پروفیسرعبدالشکورشاہ

طاقت بدعنوان بناتی ہے، اور بے جا طاقت بے حد بد عنوان بناتی ہے۔ لارڈ ایکٹن۔اگرہم اس اقتباس کو اپنے سیاسی نظام بالخصوص بلدیاتی نظام پر لاگو کریں تویوں محسوس ہو تا ہے لارڈ ایکٹن نے یہ خصوصا ہمارے نظام کے بارے میں لکھا ہے۔صوبوں اور وفاق میں مسند اقتدار سنبھالتے ہی ہم جمہوری گردان بھول جاتے ہیں۔

سندھ میں بلدیاتی نظام کی مدت اگست 2020، خیبر پختونخواں میں اگست 2019,بلوچستان جنوری 2019اور پنجاب میں مئی2019کو ختم ہو گئی مگر ابھی تک بلدیاتی الیکشن کا کہیں نام و نشان تک نظر نہیں آتا۔ بیانی لحاظ سے پنجاب حکومت بلدیاتی الیکشن کروانے میں پرجوش نظر آتی ہے .

مگر یہ جوش و خروش زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ یہ جمہوریت کے لیے کوئی اچھا شگن نہیں ہے۔یہ منطق آ ج تک سمجھ نہیں آئی اگر عام انتخابات بروقت اور باقاعدگی سے ہوتے ہیں تو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں پیٹ میں مروڑ کیوں پھرنے لگتے ہیں۔بلدیاتی انتخابات کا عدم انعقاد بھی خلائی طشتر ی کی طرح ایک راز ہی ہے

 اگر اسے ایک سیاسی طشتری کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔کراچی کے سیلاب، بلوچستان میں بدامنی، خیبر پختونخواں میں دہشت گردی کی لہر اور آزاد کشمیر میں بلدیاتی فنڈز کی بندر بانٹ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جرائم میں اضافہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے سبب ہونے والی تباہی کے ابتدائی جھٹکے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات جمہوریت کے چراغ کو روشن کرنے والی توانائی ہے مگر یہاں تو چراغ تلے اندھیرا ہے۔

صوبائی حکومتیں زیادہ تر بلدیاتی فنڈز استعمال کر چکی ہیں۔بلدیاتی انتخابات کسی ملک میں ایمرجنسی وارڈ کی حیثیت رکھتے ہیں مگر ہمارے وارڈاورلارڈدونوں بیرون ملک ہیں۔ہماری کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں ہم وزیر اعظم اس ملک کے اور علاج بیرون ملک سے کرواتے ہیں اور آزادکشمیر میں تو وزیر سے بڑا فقیر نہیں ملے گا۔

زکواۃ فنڈز کا ریکارڈ نکال کر دیکھ لیں بڑے بڑے وزیر فقیر نکلیں گے جو اتنے غریب ہیں کہ زکواۃ کے پیسوں پر علاج، حج اور عمرے کرتے۔ بلدیاتی نظام قومی سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی سانحہ کے بعد امدادی سرگرمیوں،جلد بحالی اور تعمیری عمل میں کلیدی کردار ادا کر تاہے۔

مگر بدقسمتی سے حکومت کرونا کا بہانہ بنا کر بلدیاتی انتخابات کے انعقادسے گریزاں ہے۔درحقیقت ان حیلے بہانوں کے پیچھے طبی کے بجائے سیاسی کرونا ہے۔بلدیاتی نظام جمہوریت کی پائیداری اور تسلسل کے لیے لازمی جز سمجھا جا تا ہے۔یہ عام شہریوں کواعتماد فراہم کر تا ہے اور انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ مالی، انتظامی اور اپنے علاقے کے دیگر شعبہ جات اور معاملات میں مختلف ذمہ داریاں لے کر حکومت کا دست و بازوں بنیں۔

بلدیاتی نظام کی موجودگی میں عوام اپنے آپ کو حکومت کا حصہ تصور کر تے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات سیاست، جمہوریت اور پس ماندہ علاقوں کے لیے خون مہیا کرنے والی شریانوں کی ماند ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں غیر جمہوری قوتوں کو پروان چڑھنے میں مدد ملتی ہے۔ بلدیاتی نظام کی موجودگی آبادی کو دیہاتوں سے شہروں کی طرف منتقلی سے روکنے میں اہم کردار ادا کر تی ہے۔

بلدیاتی نظام کے زریعے ہم لوگوں کے زیادہ تر مسائل ان کے علاقوں میں حل کر تے ہیں اس کے برعکس لوگوں کو معمولی کاموں کے لیے شہروں کا رخ کر نا پڑتاہے جو مالی مسائل کے ساتھ ساتھ حکومت کے لیے رائے عامہ کی مخالفت کا سبب بھی بنتا ہے۔ ماضی کی ملکی ترقی اور منصوبے بلدیاتی نظام کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔مگر ہمارے ملک عزیز میں بلدیاتی انتخابات میں مقامی نمائندوں کو اقتدارا کی منصفانہ منتقلی کے بجائے انہیں بیوروکریسی اور سرخ فیتے کی اجارہ داری کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔

