عائشہ جمشید 

عائشہ جمشید لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لکھاریہ ہیں ۔وہ ایم اے پولیٹیکل سائنس کی طالبہ ہیں ۔ انہوں نے لکھنے کا آغاز “الشرق” اخبار میں بچوں کے صفحے پر لکھنے سے کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کالج میگزین “النور” میں بطور اسسٹینٹ ایڈیٹر کام کیا۔ اسی دوران اردو لٹریچر کی طالبہ ہونے کی حیثیت سے گیارہویں اور بارہویں جماعت کے نصاب کی معروضی سوالات پر مبنی کتابیں مرتب کیں۔ جس کے بعد   ماہنامہ پھول میگزین میں آرٹیکل لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ماہنامہ پھول میگزین میں ہر ماہ ہونے والے عالمی دن پر کالم لکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوائے وقت کے فیملی میگزین اور ندائے ملت میں بھی مضامین شائع ہوئے۔ صحافت میں گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے اسپورٹس جرنلزم  میں قدم رکھا اور ہفت روزہ “اسپورٹس لنک” کے ساتھ منسلک ہوئیں ۔ جس میں ” پلئر آف دی ویک” کے نام سے آرٹیکل لکھے۔ اسی دوران ان کی تیسری کتاب ” شاہد آفریدی عہد ساز کھلاڑی” شائع ہوئی۔ ساتھ ساتھ مختلف کھلاڑیوں کے انٹرویو، تقاریب کی رپورٹس اور کالم لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ 2020 میں عائشہ جمشید کی چوتھی کتاب ” مودبانہ گذارش” شائع ہوئی۔ جو معاشرے میں موجود مسائل کے حل کی جانب توجہ دلانے کی ایک کوشش ہے۔

انہوں نے مختلف تحریری مقابلوں میں کئی ایوارڈ حاصل کیے ہیں جن میں  چار ایوارڈ برائے مضمون نویسی ،

ایوارڈ برائے حسن کارکردگی پاکستان رائٹرز ونگ کی جانب سے،

تین ایوارڈ قومی کانفرنس برائے ادبی اطفال کی جانب سے،ایک ایوارڈ کشمیر کانفرنس یوتھ فارم فار کشمیر کی جانب سے ایک ایوارڈ برائے ڈپٹی ہیڈ پبلیکیشن یوتھ جنرل اسمبلی کی جانب سے حاصل کیا۔تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں ۔ مختلف تنظیموں کے لیے پریس ریلیز لکھنے، انگریزی سے اردو تراجم کرنے کے ساتھ ساتھ عائشہ کی پانچویں کتاب شائع ہونے کے مراحل میں ہے جس میں کشمیریوں کے جذبہ آزادی اور کشمیر کے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ  پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے وہ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھانا چاہتی ہیں کیونکہ انفرادی طور بہتر ہو کر ہی مجموعی طور پر بہتری لائی جا سکتی ہے۔

Leave your comment !