ڈ اکٹر محمد صغیر خان،

 فرہاد احمد فگارؔ…… نام شاعرانہ مگر کام خالص ہنرمندانہ اور ماہرانہ…… یہ وہ اوّلین تاثر ہے جو “احمد عطااللہ کی غزل گوئی” دیکھ پڑھ کر مرے ذہن کی سل سلیٹ پر ابھرا مچلا…… احمد عطااللہ آزادکشمیر کے معروف ترین شعرامیں سرفہرست ہیں۔ ان کی غزل اور شعر گوئی کا انداز کچھ ایسا ہے کہ وہ “ہمیشہ” نہایت ہی “والہانہ” طور پر بلند آہنگی سے کہتے آئے ہیں کہ “بھول جانا کسی کے بس میں نہیں”۔ احمد عطا “راوین” ہونے سے پہلے “کامیڈین” ہوا اور پھر “راوی” نے اسے وہ روانی بخشی کہ وہ ایک “جنون” میں چلتا لکھتا ‘فنون” تک جا پہنچا۔ یہی وہ ستون تھا جس کے سہارے جب وہ کھڑا ہوا تو پورے قد کے ساتھ کھڑا ہوا۔ یہاں ہی سے اسے “شناخت” بلکہ “ساخت” میسر آئی۔ یہاں ہی سے اس نے سر کھولے پھرتی غزل کے لیے در کھولے اور پھر وقت اس پر یوں مہربان ہوا کہ کامرانیوں اور شہرت کے ان گنت در اس پر کھلتے چلے گئے۔ احمد عطااللہ جدید غزل کا معتبر نام ہے جو اب اپنا مخصوص جواز و پہچان رکھتا ہے۔ اس کی خوش بختی ہے کہ اسے جہاں ڈاکٹر خواجا زکریا، ڈاکٹر اجمل نیازی، اصغر ندیم سید اور ڈاکٹر سیدمعین الدین سے سیکھنے پڑھنے کا موقع ملا وہاں عباس تابش نے بھی اس کے اندر شعر گوئی کی چنگاری کو دھمکتے آتش داں میں تبدیل کیا اور ساتھ ساتھ اسے احمد ندیمؔ قاسمی کے شجرسایہ دار کی گھنی میٹھی چھاؤں میسر آئی تو آگے چل کر روایت شکن ظفراؔقبال کی ستائش بھی۔ یوں ہم کہِ سکتے ہیں کہ متذکر بالا عوامل کے ساتھ شعری ذوق، گہرے مطالعے اور محنت نے احمد عطا اللہ کو شعرگوئی کا خاص وصف و ملکہ عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ شعر و شعور کا ایک بھرپور اور توانا حوالہ بن چلا ہے۔
فرہاد احمد فگارؔ نے احمد عطا کے اسی جوہر گہر کو کریدنے نکھارنے کی ایک خوب صورت سعی کی ہے جو آج کتابی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ فرہاد احمد فگارؔ سلجھے اور گجے ادبی ذوق کا حامل وہ محقق ہے جو تحقیق میں تخلیق کے ذائقے بھر کر اسے سوادلا بنانے کا فن جانتا ہے۔ فرہاد احمد فگارؔ کی زیرنظر تحقیق کئی حوالوں سے منفرد ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ خالصتاً نصابی کام اتنی مہارت سے کیا گیا کہ اسے اکتسابی وصف میسر آ گیا ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں محترم سید معراج جامیؔ کا مسبوط دیباچہ ہے، جس میں احمد عطاللہ کو قدیم اور جدید شعریات کا حسین امتزاج کیا گیا ہے اور فرہاد کی تیشہ بدست محنت کی کہانی کہی گئی ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر ماجد محمود، پروفیسر حبیب گوہر، پروفیسر احمد وقار کی معتبر آرا میں اور محقق کا حرف سپاس بھی۔ باب اوّل “احمد عطاء اللہ سوانح و شخصیت” ہے جس میں خاندانی پس منظر، پیدائش، شادی ملازمت و شخصیت کے تذکرے کے ساتھ شعری سفر اور حاصلات کا مختصر بیان ہے اورساتھ ہی احمد عطاکے دوستوں جو سبھی اہل سخن دفن کی آرا بھی جو زیرِتحقیق شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو مزید واضح کر رہی ہیں۔ دوسرا باب آزاد کشمیر میں “اُردو غزل کا آغاز و ارتقا” ہے۔ اگرچہ یہ موضوع طویل مباحث کا متقاضی ہے لیکن فگارؔ نے ہنرمندی سے دریا کو کوزے میں بند کیا ہے۔
