کتاب :شعور عصر
مصنف : اکرم سہیل
تبصر ہ نگار : پروفیسر محمد ایاز کیانی
قدرت اللہ شہاب اگر “شہاب نامہ” نہ لکھتے تو شاید وہ بھی بیشتر دیگر بیوروکریٹس کی طرح گوشہء گمنامی میں ہی رہتےاور لاکھوں کی تعداد میں لوگ انھیں مستند حوالے کے طور پر نہ جان رہے ہوتے۔مشتاق یوسفی پیشے کے طور پر ایک بنکار تھے مگر آج لوگ انھیں ایک بنکار کے طور پر نہیں مگر ایک عظیم مزاج نگار کے طور پر جانتے ہیں۔۔
اکرم سہیل آزاد کشمیر کے ایک معروف بیوروکریٹ ہیں۔اپنی ملازمت کے دوران مختلف محکموں میں خدمات سر انجام دیتےرہے۔وزیراعظم کے ساتھ بطور پرنسپل سیکرٹری بھی کام کیا۔۔آج کل پبلک سروس کمیشن کے ساتھ بطور ممبر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔وطن عزیز میں عسکری آفیسران اور بیورو کیٹس جنھیں ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ کے ناموں سے جاناجاتاہے کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے اور ملک کی خدمت کے لئے تازیست “دستیاب” ہوتے ہیں۔۔۔۔(خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا)
اکرم سہیل صاحب ملازمت سے سبکدوشی کے بعد سوشل میڈیا کے محاذ پر کافی سرگرم ہیں اس وسیلے سے گاہے بگاہے آپ کے نقطہء نظر سے آگاہی حاصل ہوتی رہتی ہے۔۔۔اس سال کے شروع میں آپ کی تصنیف    “شعورعصر” منصہ شہود پر آئی تو جناب نے کمال محبت سے ہمارے کالج کی لائبریری کے لیے بھی ایک نسخہ ارسال کیا جو میرے ہاتھ لگ گیا۔۔آج کل کے مشینی دور میں لائبریری وہ واحد جگہ ہے جہاں سکوت ہی سکوت ہوتاہےآپ کا اگر کتاب پڑھنے کا ارادہ بن جائے تو باضابطہ تالہ کھلوانا پڑتاہے۔۔
تو جناب اس سال یوم آزادی اور اس سے پیوستہ دن “شعور عصر” کے نام رہا۔۔شعور عصر مصنف کے محتلف قومی اخبارات میں شائع شدہ کالموں کے علاؤہ ان کے چند افسانوں اور آخر میں تین چار اصحاب کے مصنف کے بارے میں لکھے گئے چند مضامین اور مختلف سمینارز میں مصنف کے پڑھے گئے مضامین پر مشتمل ہے۔۔
جوں جوں کتاب کے صفحات پڑھتا گیامصنف کے خیالات اور نصب العین سے آگہی ہوتی گئی۔یہ بات خوش گوار حیرت کا باعث تھی کہ ایک بیوروکریٹ حالات کی ستم ظریفی پر نوحہ کناں ہے تب کھلاکہ علامہ جواد جعفری نے یہ کیوں کر کہاکہ “موصوف ہمیشہ زور آور قوتوں سے برسرپیکار رہےاورحسب روایت اس کا خمیازہ بھی بھگتا”تو صاحبو اکرم سہیل ایک محب وطن درد دل رکھنے والے اور وطن کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ پر مسلسل آزردہ رہنے والی بےچین روح ہیں۔وطن کے بدن پر لگی آگ کو بجھانے کے لئے اپنے حصے کا کردار بھی اداکر رہے ہیں اور لشکر ابرہہ پر کنکریاں پھینکنے کا فریضہ بھی اداکر رہے ہیں۔اپنے اشعار کے ذریعے جہاں اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں وہیں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے رہبروں کے روپ میں رہزنوں کے چہروں کی کی نقاب کشائی بھی کر رہے ہیں۔قومی خزانے کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنے پر مسلسل آہ و بکا بھی کرتے ہیں اور صدائے احتجاج بھی بلند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔بلوچستان کی سرزمین کے اندر چھپے سونے کے ذخائر اور آزاد کشمیر میں ہائیڈل کے منصوبوں میں اربوں کھربوں کے گھپلوں پرفریاد کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔وطن کے اندر ہونے والی لوٹ کھسوٹ پر ہر درد دل رکھنے والے محب وطن کی طرح آپ کا دل بھی خون کے آنسو روتاہےمگر آپ صرف آنسو ہی نہیں بہاتے بلکہ پرنٹ میڈیا اور مختلف سمینارز کے ذریعے اس ڈاکہ زنی پر ارباب بست و کشاد کو جھنجھوڑنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔
