تحریر۔۔۔غلام زادہ نعمان صابری
ایڈیٹر ماہنامہ کرن کرن روشنی
بچوں کا ادب کی معروف ادیبہ و شاعرہ محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کی ادبی خدمات کے حوالے سے خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے پریس فار پیس فاؤنڈیشن نے  قذافی اسٹیڈیم کے پنجابی کمپلیکس میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔پریس فار پیس فاؤنڈیشن  اس حوالے سے مبارک باد کی مستحق ہے کہ سات سمندر پار سے آ کر بچوں کا ادب کی معروف ادیبہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ حالاں کہ پاکستان میں بچوں کے ادب کے حوالے سے بہت سی ادبی تنظیمات کام کر رہی ہیں۔
اس تقریب کا مقصد  پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تحریری مقابلے “تسنیم جعفری میری نظر میں” پوزیشن لینے والے لکھاریوں کو ایوارڈ اور اسناد سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کی شخصیت پر بہت سے مضامین لکھے جا رہیں اور آئندہ بھی لکھے جاتے رہیں گے ۔ محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کی ادبی خدمات کو یونیورسٹیوں کی سطح تک بھی سراہا جا رہا ہے۔
 علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں زیر تعلیم  ایک طالبہ نے اپنا تحقیقی و تنقیدی مقالہ برائے ایم فل اردو بہ عنوان ” تسنیم جعفری کی ادبی خدمات ” مکمل کرلیا ہے ۔ اس مقالے میں ان کی شخصیت اور ادبی کارناموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
 پریس فار پیس فاونڈیشن نے بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کی شخصیت اور ادبی کارناموں کے حوالے سے تحریری مقابلہ منعقد کرایا جس سے ان کی شخصیت کے بہت سے مخفی پہلو نمایاں ہوئے۔ اس تقریب کے لئے ہال کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا جس کے لئے ساری تیاری محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ نے خود کی تھی جس سے ان کی فنی مہارت کا بھی پتہ چلتا ہے ،تقریب کا وقت ڈھائی بجے کا تھا مگر بارش کے سبب تقریب دیر سے شروع ہوئی۔مہمانوں کی آمد بارش کی طرح وقفے وقفے سے جاری رہی۔ بہت سے خواتین و حضرات شریک تھے۔
محترمہ شاہین اشرف علی صاحبہ اس پر وقار تقریب کی چیف گیسٹ تھیں جو ایک سینئیر شاعرہ ،ادیبہ، سفر نامہ نگار  اور جرنلسٹ ہین،35 سال تک کویت مین ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی کرتی رہیں ہیں ،ان کے علاوہ ایڈیٹر ماہنامہ پھول محترم محمد شعیب مرزا صاحب، مدیر اعلیٰ بچوں کا پرستان محترم امان اللہ نیر شوکت صاحب، سائنسی بابو محترم ڈاکٹر طارق ریاض صاحب ، محترم اسعد نقوی صاحب،محترم وسیم عالم صاحب، محترمہ ڈاکٹر فضلیت بانو صاحبہ، محترمہ شمیم عارف صاحبہ، محترمہ صفیہ ہارون صاحبہ،ماہنامہ پھول کی سب ایڈیٹر محترمہ تہذین طاہر صاحبہ، مضمون نگار محترمہ عائشہ جمشید صاحبہ، سفر نامہ نگار محترمہ تابندہ ضیا صاحبہ، فیملی میگزین کی ڈپٹی ایڈیٹر محترمہ غلام زہرہ صاحبہ اوربچوں کی سینیئر ادیبہ محترمہ عالیہ بخاری ہالہ صاحبہ   قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ پریس فار پیس کے خصوصی نمائندہ محترم سرفراز صاحب بھی موجود تھے جنہوں نے تقریب کی لائیو کوریج کی۔
پروگرام کو ہوسٹ پریس فار پیس کی نمائندہ اور رضا کار فلک ناز نور صاحبہ نے کیا جو ایک یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں ۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ تحریری مقابلے میں اول دوم سوم آنے والی لکھاریوں کو سٹیج پر بلا کر نہایت عزت و احترام سے بٹھایا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تمام انعام یافتگان کا تعلق صنف نازک سے تھا، محترم انصار احمد معروفی صاحب جن کو نظم لکھنے پر خصوصی شیلڈ دی گئی ان کا تعلق انڈیا سے ہے۔
یہ منظر میں نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ انعام یافتہ لکھاریوں کو مہمان خصوصی کے طور اسٹیج پر بٹھایا گیا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خواجہ ظفر اقبال صاحب کو ادب سے دلی لگاؤ ہے اور وہ ادیبوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔مقررین کو باری باری اسٹیج پر بلایا جاتا رہا اور ساتھ ساتھ ایوارڈ کی تقسیم بھی جاری رہی۔اول انعام  محترمہ قراۃ العین عینی صاحبہ نے حاصل کیا جو ایک ذہین باصلاحیت قلم کار ہیں اور انگریزی ادب میں ایم فل ہیں ان کی مختلف رسائل و اخبارات میں کہانیاں اور کالم شائع ہوتے رہتے ہیں۔

