غزل 

عطاء راٹھور عطار

ہر ایک دکھ سے بڑا دکھ ہے روزگار کا دکھ 

یہ روز روز کا صدمہ، یہ بار بار کا دکھ

بچھڑ کے ایک سے پٹری پہ لیٹنے والو

ہمارےدل میں بھی جھانکو ہے تین چارکادکھ

قبا  جو  پھول  کی اتری تو سب فسردہ ہیں 

دکھائی کیوں نہیں دیتا  کسی کو خار کا دکھ 

شدید دکھ جو رگِ جان پر ہے ناخن زن 

دہکتی آگ میں جلتے ہوے چنار کا دکھ

وطن میں آگ مسلسل لگی ہے دونوں طرف 

ہمارے  دل  میں  سلگتا  ہے آر پار کا دکھ 

یہ چاروں سمت سے پتھر جو آ رہے ہیں میاں

ہمارا دکھ ہے کہ ہے نخلِ بار دار کا دکھ