July 6, 2022

بہاولپور میں اجنبی

مصنف: مظہراقبال مظہر /// تبصرہ نگار : ڈاکٹر محمد صغیر خان

جی ہاں یہ قطرے میں دجلہ نہیں تو اختصار میں استناد کی بہترین کاوش ضرور ہے۔  مظہر کا اظہار بہت کچھ کا مظہر ہے۔ ان دیکھی حقیقتوں کا مظاہر اور کچھ ناآسودہ خواہشوں کا مزار بھی۔ مختصر سفر، محدود قیام اور منتشر سی معلومات کی بنیاد پر ایک خوبصورت تخلیق کے تانے بانے اس مہارت سے بننا کہ “کمی پرتی” کا احساس ہی نہ ہونے پائے۔ یقیناًہنر و مہارت کا کام ہے ، جسے مظہر نے نہایت دیانت سے یوں کیا ہے کہ جزو میں کل اپنی بہت سی تفصیلات کے ساتھ سمٹ آیا ہے۔” بہاولپور میں اجنبی ” ایک سفرنامہ بھی ہے اور “یادنگاری” بھی ۔زمینی سفر میں مسافر ایک تاریخی وباطنی پینڈے کو یوں کاٹ واپس آتا ہے کہ وہ بہت کچھ پاتا بھی ہے اور اک “احساسِ ضیاع” اسے سب کچھ کھونے کی وہ کتھا سنا دیتا ہے جو بہت سے بوجوہ سننا کہنا ہی نہیں چاہتے۔

مظہر یا مسافر۔۔۔۔۔۔ جی ہاںمسافر یا مظہر۔۔۔۔ “اپنا بندہ” کہلانے کے لیے جس درد بھرے سفر، بے انت تھکان اور بے سمت مسافرت کا شکار بلکہ شاہکار ہے وہ سب آنے والےصفحات پر رقم بلکہ  ” مصور” ہے۔ اپنی مسافرت  و ہجرت کا درد کہتے  اگر لکھتا ہے کہ  ” اگر کوئی دعویٰ کرے  کہ میں کشمیری ہوں تو لوگ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کون سا والا کشمیر ی ہے ” ۔۔۔۔ “اندرون و بیرون ملک ہم جہاں بھی جاتے ہیں شناخت  کا عمل  ہمیں خواہ مخواہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔۔۔۔ شناختی کارڈ ہولڈر اس شناختی دستاویز میں اور کبھی اپنے چہرے میں کشمیریت نہیں تو کم ازکم قومیت ضرور ڈھونڈنے لگتا ہے۔”  ذرا آگے بڑھیں تو وہ کہتا ہے کہ  ” سابق ریاست جموں و کشمیر کے تمام حصے جن کا انتظام و انصرام اس وقت بھارت، پاکستان اور چین کے پاس ہے ان میں کئی زبانیں بولنے والے مختلف نسلوں و قبیلوں کے لوگ آباد ہیں اور وہ بیک وقت کئی شناختی حوالے رکھتے ہیں جو سبھی منفرد ہیں”۔

اپنی بے حد منفرد بات کہتے ہوئے مظہر جب یہ اظہار کرتا ہے کہ ” میری یہ آڑھی ترچھی لکیریں ان سب لوگوں کے نام ہیں جو میری طرح کسی نہ کسی قسم کے شناختی سفر پر ہیں یا مقام ہجرت میں مکین بن کر بھی زما ں ومکاں کی ہجرت سے آگے کے سفر پر ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو وطن میں ہوتے ہوئے بھی بے وطن ہیں۔ جن کا کوئی وطن نہیں اور ایسے بھی جو بے وطنی میں بھی وطن کو اوڑھ کے سوتے ہیں”۔ تو سچ یہ ہے کہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے  “بندہ”  اپنا  ” پھندہ” جان پہچان چکا ہے۔ اور یہی امر اس کے تحریری عمل کی بنیادی اکائی ہے۔

