بہادر علی میر  21  نومبر  1900  شہر پو نچھ    جموں و کشمیر  میں  پیدا ہوئے ان کے دادا کا نام رستم علی میر تھا جو پہلے دروغہ پو نچھ تھے انہوں نے وی ۔جے   اسٹیٹ ہائی  اسکول پو نچھ شہر سے یکم اگست انیس 1921 میں میٹرک پاس کیا اور اسی سکول میں 18 سال تک پڑھایا ۔ 1923  میں ملتان تشریف لے گئے  اور ایجوکیشن کورس کیا اور ایس اے وی کا ڈپلومہ ملا ۔ 1927  میں یونیورسٹی آف  پنجاب لاہور  سے ایف اے پاس کیا اور 11  جنوری 1943 میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے بی اے پاس کیا -1943 سے 1948 تک ضلع پونچھ کے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹرز .رہے ۔  قیام پاکستان کے بعد راولاکوٹ میں پہلے ڈسٹرکٹ انسپیکٹرز پو نچھ سکولز مقرر ہوئے گورنمنٹ ہائی سکول راولاکوٹ _ پلندری اور  ہجیرہ  میں  بطور ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے اور  درس و تدریس انجام دیتے رہے  

انیس سو چھپن میں   محکمہ تعلیم آزاد کشمیر سے  ریٹائرڈ ہوئے اور راولپنڈی میں رہائش اختیار کی۔ اور ماڈل  ہائی اسکول صدر راولپنڈی  پاکستان میں اور فیض السلام ہائی سکول یتیم خانہ  راولپنڈی میں  علم کی روشنی بکھیرتے رہے آخری سروس یتیم خانہ  انجمن  حمایت الاسلام ملتان روڈ لاہور میں  سپرنٹنڈنٹ   مقرر ہوئے ۔ ان کے شاگردوں میں سردار محمد ابراہیم خان صدر آزاد کشمیر  مرحوم  اور  جسٹس محمد اقبال محتسب اعلی پاکستان تھے  چھ اور سات ستمبر  1959 کی درمیانی شب کو حضرو ضلع اٹک میں وفات پائی ان کی تدفین بھی وہاں ہوئی اللہ تعالی نے ان کو سات بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائے- بڑے بھائی میجر ظفر علی میر ۔ شوکت علی میر ۔محمد علی مسعود ۔خالد محمود میر اور دو بہنیں  وفات پا گئے ہیں طارق محمود میر ۔میر سلیم بابر اور محمد نعیم میر حیات ہیں ۔ 

ہزاروں سال نرگس اپنی بہ  نوری پہ روتی ہے 

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا


(یہ تعارف جناب طارق علی میر نے لکھا ہے )