پروفیسر محمد ایاز کیانی

‎پریس فار پیس  فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام آزاد کشمیر کے ضلع باغ کی یونین کونسل ناڑ شیر علی خان کے مرکزی مقام “لوہار بیلہ” کے مقام پر ایک پروقار تقریب” تقسیم انعامات” کا انعقاد کیا گیا.اس تنظیم کا قیام 1999 میں مظفرآباد کے مقام پر عمل میں آیا۔اس   پہلے اس تنظیم کا دائرہ کار محدود تھا مگر 2005 کے زلزلے میں میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر  میں تاریخ کا بدترین ذلزلہ آیا۔اس سانحے میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے اور کئی لاکھ لوگ معذور اور بے گھر ہو گئے ایک بدترین انسانی المیے نے جنم لیا یہاں تک کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو کہنا پڑا  کہ “میں قبرستان کا وزیراعظم  ہو ں”۔

‎اس موقع پر جہاں اہلیان  پاکستان نے اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے ایثار و قربانی کی تابندہ مثالیں قائم کیں وہیں پر کوٹلی، میرپور اور اورسیز پاکستانیوں نے بھی اپنے بھائیوں کی امداد کے لیے  لازوال کردار ادا کیا۔اس موقع پر کئی ملکی اور  غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ساتھ “پریس فار پیس “نے بھی  اپنے کارکنوں کی قیادت میں مظفرآباد،باغ اور دیگر علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں میں زبردست خدمات سرانجام دیں۔۔اس کے بعد بانی ظفر اقبال برٹش کونسل کے سکالرشپ پر برطانیہ چلے گئے اور وہاں پر تدریس کے شعبے سے منسلک ہوگئے۔ کچھ عرصہ کے بعد اس تنظیم نے پریس فار پیس فاؤنڈیشن برطانیہ کا روپ دھار کر نئے انداز میں ادبی سرگرمیوں اور رفاعی کاموں کا آغاز کردیا۔

‎پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی ریجنل کوآرڈینیٹر محترمہ روبینہ ناز نے بتایا کہ پریس فار پیس آزاد کشمیر کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں اپنے فلاحی منصوبوں کے ذریعے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کا پروگرام رکھتی ہے۔پہلے مرحلے میں آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے علاقے” لوہار بیلہ” کوماڈل ویلیج کے لیے منتخب کیا گیا ہے..اس علاقے میں تنظیم کا دفتر قائم کرکے خواتین کے لیے سلائی کڑھائی کاایک مرکز بھی کھولا گیا ہے تاکہ خواتین کو نہ صرف ہنر مند بنایا جائے بلکہ ان کو خودکفیل بنا کر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا بھی منصوبہ تنظیم کے ایجنڈے میں شامل ہے۔تاکہ وہ معاشرے پر بوجھ بننے کی بجائے مردوں کے شانہ بشانہ علاقے اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔

تنظیم کے عہدے داران کے مطابق اب تک تین سو خواتین ٹریننگ مکمل کر چکی ہیں۔اس پروگرام کو کامیابی سے چلانے میں روبینہ ناز کا کلیدی کردار ہے۔جن کی انتھک محنت سے یہ ادارہ تیزی سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہے۔اس کے علاؤہ غریب اور مستحق طالب علموں کے لیے ملک کے مخیر حضرات کے تعاون سے ایک سکالرشپ پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔لوگ اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے اس کارخیر میں حصہ لے سکتے ہیں۔

‎لوہار بیلہ چاروں طرف سے بلند وبالا پہاڑوں سے ڈھکا  ایک خوبصورت گاؤں ہے۔۔ گاوں کے ایک طرف ایک خوبصورت نالا بھی بہہ رہا ہے۔دیار کے درختوں سے ڈھکی بلند وبالا پہاڑی ڈھلوانیں سبز قالین پہنے نہایت دیدہ زیب اور دلفریب منظر پیش کر رہی ہیں۔یہ ایک نہایت خوبصورت گاؤں ہے اور یہاں آکر سیاح راستے کی تھکاوٹ بھول جاتے ہیں۔سیاحت کے ساتھ ساتھ علاقے کی ثقافت  کا فروغ بھی تنظیم کے مقاصد میں شامل ہے۔یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں اور آج بھی خلوص و محبت یہاں کے لوگوں کی روایت میں شامل ہے۔قدرتی غذائیں لسی،کڑی،ساگ اور مکئی کی روٹی آج بھی یہاں کے لوگوں کی عمومی غذا ہے۔زیادہ تر لوگ مال مویشی پالتے ہیں اور زمینیں آج بھی آباد ہیں۔

