بھی گفٹ کیا جو کہ میں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔

ہم اپنی اپنی سیٹوں پہ بیٹھ چکے تو حاجی عبداللطیف کھوکھر صاحب سے بھی ملاقات ہو گئی ۔حاجی صاحب کا والہانہ انداز دل کو بھایا اور بڑا فخر محسوس ہوا۔امان اللہ نیر شوکت صاحب بھی پچھلی دو میں براجمان تھے ان سے بھی ملاقات ہوئی۔خوش ہو کر ملے اور حال چال دریافت کیا۔کافی کمزور نظر آئے۔۔۔اللہ ان کو صحت و تندرستی عطا فرمائے۔

پروگرام کا خوبصورت آغاز تلاوت قرآن سے ہوا اس کے بعد نعت شریف سے دلوں کو منور کیا گیا۔سب سے پہلے حاجی عبداللطیف کھوکھر صاحب کو دعوت دی گئی ۔انہوں نے پنجابی میں لکھی اپنی مشہور مزاحیہ نظم ہمسائی سنا کر خوب داد سمیٹی۔اس کے بعد علی عمران محسن بھٹی اظہر سلیم مجوکہ صائمہ علی خواجہ مظہر نواز صدیقی زاہد جمیل قریشی ملک ارشد عرش صاحب زادہ مظہر کلیم ایم اے جناب فہد کلیم خان ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھرصاحب احمد حاطب صدیقی صاحب جناب ضیغم مغیرہ صاحب اور ہر دل عزیز مولانا ناصر مدنی صاحب نے خطاب فرمایا ۔سب ہی نے علی عمران بھائی کی اس کوشش کو سراہا اور اور اتنا پیارا اور زبردست پروگرام پیش کرنے پر مبارکباد دی۔یوں تو سب ہی مہمانان گرامی نے خوب خوب خطاب فرمایا مگر محترمہ صائمہ علی خواجہ مظہر صدیقی اور علامہ ناصر مدنی صاحب نے تو اس رنگا رنگ محفل کو چار چاند لگا دیے۔صائمہ علی کی فرمائش پہ خواجہ مظہر صدیقی کا جاندار قہقہہ کون بھول سکتا ہے۔سر اس جاندار اور بھرپور قہقہے پر آپ کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ناصر مدنی صاحب نے اپنے خطاب میں ہنسایا بھی خوب اور ایک دو موقع پہ رلا بھی دیا۔ماں کے بارے میں بات کرتے ہوئے۔بیچ بیچ میں انعامات بھی تقسیم ہوتے رہے۔مظہر کلیم ایم اے کہانی مقابلے میں پوزیشن لینے پہ علی حیدر  شاہد اقبال اور اکمل معروف نے ایوارڈز حاصل کیے۔اکمل معروف کرونا صورتحال کی بنا پہ آ نہ سکے تھے اس لیے ان کا انعام نوید احمد نے وصول کیا۔

کشمیر جنت نظیر نمبر نظم مقابلے میں تیسری پوزیشن لینے پہ میں نے خواجہ مظہر صدیقی کے ہاتھوں اپنا ایوارڈ وصول کیا پر زور تالیوں کی گونج میں۔خواجہ صاحب نے مبارکباد دی اور حوصلہ افزائی بھی کی۔ان کے ہاتھوں ایوارڈ وصول کر کے بہت اچھا لگا۔سلمان یوسف ماہ نور نعیم اور دوسرے بہت سے رائیٹرز نے مختلف شخصیات سے اپنے اپنے ایوارڈ وصول کیے۔تقریب کے اختتام سے کچھ پہلے ہلچل سی نظر آئی جیسے کہ اسے لپیٹنے کی کوشش کی گئی ہو۔بہرحال تقریب بہت اچھی رہی بہت مزہ آیا۔آخر میں مہمانوں میں جوس اور کھانا تقسیم کیا گیا۔دوستوں کے ساتھ ملاقات اور تصاویر بنائی گئیں۔میں اپنی بہت کم بنا سکا دوسروں کی ہی بناتا رہا۔سہیل نے جلدی مچائی ہوئی تھی اس لیے جلدی جلدی جتنے لوگوں سے مل سکتا تھا ملتا گیا۔دوران تقریب پیاری آپی فریدہ گوہر حاجی عبداللطیف کھوکھر صاحب کو اپنی کتاب پیش کرنے آئیں ۔تو مجھے اور نوید کو دیکھ کر کہا کہ ہم بعد میں ان سے ملیں۔تقریب کے اختتام پر ان سے ملے تو سلام دعا کے بعد انہوں نے ہم دونوں کو اپنی کتاب پیش کی۔یہ اور بات کہ ہم نے انہیں پہچانا نہیں تھا۔ہاں جب انہوں نے حاجی صاحب کو کتاب پیش کی تو میں نے فوراً ان سے پوچھ لیا تھا۔کہ یہ کون ہیں تو انہوں نے بتایا کہ فریدہ گوہر صاحبہ ہیں۔آپی ایک راز کی بات بتانا تو میں بھول ہی گیا۔کہ یہ کتاب آپ مجھے پہلے بھی گفٹ کر چکی ہیں۔اب آئی چیز کون ٹھکراتا ہے اس لیے جلدی سے وصول کرلی۔آپ کو بتایا اس لیے نہیں کہ کہیں آپ واپس ہی نہ لے لیں۔۔ہاہاہا۔۔۔ویسے وہ کتاب میں نے آتے ہی اپنے کزن کو گفٹ کر دی تھی۔عائشہ رمضان کو آپ کا پیار اور سلام بھی پہنچا دیا ہے۔آپ کے پرخلوص جذبات کو میں سلام پیش کرتا ہوں اور اس خوبصورت تحفے کے لیے بہت بہت شکرگزار ہوں ۔ان سے ملنے کے بعد پیارے بھائی وقاص اسلم سے ملاقات ہوئی۔کب سے نگاہیں ان کی منتظر تھیں مگر نہ جانے وہ کہاں گم تھے۔اب جو ان سے ملاقات ہوئی تو دل خوشی سے کھل اٹھا۔جلدی جلدی ان کے ساتھ تصویر بنائی جو کہ بہت ہی اچھی آئی۔تصویر میں ان سے ملنے کی خوشی آپ واضح محسوس کر سکتے ہیں۔وقاص بھائی بہت اچھا لگا آپ سے مل کر۔ان شاءاللہ دوبارہ بھرپور ملاقات بھی ہو گی۔تصور عباس بھائی بھی قریب ہی مل گئے۔بھرپور انداز میں ملے گرمجوشی سے ملے۔شکریہ تصور بھائی عزت افزائی کا۔مشہور و معروف کالم نگار اختر سردار بھائی سے بھی خوب ملاقات رہی۔احمد صاحب اور ان کے ساتھ تصاویر بھی بنائی گئیں۔اختر بھائی آپ سے مل کر بہت اچھا لگا۔قاری عبداللہ نوید بھائی کے ساتھ محو گفتگو تھے تو موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوئے میں نے بھی سلام دعا کرلی۔

