bijli kay mansobay aur mahol per asrat

 تحریر : ظفر وانی

نیلم جہلم ہاییڈروپاور پراجیکٹ

پاکستان میں پانی اور بجلی سے متعلق ادارہ واپڈا کی طرف سے آزاد کشمیر میں بھی آبی ذرائع سے بجلی بنانے کے متعدد منصوبے تیار کئے گئے ہیں ۔ جن سے وافر مقدار میں کم قیمت پن بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو رہی ہے ۔

ان منصوبوں کی افادیت ملک کی ترقی کے لئیے واضع ہے،۔ لیکن ان منصوبوں کے کچھ مضر اثرات آزاد کشمیر کے ملحقہ علاقوں اور ان کے ماحول پر بھی مرتب ہو رہے ہیں ۔

ظفر وانی

یہ مضر اثرات جو اب تک تو مقامی طور پر ہی ماحول کو متاثر کر رہے ہیں ۔ لیکن مستقبل میں یہ اثرات براہ راست ان منصوبوں اور ان کی گنجائش کے لئیے خطرے کا باعث بنیں گے ۔

نیلم جہلم ہائیڈرو پاورپراجیکٹ


مظفرآباد سے بالائی علاقے میں چالیس کلومیٹر دور نوسیری کے مقام پرنیلم جہلم منصوبے کا ان ٹیک ریزروائر تعمیرکیا گیا ہے ۔

دریاے نیلم میں پانی کیساتھ آنے والی ریت اور سِلٹ یعنی گاد  اس ریزروائر میں پانی کی رفتار رک جانے یا کم ہو جانے کی وجہ سے تہہ میں بیٹھنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور اس طرح رفتہ رفتہ اس آبی زخیرہ کی گنجائش میں کمی کا باعث بن جاتی ہے ۔   ڈیزائن کے مطابق اس ریت کو وقتا فوقتا وئیر یعنی تعمیر شدہ رکاوٹ کے گیٹ کھول کر دریا کے زیریں جانب خارج کیاجا سکے۔

 ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ تہہ میں جمع شدہ مٹیریل کو آٹھ سال کے عرصے کے بعد نکاس کرنے کی ضرورت پڑتی ، لیکن عملی طور پر ہوا یہ کہ اس دریا کے کیچمنٹ ایریا میں عمومی طور پر پانی کے ساتھ آنے والی ریت اور سِلٹ ( چکنی مٹی )کے علاوہ بھی بہت بڑی مقدار میں لینڈ سلائیڈز اور مختلف قدرتی آفات کلاوڈ برسٹ وغیرہ کی وجہ سے آنے والا غیر تخمینہ شدہ ملبہ بھی پانی کے ساتھ ریزروائر تک پہنچ کر اس کے قبل از وقت یعنی چار سال سے کم مدت میں ہی، ملبے سے بھر جانے کا باعث بن گیا ۔

 اس ملبے کی نکاسی کے لئیے طے شدہ اور معیاری طریقہ کار کے مطابق اس ملبے کو بتدریج دریا کے زیریں سمت چھوڑنے کے بجاے بغیر کسی پیشگی اعلان کے اچانک زیریں سمت میں دریا میں آے ملبے کی نکاسی کر دی گئی۔

کشن گنگا دریا میں ریت اور سلٹ کی مقدار

یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل بھارت نے وادی گریز کے بالائی علاقے میں اسی دریا جسے وہاں کشن گنگا کہا جاتا ہے ۔  اس پر مقبوضہ کشمیر کے سونا مرگ علاقے میں، تعمیر شدہ ایسے ہی ریزروائر سے غیر اعلانیہ طور پر پانی اور اس میں شامل ریت اور سلٹ کی بڑی مقدار زیریں سمت یعنی پاکستانی علاقے کی طرف چھوڑ دی تھی ۔

یہ اضافی ملبے کی بھاری مقدار بھی نوسیری کے آبی ریزروائر میں آ کر سیڈیمنٹس کی شکل میں جھیل کی تہہ میں بیٹھ کر اس کی گنجائش میں بھاری کمی کا باعث بن گئی ۔

 جب یہاں سے جھیل کی تہہ کی ہنگامی طور پر صفائی کرنے کے لئیے گیٹ پوری گنجائش پر کھولے گئے ،تو یہ گاد ملا پانی دریاے نیلم کے بہاو میں شامل ہو کر چالیس کلو میٹر دور واقع آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد تک آن پہنچا۔

واٹر سپلائی کا نظام متاثر

 اور چونکہ مظفر آباد کے ماحول کا انحصار اور پینے کے پانی کا بنیادی زریعہ یعنی سورس دریاے نیلم ہی ہے،تو اچانک غیر اعلانیہ طور پر اس گاد اور ریت ملے پانی کی بھاری مقدار میں نکاسی کی وجہ سے واٹر سپلائی سسٹم کے ان ٹیک مقامات اورچینل میں ریت اور گاد بھر جانیکی وجہ سے شہر کی واٹر سپلائی کئی روز تک کے لئیے شدید متاثر ہو گئی ۔

 عوام و صارفین، پانی کی سپلائی شدید طور پر متاثر ہونے کی وجہ سے شدید تکلیف و پریشانی کا شکار ہوئے ۔ اور اس ریت اور گاد ملے پانی کی وجہ سے پینے کے پانی کا ٹریٹمنٹ پلانٹ اور اس کے فلٹر بیڈز بھی بری طرح متاثر ہوئے ۔

منگلا ڈیم کے متاثرین کے مسائل

یہاں سے آگے یہی پانی مقبوضہ کشمیر کی طرف سے آنے والے دریاے جہلم میں شامل ہو کرنیچے منگلا جھیل تک جاتا ہے۔  جس کے اس طرح گاد سے بھر جانے کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ڈی سلٹنگ کرنے کے بجائے ۔ آزاد کشمیر کی بہت بڑی آبادی جو اس ڈیم یعنی منگلا ڈیم کے کنارے واقع بستیوں میں میر پورسے لے کر ڈوڈیال تک آباد تھے ان کو اپنے گھروں اور زمینوں سے بیدخل کر کے منگلا ڈیم کی “اپ ریزنگ ” کی گئی۔

 اس طرح آزاد کشمیر کے ان علاقوں کے عوام نے دوسری بار پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئیے اپنے گھروں ، زمینوں اور آبا و اجداد کی قبروں تک کی قربانی دی ۔

 پہلی بار انہوں نے منگلا ڈیم کی تعمیر کے وقت اپنے گھربار چھوڑے اور اب اس اپ ریزنگ کی وجہ سے ان کو دوسری بار اپنے گھربار اور املاک کی قربانی دینی پڑی۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اپ ریزنگ کے منصوبے کے آغاز سے قبل ان متاثرین ، سے ان کی بعد آباد کاری کے لئیے کئیے گئے وعدے تک پورے نہیں کئیے گئے،۔

اور بہت سے ایسے متاثرین جن کی کئی کئی کنال زمین اور تعمیر شدہ وسیع مکانات اس پراجکٹ کی زد میں آے ان کو عوض میں انتہائی قلیل معاوضہ اور کنالوں کی ملکیت کے بدلے چند مرلے کے پلاٹ دئییگئے۔

لیکن ایسے حضرات نسبتا خوش قسمت ہی نکلے کیونکہ جن متاثرین کی تمام ملکیتی زمینیں اس منصوبے کی زد میں آئیں، ان سے پہلے ان کو رہائش اور آباد کاری کے لئیے متبادل زمین دینے کا وعدہ کیا گیا۔ لیکن منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد ان متاثرین کو انتہائی قلیل معاوضہ جات ، جن سے کنالوں کے دئیے گئے معاوضہ جات سے کہیں اور ایک مرلہ زمین تک نہیں خریدی جا سکتی ،۔

اور نہ ہی ایسے متاثرین کو جن کی تمام ملکیت اس منصوبے کی نظرہو گئی ۔ حسبِ وعدہ کوئی متبادل زمین دی گئی اور ایسے متاثرین کہیں شنوائی نہ ہونیکی وجہ سے گھر بار سے محروم اور دربدر ہیں ۔ حکومت کو ایسے متاثرین کے جائز مطالبات کے حل کی طرف مثبت پیش رفت کرنی چاہئیے ۔

ڈی سلٹنگ کے طریقہ کار میں ترمیم کی ضرورت

جیسا کہ اس مضمون کے ابتدائی حصے میں اس جھیل یعنی منگلا جھیل کے کیچمنٹ ایریا میں گاد کی بڑی مقدار آنے کے مسئلے کا زکرکیا گیا۔

 وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتاہے کہ ڈی سلٹنگ کے کسی اور طریقہ پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اگر گاد کی بھاری اور تخمینہ ، اندازہ سے بہت زیادہ مقدار اسی طرح جھیل میں مسلسل آتی رہی تو کیا تیسری بار اس ڈیم اور ریزروائر کی اپ ریزنگ کی جاے گی ؟

 لہزا ضرورت اس امر کی ہے کہ معروضی اور حقیقی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوے بالائی علاقوں یعنی کیچمنٹ ایریا سے ریت ،سلٹ یعنی گاد کی مقدار میں کمی اور روک تھام کے لئیے موثر حکمت عمل اپنائی جاے اور مناسب و موثر تکنیکی اقدامات اٹھاے جانے چاہئیں ۔

 اور ایسے منصوبوں سے ماحولیاتی طور پرمتاثرہونے والے علاقوں کے تحفظ کے لئیے بروقت ضروری اقدامات اٹھاے جائیں اور ان اقدامات پر عمل درآمد کے لئیے مناسب و ضروری وسائل مہیا کئیے جانے چاہئیں ۔