 دوم انعام محترمہ سیدہ عطرت بتول نقوی صاحبہ نے حاصل کیا۔ یہ ایک معروف کہانی کار اور ناول نگار ہیں۔دوم انعام محترمہ فوزیہ تاج صاحبہ کے حصے میں آیا۔یہ نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اعلیٰ پولیس آفیسر ہیں۔ یاد رہے کہ دوسرا انعام دو انعام یافتگان کو دیا گیاتیسرا انعام محترمہ نصرت نسیم صاحبہ کو دیا گیا۔ انہوں نے ایم اے اردو اور ایم اے اسلامیات کیا ہوا ہے اور سیاست سے بھی دلچسپی رکھتی ہیں کئی مرتبہ کونسلر منتخب ہو چکی ہیں۔
تیسرا انعام محترمہ منزہ اکرم صاحبہ کو ملا۔ یہ بھی اعلی تعلیم یافتہ ہیں ایم اے انگلش ہیں اور بچوں کے لئے کہانیاں لکھتی ہیں۔ دوسری پوزیشن کی طرح تیسری پوزیشن کے لئے بھی دوانعامات رکھے گئے تھے۔چوتھے انعام کی حقدار محترمہ فریدہ گوہر صاحبہ قرار پائیں جو شاعرہ اور ادیبہ ہیں ۔بچوں کے لئے کہانیاں لکھتی ہیں بچوں کے لئے ایک پیارا سا کردار ٹوٹو متعارف کرا رکھا ہے۔
چوتھا انعام رفعت امان اللہ صاحبہ کو ملا جنہوں نے تاریخ اور جغرافیہ میں گریجویشن کی ہوئی ہے اور شعبہ تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں۔دوم سوم کی طرح چوتھا انعام بھی دو پوزیشن ہولڈرز کو دیا گیا۔
محترم انصار احمد معروفی صاحب کو شاعری پر خصوصی انعام دیا گیا۔
اس تقریب میں محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کو پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی طرف سے خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔



شعیب مرزا اور شاہین اشرف علی محترمہ تسنیم جعفری کو پریس فار پیس کی طرف سے ایوار ڈ دے رہے ہیں

شاہین اشرف علی ایوار ڈ وصول کر رہی ہیں 

عطرت بتول نقوی ڈاکٹر فضیلت بانو سے  ایوارڈ وصول کر رہی ہیں

قرات العین عینی نے  ڈاکٹر فضیلت بانو سے پہلی پوزیشن کا ایوار ڈ وصول کیا 

بچوں کے ادب میں خدمات پر  شعیب مرزا نے خصوصی ایوارڈ وصول کیا

منزہ اکرم  ڈاکٹر فضیلت بانو سے تیسری پوزیشن کا ایوار ڈ وصول کر رہی ہیں 

غلام زادہ نعمان صابری ایڈیٹر کرن کرن روشنی  شاہین اشرف علی سے سرٹیفکیٹ وصول کر رہے ہیں 