جاگیر دارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام پرہزاربار لعنت بھی بھیجتے ہیں کہ اس نظام کے کارپردازان نےاس ملک کا خون نچوڑ کر رکھ دیا ہے ان کی سوچ اپنے مفادات سے آگے دیکھنے سے عاری ہے۔ہمارے بطن سے جنم لینے والے بنگلہ دیش میں اس طرح کی سوچ نہ ہونے کی وجہ سے وہ آج بہت سے شعبوں میں ہم سے آگے ہیں۔مگر یہاں سیاسی پارٹیوں کے نام پر ڈکیت گروپ موجود ہیں جن میں جمہوریت نام کی کوئی شئے موجود نہیں ہے چند خاندانوں کے گرد ساری سیاسی پارٹیاں گھوم رہی ہیں عوام کی حثیت بھیڑ بکریوں کے ریوڑ سے زیادہ نہیں ہے۔یہ جاگیر دار اور وڈیرے موسموں کی طرح رنگ بدلتے ہیں جب ایک پارٹی کی حکومت ختم ہونے لگتی ہے تو یہ دوسری حکومت میں آنے والی میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔دولت کے بل بوتے پر سیاست ہوتی ہے جو جتنا انویسٹ کرتا ہے اس سے چار گنا کماتا ہے۔سول اور ملٹری بیوروکریسی کے بھی اپنے مفادات ہوتےہیں براہ راست مفادات حاصل نہ ہونے کی صورت میں یہ پس پردہ رہ کرسیاسی حکومتوں سے اپنے مفادات بہرصورت حاصل کرکے رہتے ہیں ملک کی کسی کو پروا نہیں ہے ہر کوئی اپناالو سیدھا کرنے کے درپے رہتا ہے۔ہر حکومت ناکامی کا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو جاتی ہے ملک ایک طویل عرصے سے وینٹی لیٹر پر ہے۔قرضوں کا بوجھ ہر گزرتے دن کے ساتھ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے جبکہ چند لوگوں کی دولت میں دن دگنا رات چگنا اضافہ ہو رہا ہے۔بلاتخصیص احتساب محض نعرہ ہے ہر حکومت اپنے اندر چھپی کالی بھیڑوں کو چھوڑ کر باقیوں کے احتساب کا صرف ڈھونگ رچاتی ہے حقیقی احتساب اگر فی الواقعی ہوتا ملکی ذخائر میں اضافہ ہو۔لوٹئ ہوئی دولت قومی خزانے میں جمع ہو۔ملک دیوالیہ نہ ہو۔غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں گروی نہ ہونا پڑے۔مگر صد افسوس کہ ملک ہر گزرتے دن کے ساتھ قرضوں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہےاور اگر خدا خواستہ یہ صورت حال چند سال مزید جاری رہتی ہے تو ملک کی بقاء داؤ پر لگ جائے گی۔
اکرم سہیل اپنے اس کرب کا اظہار اپنی تصنیف میں ایک مقام پر یوں کرتے ہیں”عربی مقولہ ہے العوام کالانعام یعنی عوام محض ڈھورڈنگر ہیں یا فوجی زبان میں بلڈی سویلین کہلاتے ہیں پاکستان کے لوگوں کے حقوق غصب کیےگئےمشرقی پاکستان کے لوگ جن میں سیاسی شعور زیادہ تھا انھوں نے آمریت کے خلاف بغاوت کرکے اپنا چولہا الگ کر لیالفظ عوام اشرافیہ کے آرام میں شدید خلل کا باعث بنتا ہے اور اس کے مفادات شدید خطرات میں رہتے ہیں”
اس مختصر مضمون میں مصنف کی طویل تصنیف پر تبصرہ ممکن نہیں صرف چیدہ چیدہ نکات کو ہی زیر بحث لا کر اپنی بات کو سمیٹنا جائے گا۔آپ کے اندر مزاح کی حس بھی پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے اور مختلف موقعوں پر مزاح کے پیرائے میں اپنے حدف کو ٹھیک ٹھیک نشانے پر رکھتے ہیں۔اس کی ایک جھلک بے نظیر بھٹو کی تقریر کا ایک مسودہ۔۔میں بخوبی ملاحظہ کی جا سکتی ہے