ذہنی،  روحانی، قلبی و نظری سفر کے بعد اب زمینی سفر کی باری ہے اور اس کا آغاز  ” یہ بہاولپور ہے ” سے ہوتا ہے۔  جی ہاں وہی بہاولپور جس کے لیے وہ کہتا ہے کہ ” بہاولپور یقیناً قدیم اور جدید تہذیبوں کا عکاس ہے” ۔ “بہاولپور دیکھیں مگر کیسے؟” سے ہوتی ہوئی بات ” بہاولپور میں کشمیری طلباء”   تک آتی ہے ، پھر  ” شہرگردی براستہ فرید گیٹ” شروع ہوتی ہے۔ جہاں سے ہم ” اندرون بہاولپور ” پہنچتے ہیں وہاں سے ہم ” ٹانگہ لہور دا نہ جھنگ دا” الاپتے بہاولپور کو دیکھتے جاتے ہیں تو اچانک ہمارے کانوں میں “سرائیکی زبان کی جلترنگ” رس گھولنے لگتی ہے۔  یہاں مصنف کا خیال ہے کہ  ” بہاولپور کی سرائیکی بڑے بوڑھوں کی زبان پر آئے تو اس لہجے کی تاریخ سمیٹے، نوجوانوں کی زبان سے پھسلے تو عشق وسرمستی میں ڈوبے تار چھیڑے ، صنف نازک کے ہونٹوں سے نکلے تو شیرینی و مٹھاس کے سوتے پھوٹنے لگیں، کوچوانوں، ریڑھی والوں اور ٹھیلے والوں کی روز مرہ بول چال میں ٹھٹھے اڑاتی یہ زبان علمی درسگاہوں کی راہداریوں میں سنیں تو کانوں میں جلترنگ سی بج اٹھتی ہے “۔

سرائیکی زبان کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ ” مشہور محقق اور وسط ایشیائی زبانوں کی تاریخ پر عبور رکھنے والے پروفیسر کرسٹوفر شیکل اپنی کتاب  ” سرائیکی زبان اور وسطی پاکستان ” میں لکھتے ہیں کہ لسانی حساب سے سرائیکی سندھی اور پنجابی زبانوں کے بیچ کی ایک زبان ہے۔۔۔۔۔ سرائیکی ہر لحاظ سے اپنا ایک الگ وجود رکھتی ہے “۔

اب ہمارے سامنے مرکزی لائبریری اور میوزیم سے متعلق ضروری تفصیلات ہیں تو ” جامع مسجد الصادق” کے حوالے سے اہم معلومات بھی ۔ اب ہم ” چوک فوارہ ” ہیں اور ” نور محل ” سے جانکاری پاتے ہیں تو پھر ” بہاول وکٹوریہ ہسپتال اور قائد اعظم میڈیکل کالج”  جا نکلتے ہیں۔ ا س کے بعد ” یہ گلیاں یہ چوبارے ” دیکھتے پھرتے  ہم ” ہم کشمیری ناک” سے آگاہی پاتے ہیں جو  دراصل مظہر کے اپنےہونے کا اظہار بھی ہے۔

” ایہڈا نواب ” کے دیباچے سے ہم  “نواب آف بہاولپور ” تک پہنچتے ہیں۔ اس کے بعد ہمارے سامنے ” بہاولپور کا تہذیبی ورثہ” ہے۔ اب  “مسئلہ شناخت کا”  آ جاتا ہے۔ جس کے آغاز میں کہا جا رہا ہے کہ ” بات قوموں اور خطوں کی جداگانہ سیاسی حیثیت کی ہو تو ایک کشمیری ذہن گھوم پھر کر واپس جموں و کشمیر کے خطے پر جا ٹھہرتا ہے۔ گویا پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، بہاولپور اور جموں وکشمیر کی تاریخ مختلف ہو سکتی ہے مگر یہ طے ہے کہ موجودہ صدی میں دونوں ہی خطے اپنی شناخت کے مسئلے سے دو چار ہیں”۔

مسافر کہتا ہے کہ ” خطہ جموں و کشمیر  کے باسی جس صبحِ نو کے خواب صدیوں سے دیکھ رہے ہیں اس کا انتظار طویل ہوتا جارہا ہے”۔ بہاولپور کی کہانی کہتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ” میں نے بہاولپور کے باسیوں کی علیحدہ سیاسی شناخت کے  لیے جدوجہد کی باتیں اسلامیہ یونیورسٹی کے ہاسٹلوں اور سبزہ زاروں میں سنی تھیں۔۔۔ اب یہ بحث مباحثہ سبزہ زاروں اور ہوسٹلوں کے کمروں سے کانفرنس ہالوں اور انتخابی جلسوں تک آگیا ہے” ۔ اب بات صبح صادق سے صبح کاذب تک آپہنچی ہے۔ اس باب میں اہم و معنی خیز مگر مختصر بات ہوئی ہے۔ اب ہم ” مادر علمی جامعہ اسلامیہ بہاولپور” کی جانب جاتے ہیں۔

پھر سرائیکیوں اور کشمیریوں کا مقدر کھولتے پھرولتے ہیں۔ ان صفحات میں دو مظلوم طبقات یا قومیتوں کی محکومی و مظلومی کا تجزیہ بہترین پیرائے میں کیا گیا ہے تو ساتھ ہی سرائیکی شاعر عاشق بزدار اورشاکر شجاع آبادی کو سامنے لایا گیا ہے۔ ازاں بعد بہاولپور کا ” صوفیانہ رنگ” دکھاتے ہوئے ہمیں بغداد الجدید سے ہوکر واپسی کے سفر پر ڈالا گیا ہے۔ زمینی و تاریخی سفر کرتے کرتے ہم اب ” دل مندر” تک آئے ہیں جو عشق کی راہ پر چلنے والے محبوب  الہٰی کی کہانی ہے۔  یہ کہانی خوبصورتی سے بنی چنی اور کہی گئی ہے۔ عشق فرد سے ہو یا مزار سے سبھی اس میں سموئے  ڈھوئے گئے ہیں۔ اب ہم “تھر” میں  ” ایک بوند پانی ” کا قصہ و قضیہ سنتے ہیں جو کرب کا سمندر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

اگر ہم  “بہاولپور میں اجنبی” کے پہلے حصے یعنی “سفرنامے ” کو دیکھیں تو یہ سیدھے سبھاؤ اندر بار کی وہ داستان ہے جو ہزار بار کہہ کر بھی ہنوز ان کہی ہے۔ یہ تخلیق مظلوموں میں فطری تعلق و  اتحاد کا بیانیہ ہے اور سرائیکی وسیب اور ریاست جموں و کشمیر کا نوحہ بھی ۔

مظہر اقبال مظہر کا اسلوب دلنشیں و رواں ہے۔ تحر یر خوبصورت اور سلاست آمیز ہے ، وہ بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں، انہوں نے اختصار کے پیرائے میں تاریخ کے دفتر سمونے کی کامیاب کاوش کی ہے۔ بہاولپور اور کشمیر میں مماثلت کا موضوع بھی نیا ہے تو پہاڑی اور سرائیکی کی مظلومیت کی بات بھی دلنشیں۔ “بہاولپور” آگہی کے لیے یہ سفرنامہ مختصر گائیڈ بُک ہے ۔ کیونکہ بہاولپور مختلف حوالوں سے ایک بسیط موضوع ہے جس کے جن کو ایک بوتل میں بند کرنا یقیناً ممکن  ہی نہیں لیکن اس کے باوجود ایک نووارد یا اجنبی کے لیے شناسائی کے کئی سامان اس میں رکھے دھرے ہیں۔

مظہر کے افسانے بھی موضوعاتی اور سلوبیاتی اعتبار سے اہم ہیں۔ خاص کر سندھ کے غریب  ” تھریوں” کا درد بہت گہرائی اور گیرائی رکھتا ہے۔

اختصار سے کہا جا سکتا ہے کہ “بہاولپور میں اجنبی ” اس خوبصورت دھرتی سے تعلق و شناسائی کی ایک کلید ہے جو مجھ کم فہم کی سوچ میں ” بڑے کام کی چیز” ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave your comment !

Close