تیسرے باب میں احمد عطااللہ کے اوّلین شعری مجموعے “بھول جانا کسی کے بس میں نہیں” کا فنی فکری جائزہ لیا گیا ہے۔ محقق نے احمد عطا کے شعری اوصاف و حوالوں یعنی بے ساختگی “شہر اور گاؤں”، “عشق و محبت”، “صنف نازک”، “ہجر و وصال”، “فطرت نگاری” اور “جنس” کو علاحدہ علاحدہ مقدور بھر تفصیل سے لکھا،کھنگالا ہے۔ چوتھے باب میں احمد عطااللہ کے دوسرے شعری مجموعے “ہمیشہ” کا فکری فنی تجزیہ کیا گیا ہے اور ان کی شاعری میں موجود “گاؤں”، “رجائیت”، “عشق و محبت”، ‘گلی”، “مذہبی موضوعات”، “جدت”، “قنوطیت”، مختلف صنعتوں جسے تضاد، تلمیح “مراعات النظیر” وغیرہ کے برتاؤ کے ساتھ ساتھ اجتماعیت کا بیان ہوا ہے تو ساتھ ہی زبان و بیان کی خوبیوں یعنی “روزمرہ اور محاورات” تشبیہات اور استعارات کے استعمال اور پھر ظرافت جیسی خوبیوں کا خوب صورت تذکرہ کرتے ہوئے ان کے ہاں “سہل ممتنع” اور “زبان زدِعام اشعار” کی نشان دہی کی گئی ہے اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ احمد عطا کبھی اور ابھی گاؤں سے نہیں نکلا، اسی لیے اس کے ہاں “نشاطیہ ٓاہنگ” خوب صورت انداز میں اس کی غزل کے حسن کو چار چاند لگا رہا ہے۔ اب “حاصل بحث” ہے جس میں فرہاد احمد فگارؔ نے احمد عطاکی زیربحث غزل گوئی پر ناقدانہ انداز میں نظر ڈالی ہے۔
فرہاد احمد فگارؔ نے اس تحقیقی عمل میں جہاں سارے تقاضے پورے کیے ہیں، وہاں اپنی مہارت سے اس تصنیف کے تخلیقی ذائقے کو کہیں بھی ماند نہیں پڑنے دیا۔ اُنھوں نے ہر ہر موضوع سے متعلق خوب صورت اور برمحل اشعار کا دل پذیر چناؤ کیا ہے اور پھر انھیں تحقیق و تخلیق کی اس مالا میں یوں سلیقے سے جڑا مڑا ہے کہ مواد کے ساتھ سواد میں کماحقہ اضافہ ہوا ہے۔ فرہاد احمد فگارؔ کا اسلوب سادہ ضرور ہے لیکن سپاٹ و بے رنگ نہیں بلکہ اس میں ایک خاص ڈھنگ آہنگ یوں پایا جاتا ہے کہ اس کا رنگ نکھر نکھر جاتا ہے اور یقینا ان کی یہی خوبی ہے کہ عام قاری ان کی اس تخلیق کا مطالعہ سے کسی نوع کی اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کی دل چسپی اوّل سے آخر تک برقرار رہتی ہے۔ اس میں یقینا احمد عطا کے “چوندے چوندے” اشعار کا بھی بڑا حصہ ہے لیکن یہ تمام قصہ فرہاد نے یوں بیان کیا ہے کہ توجہ کہیں بٹتی ٹوٹتی نہیں ہے۔
زیرِنظر تصنیف میں متعدد بار بتایا جتایا گیا ہے کہ فرہاد بنیادی طور پر ایک محقق ہیں اور وہ زبان و لسان اور لفظ و املا کی ترتیب و ترکیب میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، یقینا ایسا ہی ہو گا کہ سارے راویان مستند ہے، لیکن جانے کیوں ‘احمد عطا اللہ کی غزل گوئی” کے مطالعے کے بعد میرا اصرار ہے کہ فرہاد اپنے اصل میں ایک تخلیق کار ہے، جب کہ باقی ساری حیثیتیں، جہتیں بے حد معتبر سہی لیکن ثانوی ہیں۔فگارؔ کی تحقیقی و تخلیقی دل چسپیوں ں کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ یہ عہدِ جدید کا فرد و فرہاد ہے جو تیشے کی بہ جائے قلم سے ایسی نہریں کھودتا ہے جس میں پانی کی جگہ شعر و کہانی کی روانی دیکھنے لائق ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ تخلیق کار بھی ہے اور فن کار بھی، اور بالآخر فگارؔ بھی ٹھہرا کہ ایسے فرہادوں کا شمار انھی میں ہو تو سجتا جچتا ہے۔ اختصار سے کہا جا سکتا ہے کہ فرہاد احمد فگارؔ کی یہ تحقیقی تصنیف وقت کے اہم شاعر احمد عطااللہ کی “ذات و کائنات” کی پرتیں کھولتے اور ان کی تفہیم و تسلیم کے ضمن میں ایک مستند حوالہ ہے۔ فرہاد احمد فگارؔ کے اس عمل و کردار نے ہر دو کو خاص وقار و اعتبار عطا کیا ہے جو بے حد خوش آئند امر ہے۔