اعزاز کیانی

انتہا پسندی ہمارا عام سماجی رویہ بن چکا ہے. یہ رویہ کوئی دو چار افراد کا یا کسی ایک شعبہ حیات میں نہیں ہے بلکہ یہ ہماری اکثریت کاعام رویہ ہے اورقریب قریب ہرشعبہ حیات میں  ہے. مذہبی معاملات ہوں , سیاسی مسائل ہوں , علمی مباحث ہوں یا سماجی نزاعات ہوں اس رویہ کا اظہار ہر جگہ موجود ہے.

میرے نزدیک اس انتہاپسندانہ رویہ کی دو اساسی وجوہات ہیں. وجہ اول عدم تربیت اور وجہ ثانی انسان کا داخلی اصلاحی نظام کا تعطل ہے . انسان کا جب اس دنیا میں اس ظہور ہوتا ہے تو ایک مدت تک اسے باقاعدہ تعلیم و تربیت کی احتیاج ہوتی ہے اور اسکے بعد ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ انسان کا داخلی اصلاحی نظام متحرک ہوتا ہے. اب انسان کا واسطہ نئے علوم ,نئی چیزوں اور اپنے گرد وپیش سے پڑتا ہے, وہ نئے علوم حاصل کرتا ہے نئی نئی چیزیں سیکھتا اور اس سب کے ساتھ وہ خود اپنی شخصیت سنوارتا رہتا ہے اور آپ اپنی کردار سازی کرتا رہتا ہے.

ہمارے ہاں اس وقت تربیت کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں ہے, نہ گھر میں, نہ اسکول و کالج میں, نہ کسی جامع و مدرسہ میں اور نہ سماج میں کوئی ایسی کوئی تنظیم و سیاسی جماعت  موجود ہے. کسی معاشرے میں تعلیم و تربیت کے یہی بنیادی مراکز و مراجع ہوا کرتے ہیں جو معاشرے کو اچھے و باشعور افراد فراہم کرتے ہیں. یہ انکی مجرد اخلاقی  ذمے داری ہی نہیں بلکہ فرائض منصبی میں ایک جلی فرض ہے.

ہمارے معاشرے میں ان مذکورہ بالا مراکز میں کسی بھی سطح پر اخلاقیات آداب معاشرت و آداب اختلاف نہیں سیکھائے جاتے ہیں. ایک معاشرے میں ہمارا کردار کیا ہو, ہم دوسرے افراد سے معاملات کیسے کریں, اختلافی مسائل میں ہمارا رویہ کیسا ہو, شخصی وقار کیا ہے اور کیسے بلند کیا جائے, ہمارے قول و فعل میں تضاد نہ ہو, وغیرہ پرسرے سے توجہ ہی نہیں دی جاتی ہے.

اس پر مستزاد المیہ یہ ہے کہ  ہمارے ہاں اس وقت جو لوگ مصلحین و معلمین اور واعظین کے مناصب و مساند پر فائز ہیں انکی اکثریت خود اسی مذکوہ بالا صورت کے مراکز سے نکلے ہوئے لوگوں کی  ہے چنانچہ  اخلاقی انحطاط اور انتہا پسندی انکی نظر میں اتنا بڑا سماجی مسئلہ ہی نہیں ہے.

انسان زندگی کے دوسرے مرحلے میں انسان کا باطنی اصلاحی نظام فعال و متحرک ہوتا ہے اور اب انسان خود آپ اپنا معلم و مصلح ہوتا ہے. 

اس داخلی خود اصلاحی نظام کے مختلف ذرائع ہیں. ان ذرائع میں ایک بنیادی اور پہلا ذریعہ انسان کا سماج کے ساتھ رابطہ ہے. انسان کا جب سماج کے ساتھ یا باالفاظ دیگر سماج کے افراد کے ساتھ رابطہ و اختلاط ہوتا ہے تو انسان مختلف افراد کے اطوار و عادات, انکے سلیقے و طریقے اور انکی شخصیت و کردار کو دیکھتا ہے تو ان سے اثر قبول کرتا ہے اور اس اثر نتیجے میں اسکی شخصیت میں ایک فطری تبدل رونما ہوتا ہے. 