۔تقریب کے دوران عبدالصمد مظفر بھائی نظر آئے تھے تو فوراً ان کو ڈھونڈنا شروع کیا تو ایک طرف کھڑے نظر آ ہی گئے۔انہوں نے فوراً ہی پہچان لیا  حال احوال کیا اور لاہور کا چکر لگانے کا کہا۔مظفر بھائی ان شاءاللہ آؤں گا ضرور جب بھی چکر لگا۔اب میری نظریں جن افراد کو تلاش کر رہی تھیں ان میں عاطر شاہین بھائی صفدر علی حیدری اور سلمان یوسف  سمیجہ سر فہرست تھے۔دوستوں سے ملنے کی خوشی میں ہم نے کھانا بھی نہیں لیا جس کا سہیل نے غصہ منایا۔لیکن بعد میں علی عمران بھائی نے ہمیں دلوا دیا۔ہم نے تو کھایا مگر نوید بھائی نے وہ بھی واپس کر دیا۔خیر بات ہو رہی تھی دوستوں سے ملنے کی تو سٹال کے قریب ندیم بھائی سب کے ساتھ تصاویر بنا رہے تھے مجھے بھی گھسیٹ لیا وہیں پہ بلال یوسف سے ملاقات ہوئی۔عاطر بھائی کا پتہ چلا وہ جا چکے ہیں صفدر علی حیدری اور سلمان یوسف باوجود کوشش کے نظر نہیں آئے۔اس تقریب میں آنے کی جتنی زیادہ خوشی ہوئی اس سے زیادہ عاطر بھائی صفدر بھائی اور سلمان سے نہ مل سکنے کا دکھ بھی ہوا۔ان دوستوں سے دلی معزرت چاہتا ہوں۔باہر جانے کے لیے نکلے تو فیصل ابراہیم اور سیف الرحمان انصاری سے ملاقات ہو گئی۔احمد صاحب بھی آ گئے خوب گپ شپ رہی۔بہت اچھا لگا سب سے مل کر۔جاتے جاتے علی عمران بھائی والوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔جس میں بندہ مدھم سا دکھائی دے رہا ہے۔عرفات بھائی برآمدے میں کھڑے مل گئے فوراً پہچان گئے بڑے پیار سے ملے اور میری نظموں کی تعریف کی اور کہا کہ فی البدیہہ نظمیں کہنے میں آپ   کا ایک نام ہےتھوڑی گپ شپ کے بعد اجازت چاہی۔عرفات بھائی بے حد شکریہ۔۔باہر حاجی عبداللطیف کھوکھر صاحب موجود تھے انہوں نے اپنی پنجابی کی کتاب ہتھ جوڑی پیش کی جو کہ ان کی زنبیل کی آخری کتاب تھی اور میری قسمت میں تھی۔۔جس کے لیے بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔یہاں سے فارغ ہو کر ملتان ٹی ہاؤس کے گیٹ پہ پہنچا جہاں میرا کزن کھڑا دانت چبا رہا تھا کہ جلدی کرو جلدی۔گیٹ کے پاس آپی فریدہ گوہر کو کھڑے دیکھا تو آخری سلام کر کے بھاگنے کی کی ۔قومی کانفرنس برائے ادب اطفال کا مختصر سا احوال آپ کے حضور پیش کیا۔امید ہے آپ کو اچھا لگا ہو گا

Leave your comment !