باغ 

پریس فار  پیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نوجوان لکھاریوں کے مابین تحریری مقابلے  کے شرکا میں ایوارڈ اور تعلیمی وظائف   کے تقسیم کی تقریب لوہار بیلہ  ناڑ شیر علی خان باغ آزاد کشمیر میں ہوئی -تقریب کی مہمان خصو صی ممتاز علمی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر نگہت یونس تھیں جبکہ صدارت سماجی رہنما سردار یونس خان نے کی – ناڑ شیر علی خاں تحریر ی مقابلے کا مقصد مقامی تاریخ و ثقافت کا فروغ ہے اس مقابلے میں محسن شفیق (مظفرآباد)نے پہلی، پروفیسر محمد  ایاز کیانی (راولاکوٹ)نے دوسری اور مریم جاوید چغتائی (باغ)نے تیسری پوزیشن حاصل کی –  مہمان خصو صی پروفیسر ڈاکٹر نگہت یونس نیتحریری مقابلہ بعنوان ناڑ شیر علی خان   کے شرکا میں ایوارڈز،سرٹیفکیٹ اور کتب اور دیگر انعامات تقسیم کیے – تقریب میں مظفرآباد، راولاکوٹ اور باغ کی نمایاں,سماجی،ادبی اور علمی شخصیات نے شرکت کی –

مقررین نے آزاد کشمیر کے پسماندہ علاقوں کی ترقی، مقامی افراد کو ہنر مند بنانے اور مقامی ادب و ثقافت کی ترویج کے لئے پریس فار پیس فاونڈیشن کی خصوصی سرگرمیوں کو سراہا- تقریب کی میزبانی راجہ سعید الرحمان اور کامران نسیم نے کی -مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر نگہت یونس،  سماجی رہنما سردار یونس خاں، پروفیسر ایاز کیانی، محسن شفیق، معروف نثر نگاراور ایوارڈ یافتہ مصنف جاوید خان(راولاکوٹ)، پراجیکٹ منیجر روبینہ ناز، ثمینہ  چوہدری، معذور افراد کی تنظیم کے نمائندہ آصف سدوزئی ،کامران نسیم،   اصباء نثار لیکچرار پونچھ  یونیورسٹی،ثنا الحق، فرید بیگ، ولید یاسین اور دیگر شامل تھے –

مقررین نے کہا کہ نئی نسل کا رشتہ ثقافت اور روایا ت سے مستحکم کرنے کی ضرررت ہے – – روبینہ ناز نے بتایا کہ ہمارا مقصد نئی نسل کو ہنر مند بنانا ہے – روایتی تعلیم صرف ڈگریوں بانٹ رہی ہے – پروفیسرمحمد  ایاز کیانی نے کہاکہ کتاب اور علم سے رشتہ مضبوط کئے بغیر حقیقی فکری اور سماجی ترقی ممکن نہیں -مہمان خصو صی پروفیسر ڈاکٹر نگہت یونس نے آزاد کشمیر میں سماجی اور علمی شعبے میں پریس فار  پیس فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہا –

مصنف  جاوید خان نے کہا کہ پریس فار  پیس فاؤنڈیشن نے میرٹ پر ایک پسماندہ علاقے کو منتخب کیا ہے اس خطے کے خوب صورت چہرے کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے نوجواں ٹیم کی کاوشوں کو سر اہتے ہیں -مقررین نے پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے کام کو سراہا اورسماجی کام میں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ انھوں نے ظفر اقبال اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی کہ وہ اتنے دور دراز علاقے میں انتہائی اہم کام خدمت خلق کو لے کر آگے  بڑھ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پریس فار  پیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نا ڑشیر علی خان میں سیاحت کے فروغ اور مقامی مسائل اور ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے دو ماہ قبل ایک   تحریری  مقابلے کا انعقاد کیا گیا  تھا جس میں بیس لکھاریوں، شعرا اور نوجوان اہل قلم نے حصہ لیا- اس تقریب میں تمام شرکا میں سرٹیفکٹ تقسیم کئے گئے –

طلبہ و طالبات میں تعلیمی وظائف

اس موقع پرخواجہ محمد شفیع سکالرشپ  پروگرام کے تحت سکولوں کے طلبہ و طالبات میں تعلیمی وظائف بھی دیے  گئے جو مختلف مخیر  حضرات نے مرحوم والدین،  اہل خانہ اور رشتہ داروں کی یاد میں جاری کئے ہیں – ان تعلیمی وظائف میں پروفیسرحیدر حسین میموریل سکالرشپ, محمد جمال دین  میموریل سکالر شپ, محمد حسین اور صغراں بی بی سکالر شپ اور شاہ جہاں بیگم میموریل سکالر شپ شامل ہیں-

مغفرت کیلئے  دعا

پروگرام کے آخر میں کشمیری قائد  سید علی گیلانی اور پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے مرحوم سرپرستوں و رضا کارواں اور   بچوں کے لئے سکارلرشپ دینے والے مخیر حضرات اور ان کے  مرحومین اہل خانہ خواجہ محمد شفیع،پروفیسرحیدر حسین، شاہ جہاں بیگم، محمد جمال دین،, محمد حسین اور صغراں بی بی ، اور شاعر ہ اور ادیبہ فریدہ خانم کے بھائی کی مغفرت کیلئے بھی  دعا کی گئی۔

مہمان خصوصی کو شیلڈ

مہمانوں نے پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے فیلڈ دفتر کا دورہ کیا اور پراجیکٹ میجر روبینہ ناز نے مہمان خصوصی کو شیلڈ پیش کی

Leave your comment !