بڑی سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات پر ایک دوسرے کے ساتھ نورا کشتی میں مگن نظر آتی ہیں مگر عملی طور پر کوئی بھی حکومت اس کے انعقاد کی خواہاں نہیں ہے۔اقتدار کا نشہ ایساچڑھتا ہے کہ اقتدار کی منتقلی کا تصور کرنا بھی محال ہو جا تا ہے۔سیاست دانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بلدیاتی انتخابات سیاسی بیج کی آبیاری اور سیاسی داغ بیل کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر تے ہیں۔بلدیاتی نظام جمہوریت اور حکومت میں لوگوں کے اعتماد کو مضبوط کر تاہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ بلدیاتی نظام کا بروقت انعقاد اور اس کا تسلسل کبھی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہا ہے بلکہ اسے ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا تا ہے۔

اس وقت پاکستان کے چاروں صوبے، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر بلدیاتی نظام کے بغیر چلائے جا رہے ہیں جو کہ حکومت کی غلط ترجیحات کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسریاں ہیں جہاں سیاسی پودے لگائے جاتے ہیں جو بعد میں تناور درخت بن کر ملکی مرکزی سیاست میں شمولیت اختیار کر تے ہیں۔ بلدیاتی نظام ہمیشہ سے بنیادی مسائل: پانی،صفائی،کوڑا کرکٹ اٹھانا، بل صفائی، سڑکوں اور گلیوں کی مرمت اور بجلی کی دستیابی وغیرہ کے حل کے لیے کم خرچ ترین نظام ہے۔بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی میں یہ بوجھ اور صوبائی حکومتوں پرڈال دیا جا تا ہے جو بنیادی طور پر ان کاموں کے لیے نہیں بنائی گئی۔ کام کے بے جا دباؤ کی وجہ سے صوبائی حکومتیں اپنے تفویظ کردہ کام بھی خوش اسلوبی سے سرانجام نہیں دے پاتی،نتیجتا بدانتظامی جنم لیتی ہے۔

ہم اقتدار کی حوس میں اختیارات کی منتقلی سے گریزاں ہیں اور اپنے بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ بلدیاتی حکومتیں عوام کے زیادہ قریب ہوتی ہیں، وہ عوام کے مسائل سے زیادہ بہتر انداز میں آگاہ ہوتی ہیں،وہ عوام کی ترجیحات اور صورتحال سے اچھی طرح آشنا ہو تی ہیں۔بلدیاتی نظام صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے درمیان پل کا کام کر تاہے اور مرکز کا عوام سے رابطہ اور اعتماد بحال رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر تا ہے۔ عوامی رجحان بھی مرکزی حکومت کے بجائے مقامی حکومتوں کی طر ف ہو تا ہے کیونکہ یہ آسانی سے انکی پہنچ میں ہو تی ہیں جبکہ سینکڑوں میل دور مرکز میں جانا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ہے۔

بلدیاتی نظام حکومت کے احتساب میں بھی اہم کردار ادا کر تا ہے جس کے ڈر کی وجہ سے حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد می لیت و لعل سے کام لیتی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کی عدم موجودگی کی ایک اور بڑی وجہ ہمارے ایم ایل ایز اور ایم این ایز کے عام انتخابات سے قبل کھوکھلے، من گھڑت اور جھوٹے سیاسی وعدے بھی ہیں جنہیں وہ الیکشن جیتنے کے بعد پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو جا تے ہیں اور عوام کا سامنا کرنے کے بجائے اسلام آباد یا مظفرآبا د میں گھس کر پانچھ سال مکمل کر تے ہیں۔ یہ سیاسی مداری عوام کو جھانسا دینے کے بعد اگلے الیکشن کے لیے تسبیح پکڑے یا کسی پیر کے مزار پر حاضری دیتے نظر آتے ہیں۔بلدیاتی انتخابات سے سیاسی مقابلے کی فضاء پیدا ہو تی ہے جو جمہوریت کا حسن اور خاصہ ہے۔ بلدیاتی انتخابات حکومت کے لیے ایک سگنل کا کام کرتے ہیں ۔

