May 23, 2022

بکسے والا / تحریر احسان الحق

تحریر احسان الحق

 سردیوں کی دھوپ میں ماں اپنی بچی کوگھرکے صحن میں بیٹھ کرجوئیں نکالنے اورکنگی کرنے میں مصروف تھی کہ اچانک بچی کی نظربکسے والے پٹھان پرپڑی اوربے ساختہ اپنی اماں سے کہنے لگی کہ ”اماں بکسے والا“۔اماں نے بچی کے سرسے نظرہٹاکربکسے والے کودیکھااورایک دم سے بول پڑی کہ جوئیں نکالنے والی کنگی کے دندے ٹوٹ گے ہیں توبکسے والے کوبلاکرلیتے ہیں اس کے پاس کنگی ہوگی۔بچی خوشی سے اٹھی اوربھاگتی ہوئی بکسے والے کوبلانے لگی۔بکسے والاپٹھان آکرکچی ڈب پررکھے ایک بنڈے پربیٹھ گیااوراس نے ایک مڑیل ساٹین کابنابکساکھولا،بچی بڑی تجسس اورمسرت سے ہرچیزکودیکھ رہی تھی۔کبھی کالی سوئیاں (بالوں پرلگانے والی)دیکھتی توکبھی پراندہ،کبھی ناک پرلگانے والے تیلے کے پیکٹ کواٹھاتی۔ہرچیزکی قیمت بکسے والے سے پوچھتی۔قارئین کرام!یہ کہانی اس زمانہ کی ہے جب آج سے کم وبیش بیس سال پہلے پونچھ میں بکسے والے پٹھان پھیری لگایاکرتے تھے۔ہماری ماؤں دادیوں کو”تبت“کریم آج بھی یادہوگی جوکبھی اس بکسے والے سے لیاکرتی تھیں۔وہ پراندے،چوڑیاں،بچوں کیلئے لاسٹک،انگوٹھیاں،کپڑے کاٹنے والی قینچی،کالی سوئیاں جوبچیوں کے بالوں میں لگائی جاتی تھیں،جوئیں نکالنے والی کنگی،ہاشمی سرما،اومیگاکریم،گانی(جونومولوبچوں کے ہاتھ مین باندھی جاتی تھی)،واسلین،بچیوں کے ہار،نیل پالش،کلپ،کانٹے غرضیکہ اس ٹین کے ایک بکسے (صندوق)میں منیاری کی ہرچیزمیسرہوتی تھی۔ بکسے والے کابکسااندرسے ایساہوتاکہ جیسے پوری دکان ہو۔اندرسے رسیوں کے ساتھ پوری طرح سجایاہوتااوران دھاگوں کے ساتھ سامان اس طرح لٹکایاہوتاکہ بکسابندبھی کریں تواس کی ترتیب خراب نہیں ہوتی تھی۔بکسے کے ڈھکن پردھاگوں کے اوپر خوبصورت اندازمیں منیاری کاساراسامان سجارکھاہوتا۔اسی طرح بکسے کے اندربھی ہرچیزترتیب کے ساتھ رکھی جاتی تھی۔ٹین کے بکسے کواٹھانے کے لئے ایک بلٹ نمارسی لگاکرپھیری والے بکسے کواٹھائے گاؤں گاؤں پھرتے تھے۔

ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے وہ زمانہ دیکھ رکھاہے۔حالیہ دنوں میں سوشل میڈیاپردوویڈیوایسی دیکھیں جن کودیکھ کربے ساختہ آنسونکل آئے۔حالانکہ اتنے بھی بڈھے نہیں ہوئے لیکن بیس سال کی اخلاص سے بھری زندگی یادآئے توکس کی آنکھیں ہیں جونہ بھیگ جائیں۔ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے وی سی آرکاعروج اوراس کازمانہ دیکھا۔ہم نے وہ زمانہ بھی دیکھاجب فلم رول فوٹوگرافرکودھلوانے کیلئے دی اوربے چینی سے انتظارکیاکہ شایدفوٹواچھی آئے گی یابری،ناجانے کیسی آئے گی۔ہم نے انٹیناکازمانہ بھی دیکھ رکھاہے۔ہم نے گانوں والی آڈیوکیسٹ اے سائیڈاوربی سائیڈٹیپ ریکارڈرمیں چلائی اورریڈیوپرخبریں اورگانے بھی شوق سے سنے۔یہ حقیقت ہے کہ ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے کہانیوں کی کتاب عمران سیریز،تین عورتیں تین کہانیاں انتہائی شوق سے پڑھیں۔ہم وہ آخری لوگ ہیں جن کے دورمیں گھڑی کسی کسی کے پاس ہوتی تھی مگروقت سب کے پاس تھا۔ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے رات کوسب کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کرکھاناکھایااب توہرایک کواپنے اپنے کمرے تک محدودرہنے کی عادت ہے۔ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے پتنگ خودبنایا اور دھاگے کی نکلی سے اڑایا۔ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہیں ایک عددسہراب سائیکل کاجنون تھا۔ہم وہ آخری لوگ ہیں جوگاؤں بھرمیں کھیلتے تھے اگرکہیں سے مفلرمل جائے توگلے میں لٹکاکرخودکو”بابو“سمجھتے تھے۔ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے تختی لکھی اوراردوخوش خطی لکھناسیکھاجنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کواعزازسمجھا۔ہم وہ خوش نصیب ہیں جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس پائی۔یہ سب دوربیت گئے چارپائیاں بھی ٹوٹ گئیں رشتے بھی چھوٹ گے۔بہت خوبصورت خالص رشتوں کادورنہ جانے کہاں چلاگیا۔اس دورمیں لوگ کم پڑھے لکھے مگرمخلص ہوتے تھے۔اب زمانہ زیادہ پڑھ لکھ گیاتومفادات اورخودغرضی بڑھ گئی،

کچھ سال اورپھریہ سب بتانے والے بھی ختم ہوجائیں گے۔نہ بکسے والارہے گااورنہ بکسے کی کہانی سنانے والارہے گا۔

Leave your comment !

%d bloggers like this: