کہانی کار و تصویر : ابرار گردیزی 

کوئٹہ قائد اعظم کے پاکستان کا حقیقی عکس…. سچے , محب و وسیع القب پاکستانیوں کا شہر…ایک ہفتے کے قیام میں رکشے والوں ،ریڑھی بانوں، ہوٹل ویٹرز، دکانداروں،اعلیٰ و ادنیٰ پولیس و دیگر آفیسرز،یڈیکل کالج کے طلبہ وطالبات اور ڈاکٹرزسے ملاقات رہی-حسن خلق میں یہاں کے محمود وایاز ایک صف میں پائے , معاملات و معمولات معاشرت میں ملنسار, ہمدرد, کھرے اور نہایت درجے کے مدد گارو مہمان نواز-غیر مقامی خریدارکی آزاد کشمیر, وفاقی دارالحکومت, پنڈی, پشاور, کراچی تک جیبیں کترنے کا رواج عام ہے.-کوئٹہ میں ستر اسی افراد سے معاملات درپیش آئے..کسی ایک نے ایک پیسہ ناجائز لینے کی کوشش نہیں کی -میٹرس والے سے پوچھا:پرنس روڈ کدھر ہے؟ اس نے بندہ ساتھ بھیج دیا-یوٹیلٹی سٹور والے کے پاس مطلوبہ شے نہ تھی, اس نے منگوا کے ہوٹل بھیجوائی -ایک راہ گیر سے پوچھا ڈبل روڈ کدھر ہے؟ تمام تر تفصیل بتائیں،ہم آگے بڑھے،.وہ پیچھے سے بھاگا بھاگا آیا: بولا”حاجی صیب..اسی روپے سے زیادہ نہ دینا رکشے والے کو”رکشہ روکا تو اس نے اسی ہی مانگے..کوئٹہ میں ٹیکسی کا نام و نشان نہیں.بولان میڈیکل کالج میں بچی کے داخلے کے معاملات نپٹانے اہلیہ کے ساتھ آیا ہوں….آرپار کے سینیئر کشمیری طلبہ وطالبات,  پنجاب کے طلبہ وطالبات اور بلوچستان کے طلبہ وطالبات نے ویلکم کیا-ہرہر مرحلے پہ رہنمائی کی،میزبانی کی.کسی نے یہ نہیں کہا کہ انکل.وہ سامنے دفتر ہے….جس سے پوچھا, وہ ساتھ ہوگیااور کام نپٹانے تک ساتھ رہا-کشمیراور پنجاب کےطلبہ وطالبات نئے آنے والے کشمیری و پنجابی طلبہ وطالبات کا استقبال اور رہنمائی ایسے کرتے ہیں جیسے گھر کا لاڈلا عرصے بعد گھر آرہا ہو-ڑے چھوٹوں پہ شفیق ومہربان،پورے پانچ برس یک جان و متحد،طلبہ وطالبات کا مثالی ماحول ،ہزار فکروں سے ان طلبہ وطالبات نے ہمیں آزاد کردیا-

بولان میڈیکل کالج میں بیت بازی کا مقابلہ تھا۔سینیئر طلبہ وطالبات نے شرکت کی دعوت دی..پتہ چلا پی ٹی وی کوئٹہ مرکز کے اداکارحمید شیخ مہمان خصوصی ہوں گے. اشتیاق بڑھا..پندرہ برس قبل تک جب کہ پی ٹی وی کا توتی بولتا تھا۔حمید شیخ جوان تھے-ان کی بھاری آواز کا دلدادہ تھا-سو, پروگرام میں شریک ہوئے-خوشی ہوئی کہ میڈیکل کے طلبہ و طالبات محض کتابی کیڑے نہیں ۔اصحاب ذوق ہیں.معیاری نشست رہی-

کوئٹہ کا یہ میرا دوسرا سفر تھا۔اچھے اور برے, نیک و بد ہر جگہ ہوتے ہیں-عمر گزری ہے پاک سرزمین کی سیاحی میں ۔سچ یہ ہے کہ جو چند دن میں نے کوئٹہ میں گزارے ہیں ۔یہی دن اقبال اور قائد کےاصل پاکستان میں میرے حصے میں آئے ہیں….کہتے ہیں بلوچستان باقی پاکستان سے پچاس برس پیچھے ہے..درست ہے. بلوچستان محروم ہے…درست……دل دکھتاہے اور دعاہے اللہ ان کی آزمائشیں کم کرے…سرکارانہیں ان کا حق دینے میں بے ایمانی سے باز آجائے ….مگر سلام ان سچے لوگوں کو جنہوں نے حقیقی پاک سر زمین کا تصور اپنے مزاج میں بسارکھا ہے.

سلام پیارےکوئٹہ والو!

سلام عظیم بلوچستان والو!