پاکباز  مائدہ شفیق کی ایک عمدہ تصنیف   
    پرو فیسرخالد اکبر   
ناول ادب کی اصناف میں اہم صنف سمجھی اور شمار کی جاتی ہے ۔جو زندگی کے اہم مسائل کا احاطہ کرتی ہے اور اس کی گتھیوں کو سلجھانے میں مدد کرتی ہے۔ناول انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا آغاز انگریزی ادب میں  اٹھارویں صدی  میںمتوسط طبقہ  کی خوشحالی اور فراغت کے پس منظر میں  ہوا  اور پھر سارے  ادب پرچھا گیا ۔ اردو میں ناول کا آغاز انیسویں صدی کے نصف آخر میں ہوا۔خط تقدیر از ڈاکٹر محمود  اور ڈپٹی نذیر احمد کے ناول مراۃالعروس پہلے ناول ٹھرے۔ بلاشبہ ناول کو پروان چڑھانے میں مرد ناول نگاروں کا کردار کلیدی رہا ہے۔خواتین نے مردوں کے بعد ناول نگاری کے میدان میں قدم رکھا  ۔انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں ناول کی تخلیق شروع کی اور تب سے آج تک یہ عمل مسلسل جاری ہے ۔  ان   خواتین ناول نگاروں نے عورتوں کے بنیادی مسائل سے لے کر تعلیم و تربیت ،معاشرتی برائیوں اور دیگر معائب  کو دور  کرنے کی پوری کاوشیں کی۔ محمدی بیگم  ،حجاب امتیاز، بیگم علی عصمت چغتائی اور قراۃ العین حیدر سے لے کر عہد حاضر کی عفت موہانی رشید جہاں اور  رضیہ  سجاد ظہیر نے  متنوع موضوعات پر اپنا قلم اٹھایا اور اس صنف میں اپنا لوہا منوایا۔ بقول وقار عظیم کے جہاں تک کہانی  کے کہنے کا تعلق ہے  تو عورتوں کے  قصے  اور ناول اپنی مثال آپ  ہیں۔ ۔یہ مثال جدید اور قدیم کے فرق کے بغیر سب ناولوں میں موجود ہے ۔
اردو  زبان و ادب کی آبیاری میں کشمیری ادبا ء  کا کردار کلیدی رہا ہے ۔ اردو شاعری کی درخشاں تاریخ  علامہ اقبال کے بغیر ادھوری  ہے ۔اسی طرح فکشن میں  اردو ادب کے سب سے بڑے افسانہ نگار سعادت حسین منٹو سے  عظیم مزاح نگار  سردارکبیر خان تک کشمیری ادباء  کا مقام اور  اُن کی خدمات   اظہر من الشمس ہیں ۔آزادکشمیر کے ساڑھے   چار ہزار مربع میل کے علاقے پر پھیلی  چھوٹی سی پٹی  نے کئی مشاہیر  ادب کو جنم لیا ۔صابر حسین آفاقی، سردار کبیر ،محمود ہاشمی ڈاکٹر ظفر حسین ظفر اور ڈاکٹر صغیر سمیت دیگر کئی نامور ادیب پیدا کیے۔ اردو شاعری کی روایت میں مرد وں کے ساتھ ساتھ اس اس خطہ نے  کئی نامور خواتین  شعراء کو  بھی جنم لیا۔ تا ہم ناول نگاری کی تاریخ میں خواتین کا کردار نہ ہونے  کے برابر رہا۔معتبر ناول نگاری کی تاریخ میں آزاد کشمیر میں ایک واحد نام کہکشاں ملک کا ہے مگر ان کا جنم اور سکونت  بھی پاکستان میں ہی ہے۔
 اس حوالے سے دیکھا جاے تو زیر تبصرہ  ناول ـپاکباز  کی مصنفہ ،مائدہ شفیق کو خواتین  کے باب میں اولین ناول نگاروں میں شامل کیا سکتا ہے۔ مائدہ کا تعلق عباسپور پونچھ سے ہے اور وہ   انگر یزی لسانیت اور ادب میں ایم فل ہیں اور آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں ۔
 پاکباز  ناول کا پلاٹ سادہ ہے جو ایک ہی سماجی  موضوع پر استوار ہے۔ اس میں ناول کے  تمام اجزاء موجود  ہیں ۔ یہ ایک عمدہ  ناول ہے جس میں ٹر جک  عناصر کے ساتھ ساتھ Comicطربیہ   پہلوبھی مو جود ہیں۔اس کا انجام خوشگوار اور سبق آموز ہے۔ واقعات میں تسلسل منطقی ہے ۔۔ اور واقعات ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ۔ اس کے کردار جاندار اور سپاٹ  ،اور مکا لمے  سادہ اور حقیقت  پسندا نہ ہیں ۔ زیادہ تر  کہانی  مکالموں کے زور پر آگے بڑھائی گئی  ہے جو اس ناول کو ڈرامہ کے رنگ میں  رنگتی  نظر آتی ہے۔ تمام مکالمے جن کرداروں سے ادا ہو رہے ہیں وہ بالکل ان کے حسب حال ہیں۔ ناول نگارکا نقطہ نظر  بالکل واضح ہے اور ادب براۓ  زندگی ( life sake Art for )کا غماز ہے ۔مائدہ نے  انتہائی دل نشیں انداز میں دیباچہ میں اس مقصد کو  بیان  کیا ہے جو ان کے پیش نظر تھا۔۔ایک جگہ وہ راقمطراز ہیں : ـیہ ناول جہاں انسان کی روحانی زندگی کو  جلابخشے گا وہاں معاشرہ کی اصلاح  کی  طرف بھی توجہ مبذول کروائے گا ۔ اخلاقیات ادب سے جڑ ی ہوئی ہے۔ اور ادب سے دوری قوموں کی پستی اور روحانی زوال کی ہیبت ناک پیش گوئی ہے۔ مرکزی کردار لاریب  کا نام از خود متر شح ہے کہ اس تخلیق کا کیا مقصدہے ۔ اس ناول میں بین السطور بہت ہی مضبوط پیغام پنہاں ہے :کہ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اور بندہ اپنے  فظری  ضعف طبیعت کے سبب پریشانی کا شکار رہتا ہے ۔ جہاں چہلنجز ہوتے ہیں وہاں مواقع بھی ہوتے ہیں۔ ہر بحران میں ایک Opportunityبھی ہوتی ہے ۔ لہذا چیزوں کو مثبت انداز میں دیکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اس ناول میں Surprise اور Conflictکے عناصر بھی پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ناول  قاری کو شروع سے ہی  اپنی گرفت میں رکھتا ہے ۔ اس ناول کوdramatiseکرتا ,ڈرامہ کی شکل میں ڈھالنا بہت آسان ہے چونکہ   اس میں  زیادہ تر مکالمے سے کہانی کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔ یہ ایک فیملی ناول ہے ۔  اور  covid19  کے پس  منظر  اور حالات میں لکھا جانے والا پہلا ناول بھی ہے۔ ناول نگار کا شاعرانہ تخیل  اور سخن  فہمی کا گہرا شوق  بھی مختلف  مقامات پر اور مناسب پیراے میں جلوہ کاریاں دیکھاتا  ہے جس سے قاری حظ لیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
مکالموں کی زبان وہی ہے جو آج کل کی Multi lingual افراد استعمال کرتے ہیں. یہی   Hyberdizedاردو  کتاب  کے قرطاس  پر بکھرتی نظر آتی ہے ۔ یہی چیزاس ناول کے اسلوب کو پرکاراور دلچسپ بناتی ہے ۔ کتاب کی پیشکش بہت عمدہ انداز میں کی گئی ہے۔ ناول  میں   جابجا Code Switching     بھی نظر آتی ہے۔ جو کثیر اللسانی  لوگوں میں عام  چلن اور روایت ہے۔ اس ناول کا Dictionبہت سادہ ہے۔ اور اس لیے آج  کا مصروف  قاری چند نشستوں میں بلا کسی اضافی  لغاتی مدد کے آسانی سے  پڑھ سکتا ہے۔   ا ستعارہ  اور  تشبیات  کا استعمال برمحل اور عمدہ ہے۔
پا کباز  مائدہ  کی  کی پہلی کاوش ہے اس لیے اس میں کچھ   معا ئب  بھی عیاں ہیں۔ بعض مقامات پر کچھ جلد بازی بھی نظر آتی ہے اور زیادہ اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے انھوں نے آج کے سوشل میڈیا کے عہد میں  زیربار  مصروف قاری کو ذ ہن میں رکھ کر اس عمل کو برتا ہو۔
معائدہ شفیق کی  یہ پہلی کاوش ہے۔۔ اس پر یقینا وہ  بہت ہی مبارکباد کی مستحق ہیں۔ وہ اپنا مشاہدہ اور مطالعہ جاری رکھیں  تو وہ قلم اور قر طاس کی دنیا میں مفید کردار ادا کر سکتی ہیں۔کیوں کہ اُن کے اندر ایک ادیب کے  جملہ معاسن  مو جود ہیں۔ میری  ناقص رائے میں  و ہ  ڈرامہ نویسی  میں بھی کوشش کریں تو  ضرور کامیاب ہو سکتی ہیں ۔ان کی یہ کاوش قابل قدر اور توجہ کی حامل ہے اور یقینا علمی اور ادبی حلقوں میں ضرور مقبول ہو گی۔کتاب کی  جلد بہت دیدہ زیب ہے۔ پاکباز  کل ۱۰۵ صفحات  پر مشتمل ہے  اور بڑے بک سٹالز پر دستیاب ہے۔