تبصرہ کتاب و تعارف مصنّف : پروفیسر محمد ایاز کیانی

جاوید خان سے میرا کافی دیرینہ تعلق ہے ۔ مگر اس سے قبل یہ ملاقاتیں بے ترتیب تھیں ۔ ان میں قدرے باقاعدگی 2015 کے بعد آئی ۔ جب میرا اسلامیہ کالج کھڑک آنا جانا شروع ہوا۔ جہاں میری بیٹی زیر تعلیم تھی۔

آج سے تین سال قبل پاک چائنا فرینڈشپ  سینٹر اسلام آباد میں کتاب میلہ شروع ہوا تو جاوید خان کا فون آیا کہ اس بک فئیر میں چلنا چاہیے۔ ان کی تحریک پر میرا بھی پروگرام بن گیا ۔جاوید اسوقت ریڈفانڈیشن کالج میں پڑھاتے تھے۔

پروفیسر محمد ایاز کیانی

کتابوں کی خریداری کے بعد جب ہم ایکسپوسینٹرسے باہر آئےتو جاوید خان کے ہاتھ میں کتابوں کے دوبھاری بھرکم کتابوں کے شاپرتھے۔ راستے میں زیادہ تفصیل سے بات چیت کاموقع ملا۔

جاوید نے بتایا کہ اسے مطالعےکا بہت شوق ہے۔ مگر وسائل ہمیشہ آڑے آتے ہیں۔ اس دوران یہ دلچسپ اور حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ جاوید اپنے کھانے پینے اور دیگر اخراجات میں کٹ لگا کر اور دوستوں سے ادھار پیسے پکڑ کر کتابوں کی خریداری کے لئے اسباب مہیا کرتاہے۔

اس کے بعد ہماری تواتر کے ساتھ ملاقاتیں ہونے لگیں ۔ جن میں علمی وادبی موضوعات پر گفتگو ہوتی۔۔ کبھی کبھی ہمارے مشترکہ دوست پروفیسر ذوالفقار احمد ساحر بھی ہمارے ساتھ ہوتے۔ اور ہمیں پروفیسر صاحب سے اکتساب فیض کے مواقع میسر ہوتے۔

اس دوران جاوید نے پرل ویو میں کالم نگاری شروع کر دی۔ اور یوں جاوید کے کالمز بھی ہماری ملاقاتوں کے موضوعات بھی ہوتے۔۔آہستہ آہستہ اس جوان کی صلاحیتوں کی تہیں کھلتی چلی گئیں۔

راولاکوٹ کے مغرب میں واقع خوب صورت وادی سون ٹوپہ سے تعلق رکھنے والے جاوید خان نامور کشمیری صحافی ارشاد محمود کے گرائیں ہیں۔

اس دور میں جب جوانوں کی دوڑ دھوپ شاہانہ طرز زندگی اچھی نوکری٫ اچھاگھر’اچھی گاڑی اور نت نئے ماڈلز کے موبائل فونز کے گردگھومتی ہے۔ جاوید خان نے علم وادب اور کتابوں سے تعلق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھاہے۔ جاوید خان میں خلوص ،محبت ،ایثاراور مودت جیسے دیگر محاسن بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اپنے ہم عصر دیگر لکھاریوں پر اس لحاظ سے فوقیت رکھتے ہیں کہ انھیں اپنا قد کاٹھ بڑھانےکے لئے دوسروں کو نیچا دکھانے کی قطعی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

ایک جینوین ادیب کا یہ امتیازی وصف ہوتا ہے کہ وہ ظرف کے اعتبار سے بڑا ہوتا ہے۔ وہ خلوص کا پیکر ہوتا ہے ۔ وہ دوسروں سے اکتساب فیض تو ضرور کرتاہے ۔ مگر ان کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ لافانی اور جغرافیائی حدود سے ماوراء ہو تا ہے۔ بہت کم لوگ اس کڑے معیار پر پورا اترتے ہیں۔

مالی دشواریوں کے باوجود “عظیم ہمالیہ کے حضور” جاوید خان کا پہلا سفرنامہ ضرور ہے۔ مگر میرایہ گمان ہے کہ یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ جاوید خان کا سفر بہت آگے کا ہے۔

عظیم ہمالیہ کے حضور ، جاوید خان

اور وہ ادب کے میدان میں ہماری دھرتی کا ایک نہایت اجلا اور نکھرا تعارف ہوگا ۔

عظیم ہمالیہ میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو جاوید خان کو آسمان ادب کا ایک دمکتا ستارہ بنائےگا۔ ہمارے ہاں پڑھنے پڑھانے اور مطالعے کا رجحان ہر گزرتے دن کے ساتھ معدوم ہوتاجا رہاہے ۔

سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا چینلز نے اس پر جلتی پر تیل کا کام کیاہے۔ پبلک لائبریریوں کا وجود اب قصہ ماضی ہے۔ کالجز اور سکولزکی لائبریریاں بھی اب ختم ہوتی جارہی ہیں۔

راولاکوٹ شہر دیکھتے ہی دیکھتے بلند وبالا عمارتوں،بڑے بڑے شاپنگ پلازوں ،ہاوسنگ سکیموں کے لامتنائی سلسلوں کا شکار ہوگیا۔ مگرایک بھی پبلک لائبریری کا نہ ہونا ہماری علم دوستی پر سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے نظام تعلیم میں مطالعہ کا کتنا عمل دخل ہے ۔

یہ بھی اب کوئی سر بستہ راز نہیں ہے۔ مطالعے کی اہمیت و افادیت کو بہت پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات میں ہزار سے زائد نمبرز لینے والے طلبہ و طالبات نے شاہد ہی کبھی نصاب سے ہٹ کر کسی کتاب کا مطالعہ کیا ہو۔

کسی دور میں علماء اور اساتذہ پڑھتے تھے اب ان طبقات نے بھی پڑھنے پڑھانے کے عمل کو طاق نسیاں کی زینت بنا رکھا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جیتنے اخبارات اور کتابیں چھپتی ہیں۔ ہمارے ہاں اس کا تصور بھی محال ہے۔ کتابوں کی اشاعت تشویش ناک حد تک کم ہے۔ ان حالات میں جاوید خان کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں۔

عظیم ہمالیہ کے حضور” کے مطالعے کے دوران جو چیز زیادہ شدت کے ساتھ آپ کی توجہ کھینچتی ہے ۔ وہ جاوید خان کی فطرت پرستی ہے۔ میرے ہمدم اور دوست پروفیسر عتیق احمد نے جاوید خان کو وادئ پرل کا ورڈزورتھ کہاہے۔ تو اس میں کوئی کلام نہیں۔ جاوید خان فطرت اور اس کے مظاہر کا پجاری ہے۔فطرت نگاری بہت سے شعراء اور ادیبوں کی امتیازی پہچان ہے۔

جاوید خان قدرتی آبشاروں،جھیلوں ،چاندنی راتوں،ابھرتےاور ڈوبتے سورج کی قہرستانیوں کا شیدائی ہے۔ اسے پرندوں جانوروں اور سے عشق اور جنون ہے۔ وہ چلتے چلتے ان مناظر میں کھو جاتا ہے۔

اس پر دیوانگی کی کیفیت اس پر طاری ہو جاتی ہے۔ جاوید ان قدرتی مناظراوران مناظر کے خلاق اور تخلیق کار کی خلاقیوں میں ڈوب ڈوب جاتاہے۔ یہی وجہ ہے اسے دیگر ہم سفروں کی ڈانٹ ڈپٹ بھی کھانی پڑتی ہے۔

ہم جیسے سطعی نظریں رکھنے والے سیاح جاوید خان کے اندر برپا کشمکش تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ ہم چیزوں کو ان کے ظاہر کے حوالے سے دیکھنے کے عادی ہیں ۔

جاوید وطن عزیز میں معاشی عدم مساوات پر بھی خوب کڑھتاہے۔ کہ کس طرح بڑے بڑے ٹھیکدار اور سرمایہ دار غریب محنت کشوں کے خون پسینے کی کمائی اور محنت کو اپنی چالاکیوں اور عیاریوں سے سمیٹ لیتے ہیں۔

کھیتوں میں اپنی محنت اور خون پسینہ بہانے والے غریب محنت کش کی محنت پر شہروں میں بڑے بڑے محلات اور پلازے تعمیر ہوتے ہیں۔

ملٹی نیشنل کمپنیوں کی چیرادستیوں اورمظالم کا نوحہ بھی جاوید کے ہاں اکثر ملتاہے۔یہ جملہ ملاحظہ ہو۔

“باقی سیر گاہوں کی طرح دیوسائی کی سیرگاہ میں بھی آلودہ دودھ کی چائے بک رہی ہے، حالانکہ یہاں کی ہر چیز خالص ہے۔ یہاں کی گھاس پھوس کسی مصنوعی چیز کی عادی نہیں ، مگر حیرت ہے کہ یہاں بھی” اولپر دودھ” کی چائے ملتی ہے”