ایمان فاطمہ شاہین اشرف علی سے سرٹیفکیٹ وصول کر رہی ہیں 

مقابلے میں حصہ لینے والے لکھاری
ملک اور بیرون ملک سےمقابلے میں حصہ لینے والے لکھاریوں میں
محترمہ شمیم عارف صاحبہ– لاہور / اسلام آباد
محترمہ قراۃالعین  عینی صاحبہ- فیصل آباد،‎محترمہ ایمان فاطمہ صاحبہ،لاہور، محترمہ نصرت  نسیم صاحبہ -رسالپور
محترمہ شازیہ رانا صاحبہ لاہور،
محترمہ تنزیلہ احمد صاحبہ اوکارہ
محترمہ صائمہ سید صاحبہ، کراچی ،محترمہ منر ہ اکرم صاحبہ – لاہور
محترم عارف مجید عارف صاحب- حیدر آباد ،محترمہ رفعت امان اللہ صاحبہ،  فیصل اباد محترمہ فریدہ گوہر صاحبہ -ملتان محترمہ  شازیہ ستار نایاب صاحبہ – لاہور، محترم عدیل اخون زادہ صاحبہ -مانسہرہ محترمہ فوزیہ تاج صاحبہ ، ایبٹ آباد ،‎محترمہ روزینہ زرنش بٹ صاحبہ، محترمہ رخشندہ بیگ صاحبہ،کراچی، محترم ذولفقار علی بخاری صاحب– راولپنڈی محترم شبیر ڈار صاحب-باغ آزاد کشمیر
محترمہ عطرت بتول نقوی صاحبہ۔ لاہور،ضلع اٹک سےجناب محترم حسن اختر صاحب، غلام زادہ نعمان صابری، لاہور، محترم رمضان شاکر صاحب۔پاکپتن محترمہ نرجس سید صاحبہ،لاہور، محترم اکمل معروف صاحب – حیدر آباد‎ محترم انصار احمد معروفی صاحب۔ انڈیا
محترم مصطفی توحید صاحب-فیصل آباد ،محترمہ جویریہ خان صاحبہ میانوالی شامل تھے۔
مقررین نے خوبصورت الفاظ و بیان میں محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ ایک معروف کہانی کار اور مصنفہ ہی نہیں بلکہ ایک صاحب ذوق علم دوست اور کتاب دوست شخصیت بھی ہیں- بچوں کے ادب سے انہیں جنون کی حد تک عشق ہے۔ موجودہ دور میں ایک کتاب چھپوانا معنی رکھتا ہے اس مشکل دور میں انہوں نے بچوں کے لئے پندرہ بہترین کتابیں چھپوا کر بچوں کے ادب سے عملی ثبوت پیش کیا ہے۔ مقررین نے ان کی مختلف کتب کے حوالے سے بھی باتیں کیں اور کہانیوں کے معیار کو بھی قابل تعریف قرار دیا۔

محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کی تصانیف
قارئین کی دلچسپی کے لئے محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کی تصانیف کے نام مندرجہ ذیل ہیں
۔ماحول سے دوستی کیجئے
۔مریخ سے ایک پیغام
۔لڑکیوں کی الف لیلی
۔بچوں کی الف لیلی
۔پریوں کی الف لیلی
۔جانوروں کی الف لیلی
۔ میرے وطن کی یہ بیٹیاں
۔ لے سانس بھی آہستہ
۔مریخ کے مسافر
۔روبوٹ بوبی
۔ پیوستہ رہ شجر سے
۔تھانگ شہزادی کی کہانی
۔مخلص دوست
۔زندگی خوبصورت ہے
۔چھوٹو میاں
تقریب کے اختتام پر شرکاء کی چائے فروٹ اور بیکری سے تواضع کی گئی اور یوں یہ پروقار اور خوبصورت تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

