تحریر: حسیب احمد محبوبی

چند ماہ پہلے انٹرنیٹ پر پاکستان کے خوب صورت ریلوے اسٹیشن تلاش کیے تو انہی میں ایک نام “اٹک خورد” کا بھی تھا۔ تصاویر دیکھیں تو دل چاہا کہ اس مقام پر جایا جائے اور فطرت کے حسیں نظاروں سے لطف لیا جائے۔

آج صبح پکّا ارادہ کر کے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن سے صبح سات بجے چلنے والی “تھل ایکسپریس” پر سوار ہوا اور تقریباً دو گھنٹے کے بعد نو بجے اٹک شہر پہنچ گیا۔ یہاں اتر کے دیکھا تو یہ بالکل مختلف جگہ تھی۔ اُن حسیں نظاروں میں سے تو یہاں ایک بھی نہیں تھا جو میں نے انٹرنیٹ پر موجود تصاویر میں دیکھے تھے۔ وہاں کے عملے سے معلومات لیں تو پتا چلا کہ یہ اٹک شہر ہے اور “اٹک خورد” یہاں سے تقریباً پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

سیانے کہتے ہیں منہ میں زبان اور ٹانگوں میں جان ہو تو کہیں بھی پہنچنا مشکل نہیں۔ لہذا میں بھی زبان کا سہارا لے کر رستہ پوچھتا گیا اور ٹانگوں کے سہارے چلتا ہوا اٹک کے بس اڈّے تک پہنچ گیا۔ یہاں سے گاڑی پہ بیٹھ کر خیرآباد پہنچا اور وہاں سے نظام پور کی گاڑی پر سوار ہو کر سیدھا اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ گیا۔ گاڑی نے مجھے ایک طویل ریلوے پُل کے پاس اتارا اور بتایا کہ اس پُل کے دوسرے کونے پر “اٹک خورد ریلوے اسٹیشن” ہے۔ دائیں بائیں کے حسین نظارے، خوب صورت پہاڑ اور نیچے بہتا ہوا دریائے سندھ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ صحیح جگہ پہنچا ہوں۔

دریائے سندھ پر بنا ہوا یہ طویل پُل پاکستان کے دونوں صوبوں یعنی پنجاب اور خیبرپختون خواہ کو آپس میں ملاتا ہے کیوں کہ “اٹک خورد” پنجاب کی جب کہ “خیرآباد” خیبر پختون خواہ کی حدود میں شامل ہے۔ پُل کراس کر کے دوسری جانب پہنچا تو دائیں جانب مڑ گیا جہاں بالکل ساتھ ہی میری بائیں جانب “اٹک خورد ریلوے اسٹیشن” تھا۔

ریلوے اسٹیشن کی حدود میں داخل ہوا تو نہایت خوب صورت مناظر دیکھنے کو ملے۔ ایک طرف کے پہاڑ سے ریل کی پٹڑی آ رہی ہے اور دوسری طرف پہاڑوں میں جا رہی ہے۔ اسٹیشن کی عمارت بھی خوب صورت ہے اور ساتھ ہی منسلک پہاڑ اور دریائے سندھ بھی اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ یہ تقریباً صبح دس بجے کا وقت تھا، ابھی تک یہاں شدید دھند تھی جس کی وجہ سے مناظر واضح نہیں تھے۔

میں نے دھند ختم ہونے کے انتظار میں اسٹیشن کی عمارت کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ عمارت خوب صورت طرز پر بنی ہوئی تھی اور یہاں پر بھی گولڑہ شریف جنکشن کی طرح ایک چھوٹا سا ریلوے میوزیم بنا ہوا تھا جس کا نظارہ بس باہر سے ہی شیشے کے ساتھ منہ چپکا کر کیا۔ وہاں موجود ریلوے کے عملے سے گپ شپ کی تو یہ سن کر افسوس ہوا کہ یہاں سے ٹرینیں گزرتی تو ہیں لیکن رُکتی کوئی نہیں۔ یعنی یہاں تک ریل پر آنے کا رستہ نہیں ہے۔ حال آں کہ اتنا خوب صورت ریلوے سٹیشن، جس کو سیاحتی مقام بنایا جائے تو یقیناً پاکستان اور دنیا بھر سے لوگ یہاں آئیں۔ اس کے باوجود معلوم نہیں کہ یہاں کسی ریل کا سٹاپ کیوں نہیں رکھا گیا؟