جس کے زریعے انہیں عوامی ترجیحات کا اندازہ ہو تا ہے اور حکومت عوامی ترجیحات کے مطابق اپنا لائحہ عمل طے کر تی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے زریعے عوام حکومتی فیصلوں میں برابرکی حصہ دار ہو تی ہے جو حکومت کے لیے کباب میں ہڈی کی مانند ہے۔بلدیاتی انتخابات موروثی، سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ اور آستانہ سیاست سے جان چھڑانے کا اہم زریعے اور ہتھیار ہیں اور یہ بھٹو، میاں، چوہدری، اور پیرپرستوں کو ہضم نہیں ہو تا کہ ان کے علاوہ کوئی سیاست میں قدم رکھے۔کچھ افراد کی حکومت، کچھ افراد کے لیے حکومت اور کچھ افراد کے زریعے حکومت کا یہ نظام باشعور نوجوانوں کے لیے اب قابل قبول نہیں ہے۔ بلدیاتی ادارے تو جمہوری سکولوں کی حیثیت رکھتے ہیں جہاں پر جموری اسباق سکھائے جا تے ہیں مگر آزاد کشمیر میں راجہ جی نے ایم ایل اے کے لیے میٹرک کی شرط بھی ختم کر دی ہے۔

آزادکشمیر حکومت نے غیر قانوی اور غیر آئینی طریقے سے بلدیاتی نظام کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 اور1995 میں تبدیلی کر کے مقامی حکومتوں کے اختیارات کو ہتھیا لیا گیاہے۔ اس ترمیم کے زریعے ضلع کونسل،مقامی کونسل اور میونسپل کونسل کارپوریشن جن کو آئینی تحفظ حاصل تھا معذور بنادیا گیا ہے۔ آزادحکومت نے سیکشن 24-A میں ترمیم کے زریعے ایک لوکل گورنمنٹ ترقیاتی کونسل کا قیام عمل میں لایاجو وزیراعظم، ضلع کونسل کے ممبران اور ضلع کونسل چئیر مین اور دیگر شامل ہیں۔مگر بدقسمتی سے 1996میں ایک نوٹیفیکیشن کے زریعے ایک کوآرڈینیشن کونسل قائم کی گئی اور ترقیاتی کونسل کے اختیارات کوآرڈی نیشن کونسل کو منتقل کر دیے گے جو وزیراعظم، وزیر لوکل گورنمنٹ اور چیئرمین پر مشتمل ہے۔ ظلم عظیم دیکھیں آزادکشمیر میں 1995 سے کوئی چیئرمین ہی موجود نہیں ہے۔حکومت کی جانب سے ایسے غیرآئینی اقدامات عوام کے بنیادی حقوق کے منافی اور متصادم ہیں اورشہریوں کے آئینی حقوق پر قبضہ کے مترادف ہیں۔جب قانون بنانے والے ہی قانوں اڑانے والے بن جائیں تو کس سے شکوہ کریں۔1995 کا بلدیاتی ایکٹ اور 1996کا نوٹیفیکیشن دونوں آئینی حدود سے تجاوز اور علاقائی اختیارات کی بے جا خلاف ورزی ہے۔اس ایکٹ اور نوٹیفیکیشن کے زریعے حکومت مہاجر نشستوں پرپاکستان میں منتخب ہو نے والے ایم ایل ایز کو فنڈز فراہم کر تی ہے جو کہ پاکستانی فیڈریشن میں موجود ہیں۔ حکومت آزاد کشمیر آئینی اور قانونی لحاظ سے ایسا کرنے کی مجاذ نہیں ہے۔پاکستان میں مقیم مہاجرین خیموں کے بجائے گھروں میں مقیم ہیں اور انہیں تمام تر سہولیات حکومت پاکستان کی جانب سے دستیاب ہیں۔

پاکستان میں مقیم مہاجرین آزادکشمیر میں ٹیکس ادا نہیں کر تے۔ حکومت آزادکشمیر نے ایک غیر آئینی اور غیر قانونی کوآرڈی نیشن کونسل قائم کی جو کسی ایگزیکٹیو اختیار یا نظام کے بغیرآزادکشمیر کی غریب عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ پاکستانی فیڈریشن میں اپنی ذاتی تسکین، اقتدار کے نشے میں ذاتی مفادات کے لیے2006سے خرچ کر رہی ہے۔حکومت آزادکشمیر نے بلدیاتی انتخابات کروانے کے بجائے ضلعی انتظامیہ، ضلعی کونسل، میونسپل کارپوریشن اور ٹاون کمیٹیوں کے ختیارات کو روندتے ہوئے اسے موم کی ناک بنا کر رکھ دیا ہے۔ 13ویں ترمیم اور 6اکتوبر 2020 کا نوٹیفیکیشن ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ پاکستان میں صوبائی حکومتیں اور آزادکشمیر میں کوآرڈی نیشن کونسل ترقیاتی فنڈز کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان فنڈز کا زیادہ تر حصہ اپنی سیاسی کمپین پر خرچہ کیا جا نا ہے۔ حکومتی مشنری بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر آئین و قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