One thought on “پریس فارپیس فاؤنڈیشن کی ادبی ایوراڈ ز تقریب”
  1. محترم غلام نعمان زادہ صابری صاحب مدیر کرن کرن روشنی۔ تسلیم
    محترمہ تسنیم جعفری کی شخصیت پر نثر اور نظم میں تحریری مقابلے کے انعقاد اور انعام کی تقسیم کے سلسلے کی مکمل رپورٹ آج بحمداللہ پڑھنے کو ملی۔ حالانکہ اس سے پہلے دو اور تحریر اس تعلق سے فیس بک پر پڑھی۔ جس میں بارش کے دوران پہنچنے اور کسی نہ کسی طرح پروگرام میں شرکت اور پروگرام کی چند جھلکیوں سے متعلق روشنی ڈالی گئی تھی، جسے پڑھ کر خوشی ہوئی۔ پھر بھی مکمل تفصیل کے لیے تشنگی باقی تھی۔ تمنا تھی کہ کوئی صاحب اس تشنگی کو دور کرتے۔ اور پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ہونے والے اس مقابلے کی پوری تفصیل ذکر کرتے۔ حالانکہ بعد میں اس کی ویڈیو بھی دیکھی۔ مگر اس میں آواز ناصاف تھی۔
    آج صابری صاحب کے اس تفصیلی مضمون نے تمام تشنگی دور کردی۔ اور ان کی تحریر سے پوری تصویر واضح طور پر ابھر کر سامنے آگئی۔ اس قدر عمدہ رپورٹنگ پر غلام نعمان صاحب کو بہت بہت مبارک باد۔
    اس میں انھوں نے ساری وضاحت فرمادی کہ محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کا ادب اطفال اور سائنس نگاری میں کیا مقام ہے؟ ان کا اختصاصی موضوع کیا ہے؟ اور تصنیفات کتنی اور کون کون سی ہیں۔؟ عصری جامعات میں ان پر کیا کیا کام ہو رہے ہیں۔ نیز محترمہ جعفری صاحبہ اردو زبان کے فروغ کے لیے کتنی محنتیں کررہی ہیں؟ اور نئے لکھنے والوں کی کتنی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔
    صابری صاحب کے مضمون سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کتنے قلمکاروں نے اس میں حصہ لیا۔ اور ان کے اسماۓ گرامی کیا کیا ہیں۔۔ نیز ان میں کتنے لوگ انعام کے حقدار قرار دئیے گئے۔ ان میں خواتین کی تعداد کتنی ہے؟
    اس طرح کا مضمون یقیناً کوئی مدیر ہی قلمبند کرسکتا ہے۔ جس کی تمام پہلوؤں پر نظر رہتی ہے۔ تاکہ پروگرام میں شریک نہ ہونے والے اس تحریر کو پڑھ کر اس بزم کا خود کو حصہ سمجھنے لگیں۔ اور مضمون پڑھ کر ادبی سیاحت کے لطف سے سرشار ہوجائیں۔
    صابری صاحب کو بہت بہت مبارک باد۔ مجھے اس طرح کی تحریر کا اس لیے بھی انتظار تھا کہ مجھے یعنی انصار احمد معروفی کو شاعری مقابلے کے لیے خصوصی انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا۔ الله تعالٰی کا شکر ہے کہ اس نے میری تحریر کو اس قابل بنادیا کہ اسے انعام کا مستحق سمجھا جائے۔ میں پریس فار پیس فاؤنڈیشن کا بہت بہت شکر گزار ہوں کہ اس کے ذریعے مجھے بھی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اور محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ نے لکھا کہ آپ کا انعام ہمارے پاس بطور

Leave your comment !