July 7, 2022

بہاولپور میں اجنبی۔۔۔ شناخت کی تلاش کا سفر ہے

تبصرہ  نگار / پروفیسر محمد ایاز کیانی ۔۔۔۔   نام کتاب /  بہاولپور میں اجنبی

 مظہراقبال مظہر سے میرا تعارف سوشل میڈیا اور مقامی اخبارات کے توسط سے ہوا۔جہاں ان کے اردو اور پہاڑی کے چند کالم پڑھنے کا موقع ملا۔”بہاولپور میں اجنبی”  مستنصر حسن تارڑ کے “اندلس میں اجنبی” سے لفظی مناسبت رکھتا ہے۔کتاب کے شروع میں سعودعثمانی کا یہ شعر انتہائی برمحل، اچھوتا اور مصنف کی  کتاب سے وابستگی کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے ۔یہ شعر  قاری اور بالخصوص کتاب سے محبت کرنے والے قاری کی کتاب سے دلچسپی کو بڑھا دیتا ہے۔

کاغذ کی یہ مہک ، یہ نشہ ٹوٹنے کو ہے

یہ آخری صدی ہےکتابوں سے عشق کی

یہ ہماری زوال پذیر سوسائٹی اور سماج کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کتاب سے تعلق ہر گزرتے دن کے ساتھ معدوم ہوتا جا رہا ہے۔اساتذہ ، علما  اور معاشرے کے بظاہر پڑھے لکھے لوگ بھی صرف مخصوص نصاب کو ہی تعلیم کا نام دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک نصاب سے ہٹ کر کچھ پڑھنا کار ِلاحاصل ہے۔ایسے میں نہایت قلیل تعداد میں وہ لوگ جو قلم و قرطاس سے اپنا رشتہ جوڑے ہوئے ہیں۔قابل صد مبارک باد ہیں ۔

مظہر اقبال اس لیے بھی زیادہ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے دیار غیر میں جاکر بھی اپنی دھرتی،  اپنی زبان اور اپنے سماج سے رشتہ کمزور نہیں پڑنے دیا۔مظہر اقبال نے  بہاولپور کا یہ سفر آج سے دو دہائیاں قبل تعلیمی ضرورت کے تحت کیا۔مگر اپنے مشاہدے اور قوت متخیلہ سے اس مختصر دورانیے کے سفر کو کئی حوالوں سے یاد گار بنا دیا۔کوثر ہوٹل میں ایک طالب علم کی حیثیت سے اندراج کروانے کے بعد مصنف کی نیت میں فتور آجاتا ہےاور وہ امتحانی پرچوں کے دوران فارغ اوقات میں بہاولپورکے کوچہ و بازار کو دریافت کرنے میں جت جاتے ہیں۔ایک باذوق مسافراپنی قوت مشاہدہ سے چیزوں کو سرسری نگاہ سے دیکھ کر گزر جانے کی بجائےان پر غور و فکر کرتا ہے اور اپنے قاری تک بات کو اس طرح پہنچاتاہے کہ وہ زیادہ حسین نظر آنا شروع ہو جاتیں ہیں۔

مظہر اقبال نے بھی بہاولپور کے تاریخی شہر کو باریک بینی اور تنقیدی نظر سے دیکھا ، جانچا اور پرکھااور پھر اس کو اپنے قارئین تک خوب صورت الفاظ کے جامہ میں اس طرح پیش کیا کہ کہ بہاولپور کو زیادہ جاذب النظر بنا دیااور قاری کےاندر اس شہر کو دیکھنے کا اشتیاق بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔راقم اپنےدور طالبعلمی میں ملتان سے بہاولپور یاترا پر جا چکا ہےاورغالباً  وہ ساری جگہیں دیکھ چکا ہے ، مگراسی طرح جس طرح ہم روزانہ سینکڑوں  مناظر دیکھتے ہیں اور پھر وہ مناظر پردہ سکرین سے ایسے غائب ہوتے ہیں جس طرح ٹیلی وژن سکرین پر اشتہارات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

مظہر اقبال کو ہم اپنا بندہ ہی سمجھتے ہیں اس لیے اس کی کہی باتیں ہمارے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔بہاولپور قدیمی ریاست ہے اور عباسی نوابان قیام پاکستان سے پہلے ہی آزادریاست کے مالک تھے۔قیام پاکستان کے بعد اس وقت کے نواب نے نہ صرف نئی ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا بلکہ نوزائیدہ مملکت کی بھرپور مالی مدد بھی کی۔ بہاولپور علم و ادب کا شہر ہے۔اس شہر کے بائیس دروازے ہیں جو فرید گیٹ سے شروع ہو کر پورے شہر کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔

مظہر اقبال مظہر نہ صرف الفاظ کے بر محل اور خوبصورت استعمال پر قدرت رکھتے ہیں بلکہ ان میں مزاح کی حس بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔جو جابجا ان کی تحریر میں اپنے رنگ بکھیرتے ہوئے نظر آتی ہے ٹانگے کی سواری کے حوالے سے یہ جملہ ملاحظہ کیجیے۔

“اس سواری پر بیٹھ کر محظوظ ہونے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔مثلاً کوچوان کی زبان سے رنگ برنگے القابات ، گالیوں اور مغلظات کو نہ صرف اپنے کانوں سے سنا  بلکہ ان گالیوں کی وجہ استعمال پر بھی غور و فکر کا موقع ملا۔کبھی  کوئی سائیکل سوار ان کے نشانے پرہوتا تو کبھی کوئی گاڑی والا۔۔۔تانگے سے اتر کر جانے والی سواریوں میں سےاگر جاتے ہوئے کوئی جملہ کہہ دیتا تو کوچوان حسبِ توفیق ان کو بھی القابات سے نواز دیتا۔ٹھیلے والوں کے لیے کوچوان ایک الگ ہی ڈکشنری رکھتے تھے۔”

مظہر اقبال جہاں بہاولپور کے نوابوں کی غریب پروری اور علم دوستی کے قائل ہیں  وہیں وہ صوفیاء کرام کے کردار کو یاد کرتےہیں۔  ان کے خیال میں  کہیں نہ کہیں ہر مظلوم و محکوم قوم کی طرح بہاولپور کے عوام بھی ایک طویل عرصے سے شناخت کی تلاش کے سفر میں ہیں۔مگر انھیں ہر بار ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔کبھی ملتان اور بہاولپور کا جھگڑا کھڑا کر دیا جاتا ہےتو کبھی کوئی اور بہانہ آڑھے آ جاتا ہے۔  اسی طرح سرائیکی وسیب جہاں اپنی شناخت کی بحالی چاہتا ہے تو مصنف کو اپنا مظلوم و مقہور وطن کشمیر یاد آجاتا ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں  سے لخت لخت ہے اور اس کی شناخت سابقوں اور لاحقوں کی مرہون منت ہے۔

مصنف سرائیکی شناخت کے علمبردار شعراءکرام شاکر شجاع آبادی کی عظمت کے معترف بھی ہیں۔۔جنھوں نے مظلوم قوم کا نوحہ بیان کیا ہے،  جنھیں وہ محروم طبقات کے ترجمان کے طورپرسرائیکی زبان کا شیکسپیئر کہتے ہیں۔جو سماجی ناانصافیوں پر نوحہ کناں ہیں۔مصنف کے نزدیک پنجابی ، پہاڑی اور پشتو کی نسبت سرائیکی زیادہ شیریں زبان ہے۔ ایک اور جگہ یہ جملے بھی اپنے اندر درد و کرب کی کسک لیے ہوئے ہیں۔استعمار چاہے     کسی بھی نام اور قوم سے ہو اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ “قومیت اور وطنیت کے علاوہ اسلامیت،  الحاقیت،  اشتراکیت اور نہ جانے کتنے ہی نظریات کے ترانے سنانے والے آج بھی اسی تسلسل اور ترنم کے ساتھ یہ نغمےالاپ کر داد و تحسین وصول کر رہے ہیں ، آج حق و انصاف کی یہ جنگ کشمیری بھی لڑ رہے ہیں اور سرائیکی عوام بھی۔”

یہ کہا جا سکتا ہے کہ مظہر اقبال کے اندر ایک بڑا ادیب چھپا ہے۔  اور امید ہے کہ یہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو گا۔ہماری دعا ہے مظہر اقبال اپنے قلم سے علم و ادب کی آبیاری کے ساتھ ساتھ قلم کی حرمت کا حق بھی ادا کرتے رہیں ۔ چونکہ یہ الہامی منصب ہے اور اقراء کا درس قیامت تک جاری رہے گا۔

کتاب کی پرنٹنگ نہایت دیدہ زیب ہے۔  کاغذ کی کوالٹی بہت خوب صورت ہے ، کتاب کا فلیپ اور سر ورق اپنے حسن میں یکتا ہے اور پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی پیشکش ہے۔اس کتاب میں شامل دونوں افسانے خاصے کی چیزیں ہیں اور مصنف کی صلاحیت کا اظہار بھی ہیں ۔  اگر  یہ افسانے سفر نامے کا حصہ نہ بھی ہوتے تو بھی اپنی الگ شناخت قائم رکھ سکتے تھے ، یا کم از کم یہ سفرنامہ ان دونوں افسانوں کے علاوہ بھی اپنی حیثیت قائم رکھ سکتا تھا۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

Close