لیکن جب پورا معاشرے کی ایک ہی ہئیت ہو یا پورا معاشرے ایک سانچے میں تیار ہوا ہو اور اکثریت ایک رجحان پر جامع ہو جائے تو انسان اپنے موجودہ رویے پر جاذم ہو جاتا اور اسکا ضمیر بھی اب اسے متنبع نہیں کرتا ہے. 

انسان ضمیر دراصل سماجی ضوابط  اور رویات سے تخلیق پاتا ہے. سید ابو اعلی المودودی تشکیل ضمیر پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ضمیر انسان کی جماعت کے خیالات, عقائد اور رسوم سے پیدا ہوتا ہے.  وہ مختلف فلاسفہ مثلاً بریڈلے, مل اور ہئیگل وغیرہ کے حوالے کے بعد مزید لکھتے ہیں :  پس معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا ضمیر اپنی قوم اور جماعت کے نظام اخلاق سے وابسطہ ہوتا ہے.

داخلی اصلاحی نظام کا دوسرا ذریعہ کتاب ہے. مختلف تفکرات و خیالات پر مبنی کتب  نہ صرف انسانی علم میں اضافے کا سبب ہیں بلکہ انسان کے قلب و دماغ میں وسعت پیدا کرتی ہیں. کتب بینی کا ایک اضافہ فائدہ یہ کہ یہ انسان کی استدلای قوت اور اسکے اسلوب ابلاغ کو ترقی دیتی ہیں.

ہمارے ہاں کتب بینی اب عام رواج نہیں رہا اور اگر موجود بھی تو ہے  عموماً اپنی فکر یا اپنے ہی مسلک و فرقے کی کتب تک محدود ہے.  اس خلا کو سوشل میڈیا کچھ حد تک پُر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن ہمارے غیر علمی رویے کی بدولت یہاں سے بھی اصلاح یا تربیت کا کوئی نمایاں کام نہیں ہو سکا.   اس رویے نے ہمجں سوشل میڈیا پھر بھی اپنے ہی حلقے تک محدود کر دیا ہے. مستقلاً ہم خیال لوگوں کی صحبت نہ صرف مختلف آراء سے دور کردیتی ہے بلکہ انسان ستائش و تائید کا عادی ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں انسانی رویے  ایک طرح کی انتہا پسندی پیدا ہو جاتی ہے.

اس مذذکورہ بالا پورے عمل کے نتیجے میں جو فرد تیار ہوتا ہے اور جو معاشرہ وجود میں آتا ہے انتہا پسندی اسکا فطری رویہ ہوتا ہے اور اس معاشرے کی بابت بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے

اس رویہ کے سدباب کے لیے اولاً تو ان مذکورہ بالا مراکز کو فعال و متحرک کرنے کی ضرورت ہے اور دوم ہر انسان کو چاہئیے کہ وہ ہمہ وقت خود احتسابی کرتا رہے اور اپنے شخصیت کا موازانہ گرد و پیش کے افراد و احباب کے بجائے مسلمہ اخلاقی اصولوں سے کرتا رہے اور جو جہاں اسقام پائے ان کی اصلاح کرے. یہ خود احتسابی بجائے خود داخلی اصلاحی کا مستقل ذریعہ ہے

‘ سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے’.

اس رویہ کے سدباب کے لیے اولاً تو ان مذکورہ بالا مراکز کو فعال و متحرک کرنے کی ضرورت ہے اور دوم ہر انسان کو چاہئیے کہ وہ ہمہ وقت خود احتسابی کرتا رہے اور اپنے شخصیت کا موازانہ گرد و پیش کے افراد و احباب کے بجائے مسلمہ اخلاقی اصولوں سے کرتا رہے اور جو جہاں اسقام پائے ان کی اصلاح کرے. یہ خود احتسابی بجائے خود داخلی اصلاحی کا مستقل ذریعہ ہے