عزیز احمد رضوی

عزیز احمد رضوی ایک باصلاحیت قلم کار، متحرک سماجی کارکن اور طالبعلم رہنما تھے- وہ اسلام پسند نوجوانوں کی تنظیم انجمن طلباء  اسلام کے آزادکشمیر  زون کے مرکزی رہنما  بھی تھے –  

وہ ایک میگزین خوشبو انٹرنیشنل کے ایڈیٹر بھی رہے – وہ متعدد سماجی اداروں کے ساتھ وابستہ ہو کر دُکھی انسانیت کی خدمت کرتے رہے -وہ پریس فار پیس ٹیم کی سرپرستی اور معاونت اور سرپرستی بھی کرتے رہے – انھوں نے کنٹرول لائین کے علاقوں کے مسائل کو اجاگر کیا -دو ہزار چودہ کو ایک ٹریفک حادثے میں شدید ذخمی ہو کر اللہ کو پیارے ہو گئے -راولاکوٹ کی ایک مقامی شاہراہ کا نام بھی ان کی یاد میں رکھا گیا ہے –


عزیز احمد رضوی اور پریس فار پیس کے بانی ظفر اقبال مستحق بچوں کے ایک تعلیمی ادارے کا دورہ کر رہے ہیں – 

میگزین خوشبو انٹرنیشنل

 عزیزاحمد رضوی دوسروں کی نظر میں

ملنا اور بچھڑنا ناگزیر ہے زندگی اسی دکھ سکھ کی دھوپ چھاﺅں سے عبارت ہے بچھڑنے والوں کی باتیں اور یادیں سانسوں کی ڈوری کے ساتھ بندھی ہوتی ہیں ذرا کسی نے ذکر چھیڑا تو پھر ان یادوں سے شرابور ہونے میں ذرا دیر نہیں لگتی،دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے بچھڑنے کے غم میں دل بے ساختہ تڑپ اٹھتاہے۔ جن لوگوں کے جانے کی عمر تھی، انھیں تو جانا ہی تھا لیکن جن کی رخصتی اللہ قادرِمطلق کے حکم سے عین جوانی میں ہوئی ان کے بچھڑنے کاغم بیقرار کیے رکھتا ہے۔ 

برادر عزیز احمد رضوی عزیزِ جہاں تھے لیکن یہ جہاں انھیں عزیز نہ تھا۔ ” اللہ تعالی انھیں اپنی جوارِ رحمت میں رکھے” ان کو اس دنیا کے آب و گل سے سوئے عدم روانہ ہوئے کئی سال بیت چلے

کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن 

صداتو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی

Leave your comment !