جنگلی حیات بالخصوص نابود ہوتی جانوروں کی نایاب نسل کے جانوروں کے بے تحاشا شکار پر بھی اپنے کرب کا اظہار کرتے ہیں”۔مارخور ،مشک نامہ کے شکار کا سرکاری لائسنس 80 سے 90 لاکھ  روپے میں جاری کیا جاتاہے۔”

وطن عزیز میں قانون صرف کمزور اور بے بس طبقے کے لیے بروئے کار آتاہے۔اس حوالے سے جاوید اپنا دکھ ان الفاظ میں بیان کرتاہے

“جب جنگلات کی ایک چیک پوسٹ پر ایک اکیلا پولیس والا عام گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پولیس کے ہوٹر بجاتی گاڑی کو بھی روک کر اس کی تلاشی لیتاہے۔”اپنی اس گزری زندگی میں یہ پہلا موقع تھاکہ جب ایک کمزور انسان کو قانون کے بل بوتے پر اس قدر بہادر پایا اس پر میرے اور میرے دوستوں کے ہاتھ خودبخود سیلوٹ کے لئے اٹھ گئے”

جاوید کی تحریر میں میں مزاح کی چاشنی کے ساتھ زندگی کے تلخ تجربات اور سنگینیوں کی جھلک بھی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایک موقع پر فلسفہ زندگی کو یوں قلمبند کرتے ہیں۔”بیاڑ کے چیدہ چیدہ درخت پہاڑوں پر کھڑے تھے اور کچھ نیچے ندی کنارے ،ایک آسان سی چڑھائی شروع ہو گئی تھی زندگی کے ہر سفر میں چڑھائی اور اترائی اپنے تضاد کے ساتھ ہمیشہ راستے میں کھڑی رہتی ہے”

وطن عزیز میں تفرقہ بازی اور نفرتوں کی فصل بونے والوں پر جاوید کے اندردکھ اور کرب کی کسک ان جملوں میں واضح ہے۔

“ان وادیوں میں جہاں کبھی شاہ ہمدان نے من کی دنیاؤں میں جو پھول دار بوٹے لگائے تھے اب وہاں مسلکی جھاڑ جھنکار أگ آئے ہیں تو کیا کوئی پھلڈ (flood)پھر اپنی مرضی کا نقشہ ترتیب دینا چاہتا ہے قراقرم یونیورسٹی کی ایک طلبہ تنظیم کا نام لے کر شکوہ کیا کہ وہ فرقہ واریت میں سرگرم ہے”

ان چیدہ چیدہ مواقعوں کے علاؤہ بھی کتاب میں بیسیوں جگہ جاوید کے اندر کا حساس ادیب کھل کر سامنے آتا ہے کہیں دبے الفاظ میں اور کہیں اعلانیہ اپنے دکھ اور کرب کو بیان کرتا ہے۔

شعراء اور ادیب ہمیشہ سے ہی مالی تنگدستیوں اور ناآسودگیوں کا شکار رہے ہیں ۔آسودہ لوگ خال خال ہی ادب کا  رخ کرتے ہیں۔جاوید بھی اپنی محرومیوں اور زمانے کی چیرادستیوں کاکبھی کبھی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔صحت کے مسائل بھی زندگی کی گہما گہمی اور کشا کش سے پوری طرح لطف اندوز ہونے میں حائل رہتے ہیں مگر استقامت اور پامردی سے اسکا مقابلہ کرتےمعلوم ہوتےہیں البتہ کہیں کہیں صبر کا دامن چھوٹنے لگتاہے۔

پاکستان کے شمالی علاقوں بالخصوص اور بالعموم پورے پاکستان اور کشمیر کو اللہ پاک نے قدرتی حسن اور رعنائیوں سے نوازنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔اس حوالے سے ملک کے کئی نامور قلم کاروں نے خوب صورت سفرنامےتحریر کیے ۔جاوید کا سفرنامہ “عظیم ہمالیہ کے حضور”ان میں ایک باوقار اضافہ ہے۔میری دعاہے کہ اللہ پاک جاوید کے راستے میں تمام تر مشکلات کاتدارک کرے اور ادب کا یہ خدمت گار اس میدان میں اپنی کاوشوں کا سلسلہ تادیر جاری وساری رکھے۔آمین 

(نوٹ) “عظیم ہمالیہ کے حضور” پر یہ تبصرہ اس سفرنامے کی اشاعت کے فوری بعد لکھا گیا مگر باوجوہ اس کو کمپوز کروانے میں تاخیر ہوئی۔الحمدللہ جاوید کے سفرنامے کو حیرت انگیز پزیرائی ملی۔حال ہی میں جاویدکےسفرنامے کو انجمن ترقی پسند مصنفین کی طرف سے سال کے بہترین سفرنامے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔۔۔۔