دھند ابھی تک پھیلی ہوئی تھی لہذا مزید وقت گزاری کے لیے میں نے دریا پہ جانے کا سوچا۔ اسٹیشن کے ساتھ سے نیچے کی طرف پگڈنڈی کی طرح مختلف رستے بنے ہوئے ہیں جن پر چلتے ہوئے با آسانی دریائے سندھ کے پانی تک پہنچا جا سکتا ہے۔ میں نے بھی ایک پگڈنڈی پر پائوں رکھا اور دریا کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ جس طویل پُل کو کراس کر کے میں یہاں تک پہنچا تھا، اب اس پُل کا نظارہ ہی مختلف تھا۔ دریا میں گڑے ہوئے اس کے موٹے موٹے ستون اور ساتھ ہی خوب صورت پہاڑ بہت دلکش منظر بنا رہے تھے۔

دریا کے دائیں بائیں کچھ عجیب سے ہی چھوٹے بڑے پتھر تھے، جنھیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے آتش فشاں سے لاوا نکل کر ٹھنڈا ہوگیا ہو، کچھ ایسی ہی صورتیں ان پتھروں کی بنی ہوئی تھی۔ ایک چٹان نما پتھر کو دیکھ کر تو ڈر ہی گیا کہ وہ بالکل مگرمچھ سے مشابہت رکھتا تھا۔ دریا کنارے کشتیاں بھی موجود تھیں اور کچھ لوگ یہاں مچھلیوں کا شکار بھی کر رہے تھے۔ میں کچھ دیر دریا کے پانی کے ساتھ کھیلتا رہا، سردی زیادہ تھی، لہذا کچھ احتیاط بھی کی اور پھر ساحلِ دریا پر موجود ریت سے محظوظ ہونے لگا۔

ہر طرف خوب صورت قدرتی مناظر، پرندوں کی چہچہاہٹ، ہلکی سی دھند اور ساتھ وہ طویل پُل، یہ سب مل کر ایک پُرسکون ماحول مہیا کر رہے تھے۔ میں نے بھی سر سے ٹوپی، جسم سے جیکٹ اور پائوں سے بوٹ اتار کر مکمل طور پہ فطرت سے لطف لینا شروع کر دیا۔ کیوں کہ اتنی صبح وہاں کوئی زیادہ لوگ نہیں تھے، صرف دو ہی لوگ تھے جو مچھلیوں کے شکار میں مصروف تھے۔

لہذا میں نے ساحل کی ریت پر ننگے پائوں چلنا شروع کر دیا، ساتھ ہی مور کی طرح رقص کیا، کچھ قلا بازیاں ماریں اور وہیں کچھ دیر لیٹ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ قدرتی مناظر بھی میری ان الٹی سیدھی حرکتوں سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ کچھ دیر سستانے کے بعد جب ذرا دھنڈ چھٹ گئی تو واپس اٹک خورد ریلوے اسٹیشن کی طرف چل پڑا۔

مناظر کافی حد تک واضح ہو چکے تھے۔ بالکل خواب کی سی کیفیت تھی۔ پہاڑ، اسٹیشن، دریا، درخت، ہلکی دھند اور اس سے جھانکتا سورج، سبحان اللہ۔ یہ سب میں جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس وقت جو ذہنی اور قلبی سکون ملا، وہ بیان سے باہر ہے۔ ساحلِ دریا کی طرح یہاں بھی فطرت اور قدرتی مناظر سے خوب لطف اندوز ہوا۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ کچھ دیر اور رہوں لیکن واپس بھی پہنچنا تھا، لہذا اسی طویل پُل سے گزر کر خیرآباد آگیا، جہاں گاڑی نے اتارا تھا۔

یہاں سے خیر آباد اڈّے تک رکشے کی فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر سفر کیا۔ اب پھر کچھ کچھ حسین مناظر مجھے اڈّے تک دکھائی دیتے رہے۔ وہیں سے اٹک شہر واپس آیا، کمیٹی چوک (بالمقابل ٹی ایم اے) پر کچھ کتب کی دکانوں پر چھان بین کی اور پھر اسلام آباد کے لیے گاڑی میں سوار ہو گیا۔ نہایت یادگار اور پُرلطف دورہ تھا۔ اللہ کرے ریلوے انتظامیہ “اٹک خورد ریلوے اسٹیشن” پر بھی کسی ریل کا سٹاپ بنائے تاکہ وہاں تک با آسانی پہنچا جا سکے۔