‎تقریب کی صدارت علاقے کی معروف سیاسی وسماجی شخصیت سردار محمد یونس نے کی جب مہمان خصوصی جامعہ پونچھ کی شعبہ سوشیالوجی کی پروفیسر محترمہ نگہت یونس تھیں۔جب کہ مقریرین میں سردار محمد یونس خان،پروفیسر نگہت یونس،پروفیسر محمد ایاز کیانی،محمد جاوید خان،روبینہ ناز،راجہ محمد سعید،ثمینہ چوہدری،پروفیسر اصبانثار،فرید ماگرے،ولید یاسین،کامران نسیم،محسن شفیق،آصف سدوزئی،اور دیگر شامل تھے۔

‎مقریرین نے تنظیم کے کام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور توقع کا اظہار کیا کہ یہ تنظیم۔ علاقے کی ترقی کے لیے اپنی بے لوث خدمات جاری و ساری رکھے گی اور آہستہ آہستہ اس کا دائرہ کار دیگر پسماندہ علاقوں تک بڑھائے گی۔۔۔

‎چونکہ بدقسمتی سے ہماری حکومتوں کے پاس پسماندہ علاقوں کی ترقی کا کوئی مربوط لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔اور وہ محض وقت پاس کرنے، اپنی آسائشوں میں اضافہ کرنے اور مخصوص لوگوں کو ایڈجسٹ کرنے آتے ہیں۔اگر ہماری حکومتیں ملک کی ترقی کے لیے واقعی میں سنجیدہ ہوں تو جیتنا بجٹ ہر سال انھیں ملتا ہیاس کو اگر مساویانہ اور منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے کوئی وجہ نہیں کہ آزاد کشمیر کا یہ چھوٹا سا خطہ چند سالوں میں ترقی یافتہ علاقوں کے برابر نہ ہو سکے۔مگر بدقسمتی سے ان کے پیش نظر ملک کی ترقی کی بجائے ذاتی ترقی اور اثاثوں میں اضافہ زیادہ اہم ہے۔یہی وجہ ہے عوام کی محرومیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔لوگوں کے اندر فریسڑیشن اور بے چینی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔چونکہ وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔انصاف صرف مخصوص لوگوں کے لیے مختص ہے۔اور عام آدمی کی انصاف تک رسائی ممکن نہیں ہے۔۔چھوٹے سے علاقے میں حکومتی وزراء کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی اور انتظامی مشینری کی ایک پوری فوج موجود ہے مگر جرائم ہیں کہ ختم ہونے کی بجائے آئے روز ان میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

‎ان حالات میں عوامی سطح پر شعور اور آگہی کے بغیر ان لوگوں کو راہ راست پر لانا تقریباً ناممکن ہے۔جب تک ہم لوگ ذہنی غلامی سے چھٹکارا حاصل کرکے آزاد سوچ نہیں اپناتے ارباب بست و کشاد یونہی ہمارا استحصال کرتے رئیں گے۔ہم لوگ سالہا سال سے وعدہ فردا کے مکرو فریب کا شکار ہیں۔قومی وسائل پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں مگر مسائل حل ہونے کی بجائے ان میں دن بدن اصافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

‎ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے ان حکمرانوں کا احسان مند ہونے کی بجائے انہیں تفویض کردہ ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے تاکہ ہمارے ٹیکسوں کا پیسہ ہماری فلاح کے کاموں پر خرچ ہو سکے۔

‎ایک مقرر نے کہا کہ رابرٹ موگابے نے کہا تھا”حکمرانوں کا شکریہ ادا کرنا بالکل ایسے ہی ہے جس طرح کوئی شخص اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالنے پر اس کا شکریہ ادا کرے”

‎تقریب کے آخر میں قائد تحریک حریت جناب سید علی گیلانی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave your comment !