وطن کی مٹی اور اس کا درد بھی آپ کا رومان ہے۔کتاب کے کشمیریات کے حصے میں اپنے اس دردکا اظہار مختلف موقعوں پر کھل کر کرتے ہیں اہل کشمیر صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جھکڑے ہوئے ہیں اپنے ایک مضمون میں یوں رقمطراز ہیں۔”قائد اعظم نے جب کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھاتواس زیرک اور دانا رہنما کے ذہن میں یہ بات ضرور موجود ہوئی ہو گی کہ جغرافیائی اور اسلامی رشتوں کے علاؤہ جب تک کشمیر کے پہاڑوں پر سے برف نہ پگھلے گی پاکستان میں ماؤں کے سینے میں دودھ نہیں اترسکے گا۔یہی وہ لازم و ملزوم حقائق ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان اور کشمیر یک جان دوجسم ہیں کشمیر کے پانی کے ایک ایک قطرے پر بھارت کی نظر ہے جبکہ ہم صرف اخبارات میں بیانات چھپوا کر خوش ہو جاتے ہیں”
ملک میں توانائی کا کس قدر بحران ہے۔یہ بحران ملک کی صنعتوں کی چمنیاں بجھارہاہے۔۔۔ہمارے ملک میں ہائیڈل کے شعبے میں کس قدر پوٹینشل موجود ہے اس حوالے سے ایک جگہ مصنف یوں لکھتے ہیں۔
“پبلک سیکٹر میں ہائیڈل پراجیکٹس مکمل ہونے کے تین سے پانچ سال کے اندر اپنی لاگت پوری کر لیتے ہیں اور پھر بجلی دو سے تین روپے یونٹ اور بعض صورتوں میں دس پیسے فی یونٹ یعنی تقریباً مفت دستیاب ہوتی ہے لیکن آزاد کشمیر میں اس وقت ہائیڈل جنریشن کے لئے جو پالیسی نافذہے اس کے تحت آزاد کشمیر کے تمام دریاؤں پر پی پی آئی بی حکومت پاکستان کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے بجلی کی خریداری کے لیے واپڈا نے جو فارمولا اختیار کیا ہے اس کے مطابق ہائیڈل پراجیکٹس پچیس سال تک پرائیویٹ کمپنیوں کی ملکیت میں رئیں گے یہ کمپنیاں اوسطاً پانچ ارب کی سرمایہ کاری کر کے پچاس ارب روپے کمائیں گی”ایک اور جگہ دل کے پھپھولے یوں پھوٹتے ہیں..
آزاد کشمیر کے لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ آزاد کشمیر کے قومی وسائل پر آزاد کشمیر برائے فروخت کا بورڈ لگا چکا ہے”
ایک اور جگہ پہ اپنے درد و الم کو ان الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں۔
“آزاد کشمیر جو تقریباً تیرا ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہےیہاں پر کوئی جاگیرداری سسٹم یاجدید صنعتی غلامی کی کوئی شکل موجود نہیں لیکن یہاں قبیلائی تعصب دنیا میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے حالانکہ شرح خواندگی اور معاشی حالات خطے کے بہت سے ملکوں سے بہتر ہیں”
وطن میں عدالتی نظام میں پائے جانے والے سقم پر بھی اپنے دکھ کا اظہارِ کرتے ہوتے کہتے ہیں کہ یہاں انصاف بھی مخصوص لوگوں کے لئے ہے اور ہر کسی کو انصاف کی سہولت دستیاب نہیں ۔ملک کی سب سے بڑی عدالت کی بیٹی کے میڈیکل کالج میں داخلہ کے حوالے سے ہونے والے خاص انصاف پر اپنے دکھ کا اظہار اپنے ایک افسانے میں کرتے ہیں۔موصوف خود شاعر بھی ہیں اور اقبالیات بھی آپ کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔ ہر حساس اور درد مند وطن پرست  کی طرح ملک کی حالت زار پر سخت رنجیدہ بھی ہوتے ہیں۔اپنے مافی الضمیر کا اظہار مختلف فورمز پر کرتے ہیں۔موصوف کی ساری باتوں کلی اتفاق نہ ہونے کے باوجود یہ بات کہنے میں مجھے کوئی جھجھک نہیں کہ آپ ایک معتبر بیوروکریٹ نیک نام اور درد مند دل رکھنے والے ادیب شاعر اور کالم نگار ہیں جو وطن سے عشق کرتا ہے۔وطن کی حالت زار پر مضطرب بھی ہیں اور اس اضطراب کا اظہار اپنی تخلیقات کے ذریعے کر کے مٹی کا قرض بھی چکا رہے ہیں۔میری دعاہے کہ اس عرض پاک میں حقیقی آزادی کا سورج طلوع ہو اؤر ہم عرض پاک کو دنیا میں باوقار حیثیت کے حامل ملک کے طور پر دیکھ سکیں۔کاسہ گدائی ٹوٹے ظلم کے اندھیرے چھٹیں ۔عوام اور اشرافیہ کے مفادات ایک ہوں اور ایک پاکستان ہم سب کی امیدوں کا مرکز ہو اور کشمیر ایک باوقار پاکستان کا باوقار حصہ ہو۔۔