July 5, 2022

بہاولپور قاری کے لیے اجنبی نہیں رہتا ، نازیہ آصف

بہاولپور میں اجنبی پر نازیہ آصف کا  تبصرہ

” بہاولپور میں اجنبی” مظہر اقبال مظہر کی پہلی تصنیف ہے مگر کتاب کے مطالعے کے دوران کہیں بھی نہیں لگتا کہ یہ ان کی پہلی کاوش ہو گی۔ اگر یہ کہا جائے، کہ یہ ایک ہجرت دریدہ اور حساس انسان کی بپتا ہے یا لفظوں میں پرویا گیا وہ کرب ہے ،جو ایک وطن سے دور انسان ہی سمجھ سکتا ہے۔جس کا احساس انھیں خاص طور پہ ان دنوں ہوا جب دنیا ایک وباء کی لپیٹ میں بری طرح جکڑی جا چکی تھی ۔


‎بہاولپور میں اجنبی “وہ کتاب ہے جس میں ”مصنف نے  مافی الضمیر کچھ اس طرح سادہ اورسلیس انداز  میں  بیان کیا ہے  کہ جسے پڑھنے کے بعد  بہاولپور قاری کے لیے اجنبی نہیں رہتا ، بلکہ قاری اپنے آپ کو بہاولپور کے میلے ٹھیلے ،ریلوے سٹیشن کے شور شرابے،تانگے والوں کے الاپ،اور سرائیکی زبان کی جلترنگ سنتے ہوئے جھومتا ہوا  محسوس کرتا ہے۔ 

بہاولپور میں اجنبی ایک ہجرت دریدہ اور حساس انسان کی بپتا ہے

زبان سرائیکی ،کشمیری ،پہاڑی  یا پھر پنجابی ہو ،بہاولپور کے کسی ڈھابے پہ چنے بیچنے والے کی زبان ہو یا کسی کوچوان کی ہو ، سب ماں بولیاں بہنیں اور ہمسائیاں ہوتی ہیں اور ماں کا روپ دھار کر اور بھی شیریں ہو جاتی ہیں ۔یہی حال سرائیکی زبان اور وسیب کا بھی ہے ۔ مصنف نے  بہاولپور کی تاریخ و تہذیب  کو بیان کرتے ہوئے اس کا حق ادا کر دیا ہے  ۔بلاشبہ نواب سر صادق محمد خان عباسی کے ذکر کے بنا بہاولپور کی تاریخ ادھوری ہے۔  آپ نے اپنے وطن کے لیے تعلیمی ،تہذیبی ، ثقافتی اور طب کے شعبے میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ آپ  نے ہی پاکستانی  کرنسی کی گارنٹی بھی دی تھی اور قائداعظم محمد علی جناح صاحب سے محسن پاکستان کا خطاب بھی حاصل کیا تھا۔کتاب کے مطالعے کے دوران ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قاری  مصنف کے ساتھ ساتھ تاریخ کے اسی جاہ جلال کا حصہ بن گیا ہو ۔لیکن مظہر اقبال مظہر  نے قاری کو تاریخ سے بور نہیں کیا، بلکہ مزاح کا بھی بھر پور اہتمام کیا ہے ۔ذرا سا لفظوں کا ہیر پھیر کیا کیا قیامت خیزیاں ڈھا سکتا ہے یہ آپ کتاب پڑھ کر ہی اندازہ کر سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پہ  ناک اور ناکھ کے قصے کو ہی لے لیجئے ۔

کشمیر کی تقسیم کی یہ لکیر  واقعی خون کی لکیر ہے

‎سیاحت چونکہ میرا بھی محبوب مشغلہ ہے تو ایسا ہی ناکھ ( ناشپاتی)کے متعلق ایک واقعہ بھی شامل کرنا چاہوں گی۔ کشمیر کی سیاحت کے دوران ایک جگہ پہ بہت خوبصورت پکی ہوئی ناکھیں کھانے کو دل چاہا تو درخت کے مالک سے اجازت لی، تو وہ صاحب یوں گویا ہوئے”کھاوء کھاوء صاحب جتنی مرضی ہے کھاوء ، ہمارا تو بکری بھی ناکھ نہی کھاتا” اب پتہ نہی یہ ناکھ کی بے عزتی ہوئ تھی یا ہماری۔
‎آپ نے ایک کشمیری  تارک وطن کی حیثیت سے اقوام عالم میں  پیش آنے والے مسائل کو  بھی احسن طریقے سے پیش کیا ہے ۔کشمیر کی تقسیم کی یہ لکیر  واقعی خون کی لکیر ہے اور اس لکیر کے دونوں طرف رہنے والے اس لکیر کو مٹانا چاہتے ہیں۔جس میں ہم کشمیر سے پیار کرنے والے بھی ان کے ساتھ دعا گو ہیں  ۔

مصنف نے  کتاب کے آخر میں بہاولپور اور کشمیر میں مماثلت کی جو بات کی ہے اس میں بڑے احترام کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گی کہ بہاولپور تو خود کبھی پاکستان تھا،اور  اب بھی ہے باقاعدہ حکومت میں بھی  شامل ہے۔ رہی بات حق اور انصاف کی ،تو اس سلسلے میں ،سب ہی سراپا احتجاج ہیں ۔
‎کتاب کے آخری حصے میں دیے گئے دو افسانے مصنف کے انسانی درد و وچار کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔پہلا افسانہ “دل مندر” ماں بیٹے کے فطری پیار میں گندھا ہوا ملتا ہے ۔ مگر  آگے چل پھر  وہی سرمایہ دار کی فریب کاریاں  اور غریب کی تباہ حالی،زندگی کے وہ  حقائق ہیں جن کا حق مصنف کے قلم سے لکھے گئے ہر لفظ نے ادا کیا ہے ۔دوسرا افسانہ “ایک بوند پانی” ہے جسے پڑھتے ہوئے سفر اور افسانہ ساتھ ساتھ لگے۔ یوں سمجھیے کہ لگے ہاتھ دو دو کام ہو گئے ،ایسی لفظی تصویر کھینچی کہ یہاں بھی قاری لق و دق صحرا میں چلتے ہوئے اپنے پاؤں میں لگی ریت جھاڑنے پہ مجبور ہونے لگتا ہے ۔بہت زبردست لکھا ہے حق ادا کر دیا ہے مصنف نے تحریر کا۔


‎ ‎آخر میں پریس فار پیس فاؤنڈیشن (لندن) کے لیے بہت سی نیک تمنائیں،جن کے زیر اہتمام اس خوبصورت  کتھا نے لفظوں کا روپ ڈھالا  ۔
‎کتاب کا سرورق دیدہ زیب،کاغذ عمدہ اور طباعت  بہت معیاری ہے ۔ اللہ پاک قلم و فن کی اس سعی کو مبارک کرے-آمین !

Close